کشمیر بزور شمشیر

104

عنایت علی خان

شیکم اگست کو اتفاقاً عیسویں تقویم کی طرح اسلامی تقویم یعنی ہجری کا بھی پہلا ہی سال تھا۔ جماعت اسلامی کی جانب سے ایک واقعی عظیم الشان ریلی کا انعقاد عمل میں آیا۔ ضعیف العمری اور نقاہت کے باوجود شرکت کی خواہش دل میں مچل رہی تھی لیکن جن صاحب کی کار میں جانے کا پروگرام بنا رہا تھا وہ اتفاق سے حیدر آباد گئے ہوئے تھے۔ چناں چہ معاملہ… ’’میرا حصہ دور کا جلوہ‘‘ رہا۔ یعنی ٹی وی پر محترم امیر جماعت کی پر عزیمت تقریر سننے اور دوسرے روز جسارت میں تقریب کی روداد پڑھ کر ایمان تازہ ہوا۔ خاص طور پر یہ پڑھ کر کہ شہ نشین (اسٹیج) پر یہ تحریر تھا ’’کشمیر بزور شمشیر‘‘۔ اور امیر جماعت نے شرکا سے حقیقی معنیٰ میں آخری حد تک (نہ کہ حکومت کے ڈھولچیوں کی طرح) جانے کا وعدہ لیا۔ ٹی وی پر نوجوانوں کے جس جذبے کی ایک آدھ جھلک دیکھنے کو ملی وہ تو علامہ اقبال مرحوم کے اس مصرع کی عملی تفسیر نظر آرہی تھی کہ ’’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی‘‘۔
اس کے برعکس صاحبان اقتدار کے دم دلاسوں کی حقیقت کہ فلاں سے فون پر رابطہ ہوگیا اور فلاں نے کشمیریوں کی حمایت میں بیان دے دیا‘ سے تو صاحبان نظر کیا ایک عام ناخواندہ شخص بھی واقف ہوگیا ہے جیسا کہ ایک ہفتے قبل میں جس ٹیکسی میں، جمعیت الفلاح کے ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے عنوان سے منعقدہ مشاعرے سے واپس آرہا تھا۔ اُس ڈرائیور کے الفاظ تھے یہ تو برابر ’’چپیڑ‘‘ کھاتے رہیں گے اور کہتے رہیں گے اِبکے مار کے دیکھ‘‘۔ اچھا کیا کہ عمران نیازی نے اپنا رُخ مدینے سے واشنگٹن کی جانب موڑ لیا ورنہ اگر اب مدینے کا نام لیتا تو لوگ یاد نہ دلادیتے کہ مدینے والے تو دشمن کے لائو لشکر کے مقابلے میں اپنی بے سروسامانی کی حالت میں محض دین کی سربلندی کے لیے میدان بدر میں جا پہنچے تھے۔ تم دنیا کی بہترین فوج کے سربراہ اور ایٹمی قوت ہوتے ہوئے دنیا کے کھوکھلے بیانات کا حوالہ دے کر پاکستانی عوام کو طفل تسلیاں دے رہے ہو اور مظلوم کشمیری مسلمان شکوہ کناں ہیں کہ:
زمانے سے شکایت کیا زمانہ کس کی سنتا ہے
مگر تم نے تو آواز زبوں پہچان لی ہوتی
(قابل اجمیری)
(یہاں ضرورتاً ’’جنوں‘‘ کو ’’زبوں‘‘ لکھا گیا ہے)۔
ابھی جو کشمیر بزور شمشیر کا ذکر آیا تو شمشیر کے حوالے سے ایک تاریخی واقعہ ذہن میں تازہ ہوگیا۔ عباسی خلیفہ مُعتصم بامراللہ کے دور حکومت میں سرحد کی ایک عموریہ نامی عیسائی ریاست کی رہائشی ایک بوڑھی عورت پر کسی نے کچھ زیادتی کی تو اس نے کہا آج میں مسلمان ریاست میں ہوتی تو کسی کی ہمت نہ ہوتی کہ مجھ پر زیادتی کرے۔ خلیفہ تک اس بوڑھی خاتون کی یہ بات پہنچی تو اس نے فوج کو عموریہ پر چڑھائی کا حکم صادر کردیا۔ درباری نجومی نے فال نکال کر کہا ’’امیر المومنین نجوم کے حساب سے یہ وقت جنگ کے لیے مناسب نہیں‘‘۔ خلیفہ نے جواب دیا ایک مسلمان عورت کی فریاد مجھ تک پہنچی ہے میں اس کی داد رسی کو نہ پہنچوں تو خدا کو کیا جواب دوں گا؟۔
عموریہ کے عیسائی بادشاہ کو عباسی لشکر کی تیاری کا جاسوسوں کے ذریعے علم ہوا اور یہ بھی کہ اس تیاری کی وجہ کیا ہے تو اس نے فوراً اس بوڑھی عورت کو تلاش کرایا اور اس کی شکایت کا ازالہ کرکے خلیفہ کو پیغام بھجوایا کہ بوڑھی خاتون کی شکایت کا ازالہ کردیا گیا جس کا قبل ازیں مجھے علم نہیں تھا۔ اُس پر عباسی خلیفہ کا یادگار تبصرہ تھا کہ تلوار نجومی سے زیادہ سچ بولتی ہے‘‘۔ اور سراندیپ (موجودہ لنکا) سے بحری راستے راجا داہر کی قزاقی کا شکار ہونے والی مسلمان لڑکی پکار اٹھی یا حجاج مدد۔ اس کے نتیجے میں سندھ کا دارالاسلام بن جانا بھی اسی تلوار کا کرشمہ تھا۔ مولانا مودودی مرحوم و مغفور کی معرکہ آرا تفسیر تفہیم القرآن میں موصوف کا مخصوص انداز جذبات انگیز کرنے کے بجائے عقلی استدلال سے اذہان کو مطمئن کرنے کا ہے۔ اس لیے موصوف نے اپنی تحاریر میں اشعار سے شاذونادر ہی کام لیا ہے لیکن معدودے چند اشعار جو تفہیم میں برمحل استعمال کیے ہیں اُن میں ایک شعر نصرتِ حق کے لیے دلیل قاطع ہے وہ یہ ہے
رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم
عصانہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد
اگر باری تعالیٰ کو فروغ دین کے لیے قوت کی علامت ’’عصا‘‘ کی توثیق مطلوب نہ ہوتی تو کیا سیدنا موسیٰؑ کی انگشتِ مبارک کی معجز نمائی کافی نہ تھی۔ یہی بات سیدنا عمرؓ کے ایک قول سے بھی ثابت ہوتی ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا ’’القرآنُ والسلطانُ تواَمان‘‘۔ قرآن اور اقتدار دونوں جڑواں وجود ہیں۔ قرآن سے اقتدار چھین لو تو وہ جنتر منتر کی طرح تعویز گنڈوں کے مصرف کا رہ جائے گا اور اقتدار قرآن سے محروم ہوجائے تو رعونت و فرعونیت کا عفریت بن جائے گا۔ یا مقتدر مجبور و مقہور بے کس و مجبور۔
عمران نیازی نے گزشتہ دنوں رواروی میں جس جرأت و عزیمت کے پیکر ٹیپو سلطان کا نام لیا اسے علامہ اقبال نے اسلام کا ’’ترکش مار اخدنگ آخریں‘‘ میرے یعنی مسلمانان برعظیم کے ترکش کا آخری تیر کہا ہے۔ اگر اس رجل عظیم سے منسوب جو دعا علامہؒ نے کہی ہے عمران نیازی اُسی کا مطالعہ کرلیں تو ٹیپو کی فکر کا کوئی پرتو اُن کے عمل سے ہویدا ہوجائے۔ دعا یہ ہے۔
کیا تُو نے صحرا نشینوں کو یکتا
خبر میں نظر میں اذانِ سحر میں
طلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کو
وہ سوز اس نے پایا انہی کے جگر میں
کشادِ در دل سمجھتے ہیں اس کو
ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں
دل مرد مومن میں پھر زندہ کردے وہ
وہ بجلی کہ تھی نعرۂ لاتذر میں
عزائم کو سینوں میں بیدار کردے
نگاہِ مسلماں کو تلوار کردے
دونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
نظم کا آخری شعر ہے
عزائم کو سینوں میں بیدار کردے
نگاہِ مسلماں کو تلوار کردے
(جاری ہے)