سانحہ بلدیہ فیکٹری، مجرم آزاد ہیں

100

کراچی کی بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آگ لگنے سے 258 سے زاید بے گناہ افرد کے جاں بحق ہونے کے واقعے کو بجا طور پر کراچی کا نائن الیون قرار دیا جاسکتا ہے ۔ یہ واقعہ کسی اور ملک میں ہوا ہوتا تو وفاق سے لے کر ضلعی انتظامیہ تک مستعفی ہوچکی ہوتی ، پولیس کے محکمے کے کئی ذمہ داران جیل میں ہوتے مگر یہ سب کچھ صرف پاکستان میں ہی ممکن ہے کہ اس کے ذمہ داران مزے کررہے ہیں اور مقتولوں کے ورثاء انصاف کے لیے دربدر پھر رہے ہیں ۔ انصاف کے حصول کی کوشش کے دوران میں اکثر انہیںپولیس کے لاٹھی چارج کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس واقعے کو گزرے سات برس ہوچکے ہیں مگر ابھی تک نہ تو مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا ہے اور نہ ہی مقتولوں کے ورثاء کو ابھی تک کوئی امدادی رقم دی گئی ہے ۔ بلدیہ ٹاؤن میں جلائی جانے والی فیکٹری کے جرمنی میں جس ادارے کے برآمدی آرڈر تھے ، اس ادارے نے عرصہ ہوا ، خوں بہا کی رقم بھیج دی تھی مگر پاکستانی حکام اس رقم کوبھی ورثاء کو دینے کو تیار نہیں ہیں ۔ وہ اسے مال مفت سمجھ کر دبائے بیٹھے ہیں اور روز ایک نیا بہانہ کردیتے ہیں ۔ فوج کے زیر انتظام ادارے رینجرز نے 2015 میں عدالت میں رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ اس اندوہناک واقعے کی ذمہ دار متحدہ قومی موومنٹ ہے ۔ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت سندھ کے مشیر داخلہ متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے وسیم اختر تھے جو آج کل کراچی کے میئر کے منصب پرفائز ہیںاور رئوف صدیقی وزیر صنعت تھے۔ انتہائی پراسرار اندازمیں فیکٹری کی آگ بجھانے والی گاڑیاں تاخیر سے پہنچیں اور جب پہنچیں تو ان کے پاس اسنارکل سمیت دیگر ضروری آلات موجود نہیں تھے ۔ ہوناتو یہ چاہیے تھا کہ رینجرز کی مذکورہ رپورٹ کے بعد اس خوفناک ترین واقعے کی ذمے دار پارٹی متحدہ قومی موومنٹ کو فوری طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاتا اور اس کے خلا ف نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں گھیرا تنگ کردیا جاتا ۔ متحدہ قومی موومنٹ کے جنوبی افریقا سے لے کر لندن تک پھیلے ہوئے مجرمانہ نیٹ ورک کے تاروپود بکھیر دیے جاتے اور اس کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ۔ مگر ایسا اس واقعے کو سات برس گزرنے کے بعد بھی نہیں ہوسکا ہے ۔ اس عرصے میں یہ ضرور ہوا ہے کہ مجرموں کے خلاف شہادتیں ضائع کی جارہی ہیں تاکہ مجرموں اور ان کے سرپرستوں کو شک کا فائدہ دیا جاسکے ۔ ورثاء کو تھکا کر خاموش بٹھانے کی پالیسی پر بھی کامیابی سے عمل جاری ہے ۔ مجرموں کی پارٹی متحدہ قومی موومنٹ کے بارے میں بھی رائے تبدیل کرلی گئی ہے اور سلیکٹڈ وزیراعظم عمران نیازی کو اب یہ پارٹی نفیس لوگوں کی پارٹی نظر آنے لگی ہے ۔ پاکستان ایک ایسی ریاست میں تبدیل ہوچکا ہے جہاں پر انصاف کا خون کرنے والے وہی لوگ ہیں جو انصاف کی فراہمی کے ذمے دار ہیں ۔ ایم کیو ایم کبھی بھی سیاسی پارٹی نہیں رہی ۔ البتہ اس نے کیموفلاج کے لیے ضرور سیاسی نقاب پہنا ہے مگر ا س کا مقصد صرف اور صرف ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے مجرموں کو سیاسی پشت پناہی فراہم کرنا رہا ہے ۔ فوج کے ایک ادارے رینجرز کی جانب سے رپورٹ تیار کرنے اور اس کے ایک میجر کی جانب سے یہ رپورٹ عدالت عالیہ سندھ میں جمع کروانے کے بعد اب مزید کون سے ثبوت کی ضرورت رہ جاتی ہے جس کے بعدعمران نیازی اور انہیں وزیر اعظم سلیکٹ کرنے والے ایم کیو ایم کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھائیں ۔کچھ یہی صورتحال پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی رہی ہے کہ وہ محض سندھ میں حکومت سازی کے لیے نہ صرف مجرموں کے ساتھ اتحاد تشکیل دیتی رہی ہیں بلکہ انہیں عوام کو قتل کرنے ، بھتہ لینے اور اغوا کرکے تاوان وصول کرنے کا لائسنس بھی دیتی ہیں ۔ کراچی میں چائنا کٹنگ کی ذمہ دار صرف ایم کیو ایم نہیں ہے بلکہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن بھی ہے جس نے ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی کے پارک ، گرین بیلٹ اور رفاہی پلاٹوں پر پلازے بنانے کی اجازت دی ۔ کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی بڑی وجہ بھی مجرموں کی پشت پناہی ہی رہی ہے ۔ آج سے سات برس قبل بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں زندہ جلائے جانے والے 300 کے قریب افراد کے ورثاء انصاف کے حصول کے لیے جہاں کھڑے تھے ، آج بھی وہیں کھڑے ہیں ۔ کوئی عدالت ، کوئی ایجنسی اور کوئی حکومت انہیں انصاف نہیں دلاسکی ۔ شنید ہے کہ جلد ہی سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت کا دھڑن تختہ کیا جانے والا ہے ۔ اس کے لیے موجودہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو نیب کی جانب سے گرفتار کرنے کی اجازت دینے کی بھی اطلاعات ہیں ۔اس صورت میں سندھ میں حزب اختلاف کی حکومت کے قیام کے لیے ایک مرتبہ پھر بلدیہ ٹاؤن میں 300 کے قریب افراد کو زندہ جلانے والی پارٹی متحدہ قومی موومنٹ کو نہ صرف وزارتیں طشتری میں رکھ کر پیش کی جائیںگی بلکہ ان کے منہ فنڈز سے بھی بھر دیے جائیں گے ۔ متحدہ قومی موومنٹ کی صوبائی حکومت میں شمولیت کے بعد خدشات ہیں کہ کراچی دوبارہ سے اسٹریٹ کرائم کرنے والوں اوربھتہ خوروں کے چنگل میں چلا جائے گا ۔ بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں سیکڑوں افراد کو زندہ جلانے کے تمام تر ثبوتوں کے باوجود انصاف کی عدم فراہمی اور اس کے ذمہ داروں پر نوازشات کی برسات یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ مدینہ کی ریاست میں بھی عوام انصاف کی امید نہ رکھیں ۔جنہوں نے عمران نیازی کو سلیکٹ کیا ، وہ بھی رینجرز کی رپورٹ پر کارروائی کے لیے تیار نہیں ہیں ، اس کا مطلب یہی ہے کہ پاکستان میں سگ آزاد ہیں اور سنگ و خشت مقید ۔