شام میں امریکا تعاون نہیں کررہا‘ دھوکے بازی نہیں چلے گی‘ ترکی

55

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ہم انسداد ِ دہشت گردی کی کوششوں میں امریکا کے تعاون کی امید رکھتے ہیں۔ ادھر ترک وزارت خارجہ کے مطابق امریکا وعدے کے مطابق شام کے شمال میں محفوظ علاقے کے قیام میں دلچسپی نہیں لے رہا۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی فوج نے وہاں مشترکہ گشت تو کیے لیکن معاملات اس سے آگے نہیں بڑھے۔ ترکی نے امریکا کو خبردار کیا کہ محفوظ علاقے کا قیام عمل میں نہ لایا گیا تو دوبارہ عسکری کارروائیوں کا آغاز ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے منبج کی طرح دھوکے بازی اور ہیرا پھیری اب نہیں چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم فرات کے مشرقی حصے کے حالات پر نگاہ رکھیں گے۔ ادلب کے حالات پر بھی ہماری گہری نظر ہے۔ واضح رہے کہ ترکی شمالی شام میں کرد ملیشیا وائے پی جی کے زیرانتظام علاقے میں فوجی کارروائی کرنا چاہتا ہے۔ کرد ملیشیا کو شام میں داعش کے خلاف معاونت کے باعث واشنگٹن کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ شمالی شام میں محفوظ علاقے کے قیام میں ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔ واضح رہے کہ امریکا اور ترکی کے مابین تعلقات میں شامی تنازع کے علاوہ روس سے جدید ایس 400 دفاعی نظام کے حصول اور امریکا کی جانب سے ایف 35 طیاروں کی فراہمی سے انکار کے باعث کشیدگی موجود ہے۔