ٹرمپ کا آمرانہ طرز حکمرانی جاری‘ جان بولٹن بھی فارغ

43
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صحافیوں سے گفتگو کررہے ہیں‘ عقب میں سابق مشیر قومی سلامتی موجود ہیں (فائل فوٹو)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صحافیوں سے گفتگو کررہے ہیں‘ عقب میں سابق مشیر قومی سلامتی موجود ہیں (فائل فوٹو)

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آمرانہ طرز حکمرانی جاری ہے، جس پر چلتے ہوئے وہ اب تک اپنے کئی ساتھیوں کو برطرف کر چکے ہیں اور کئی خود ان سے اختلافات کی وجہ سے چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کی کئی تجاویز اور مشوروں سے بالکل متفق نہیں تھے۔ میں نے انہیں بتا دیا کہ وائٹ ہاؤس کو ان کی خدمات کی مزید ضرورت نہیں اور انتظامیہ کے دیگر اہلکاروں کی طرح مجھے بھی ان کی زیادہ تر تجاویز سے شدید اختلاف تھا۔ واضح رہے کہ جان بولٹن 2018ء سے اس عہدے پر فائز تھے اور ان کا شمار قدامت پسند سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔ دوسری جانب بولٹن نے واقعے سے متعلق ٹرمپ کے بیان سے برعکس بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے پیر کی شب خود ہی استعفا دینے کی پیشکش کی تھی، جس کے جواب میں ٹرمپ نے انہیں کہا تھا، کہ اس حوالے سے کل بات کریں گے۔ اُدھر ایرانی حکومت کی جانب سے جان بولٹن کی رخصتی کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ تہران حکومت کے ترجمان علی ربیعی نے ٹویٹ میں کہا کہ جان بولٹن نے کئی ماہ قبل یقین دلایا تھا کہ ایران تین مہینوں سے زیادہ موجود نہیں رہے گا۔ ہم یہیں کھڑے ہیں اور وہ نہیں۔ یاد رہے کہ جان بولٹن آرمی کے جنرل ایچ آر مک ماسٹر کے بعد قومی سلامتی کے مشیر بنے تھے اور وہ ٹرمپ کے دور حکومت میں اس عہدے پر فائز ہونے والی تیسری شخصیت تھے۔