نائن الیون کے مضمرات

94

امریکا میں نائن الیون کے حادثے کی بدھ کو اٹھارویں برسی منائی گئی ۔ یوں تو نائن الیون (11 ستمبر) کا واقعہ نیویارک میں پیش آیا مگر اس کے مضمرات آج تک پوری دنیا بھگت رہی ہے ۔ نائن الیون کے بعد سے امریکا نے جو دنیا کا امن تباہ کیا ہے ، اس میں اٹھارہ برس گزرنے کے بعد بھی کوئی کمی واقعی نہیں ہوئی ہے بلکہ اس جنگ کے پھیلاؤ میں روز اضافہ ہی ہورہا ہے ۔ نائن الیون کس نے کیا اور ان کے کیا مقاصد تھے ، امریکی حکام کی الزام تراشی ایک طرف مگر اس پر جو تحقیقی رپورٹیں سامنے آئی ہیں وہ یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ یہ کسی اور کے بجائے خود امریکی اداروں کی کارروائی تھی جس کی آڑ میں وہ دنیا پر فوج کشی کا اجازت نامہ چاہتے تھے اور اس میں وہ کامیاب رہے ۔ نائن الیون کے بعد سے جس طرح سے امریکا نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی فضا پیدا کی اور ان پر دنیا تنگ کردی ، وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ امریکا کی بوگس الزام تراشیوں کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گوانتاناموبے کے بدنام زمانہ قید خانے میں مقید افراد میں سے ایک کو بھی عدالت سے سزا نہیں ہوسکی۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان افراد کے خلاف جو الزامات عاید کیے گئے، ان کے ثبوت ہی موجود نہیں ہیں ۔ پاکستان سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اغو ا کرنے اور انہیں افغانستان پہنچانے اور پھر انہیں امریکا میں مقدمہ چلانے کا دورانیہ کئی برس پر محیط ہے مگر اس کے باوجود امریکی حکام ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں ایک بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے اور ایک کمزور نہتی خاتون کو امریکی تربیت یافتہ کمانڈوز سے اس کی رائفل چھین کر اس پر حملہ کرنے کے احمقانہ الزام میں 86 برس کی سزا سنائی گئی ۔ اب بھی وقت نہیں گزرا ہے ۔ دنیا کو خصوصی طور پر مسلم دنیا کو اپنا ایک تحقیقی مشن تشکیل دینا چاہیے اور مسلمانوںکے خلاف صلیبی جنگ شروع کرنے پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ لے جانا چاہیے ۔ نائن الیون کی آڑ میں جس طرح سے امریکا اور اس کے اتحادیوں نے دنیا بھر میں مسلمانوں کی نسل کشی کی ہے ، اسے بجا طور پر ہولوکاسٹ قرار دیا جانا چاہیے ۔ اس کے بارے میں امریکی پروپیگنڈا کے مقابلے میں پوری دنیا کو حقائق سے آگاہ کیا جائے اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ نہ صرف مسلمانوں کے قتل عام پر دنیا سے معافی مانگیں بلکہ اس کی تلافی بھی کریں ۔