گولی

155

اپنے فن میں ماہر ایک نائی کے پاس چودھری صاحب شیو بنوانے گئے اور بولے ’’میرے گالوں میں گڑھے ہیں۔ اس وجہ سے شیو ٹھیک نہیں بنتی۔ بال چھوٹ جاتے ہیں‘‘۔ نائی نے دراز سے لکڑی کی گولی نکالی اور چودھری صاحب سے کہا اسے گال کے اندر دبا لیں۔ چودھری صاحب نے ایسا ہی کیا۔ ایک طرف کی شیو کرنے کے بعد نائی کے کہنے پر چودھری صاحب نے گولی دوسری طرف رکھ لی۔ شیو کروانے کے بعد چودھری صاحب نے گالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ’’شیو تو تم نے اچھی بنائی ہے لیکن ایک بات بتا ئو اگر گولی پیٹ میں چلی جاتی تو؟‘‘ نائی نے بڑے سکون سے جواب دیا ’’چودھری صاب کوئی گل نئیں، کل آکر واپس کردیتے جیسے دوسرے لوگ واپس کردیتے ہیں‘‘۔ چودھری صاحب کو تب سے الٹیاں لگی ہوئی ہیں۔ پاکستان کے بحران کی بنیادی وجہ بھی دوسروں کی استعمال شدہ گولیاں ہیں جن کی وجہ سے پورے ملک کو الٹیاں لگی ہوئی ہیں۔ 2018ء کے انتخابات میں بھرے گالوں والے عوام کو یہ گولی زبردستی نگلنے پر مجبور کیا گیا۔ اس کا نتیجہ بائیس کروڑ عوام کے غدودان معدہ ہی نہیں پورا ملک افراتفری کا شکار ہے۔ پورا نظام بیت الخلا میں بیٹھا ہے جہاں سے آنے والے شور سے اندازہ ہورہا ہے کہ کچھ اچھا نہیں ہورہا ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی ڈکیتی پلان کی گئی۔ وزیراعظم کی منظوری سے آرڈی ننس جاری کیا گیا۔ پھر خبر جاری کروائی جاتی ہے کہ ’’اس آرڈی ننس کے بارے میں مجھے ٹی وی سے پتا چلا‘‘۔ کیا دنیا کاکوئی ذمے دارعہدیدار اس مشکوک کردار کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔ صدر مملکت کو کنارے لگاتے ہوئے آرڈی ننس واپس لے لیا گیا۔ جس کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں۔ صدارتی آرڈی ننس جاری ہوجائے تو وزیراعظم اسے واپس نہیں لے سکتا۔ یہیں تک لکھ سکے تھے کہ ہمزاد نے مداخلت کی اور بولا ’’فوجی حکومتوں میں آئین کی پروا کون کرتا ہے‘‘۔
آج کل ذاکرین کا زور ہے۔ ذاکر معاشیات حفیظ شیخ نے پچھلے دنوں فرمایا ’’پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ مالیاتی خسارہ 52فی صد بڑھ گیا ہے اور بے حساب ٹیکس لگا دینے کے باوجود ٹیکس محصولات میں 6فی صد کی ناقابل فہم کمی ہوئی ہے۔ ترقیاتی اخراجات پر کٹ لگانے کے باوجود یہ چھ فی صدکمی ہے ورنہ اس سے زیادہ ہوتی‘‘۔ انہوں نے مزید فرمایا ’’میرے حساب میں یہ خسارہ چالیس بر س کا ریکارڈ خسارہ ہے‘‘۔ معیشت کے ایک اور نوحہ خوان گورنر اسٹیٹ بینک فرماتے ہیں ’’ہمارے پاس مسائل کا حل ہے نہ مہنگائی کنٹرول کرسکتے ہیں‘‘۔ اس وقت معیشت کشش ثقل سے بے نیاز جن ہوائوں میں اڑ رہی ہے وہاں اس پر کسی کا بس نہیں۔ حکومت کے اپنے اعداد وشمار کے مطابق مہنگائی پاکستان کی تاریخ کی بلندترین سطح پر ہے۔ عوام اور کاروباری برادری کا اضطراب جنون کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ کاروبار کرنا مشکل سے مشکل تر بنا دیا گیا ہے۔ تاجر دیوالیہ ہورہے ہیں۔ کارخانے اور فیکٹریاں بند ہورہی ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں 36فی صد کمی آچکی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار اپنا سرمایہ واپس لے جانے میں غیر معمولی سر گرمی دکھا رہے ہیں۔ پالیسیوں میں عدم تسلسل، جلد بازی اور بے یقینی کا سرمایہ کاری پر برا اثر پڑا ہے۔ جولائی اور اگست میں ٹیکس شارٹ فال 64ارب روپے ہے جسے منی بجٹ کے بغیر پورا کرنا مشکل ہے۔ مجموعی ملکی پیداوار میں 50بلین ڈالر (7837500000000 روپے) کی کمی ہوئی ہے۔ اتنی ہی کمی اسٹاک مارکیٹ میں ہوئی۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ روپے کی قدر میں کمی کرکے بین الاقوامی قرضوں میں 40فی صد اضافہ کردیا گیا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں جتنے اندرونی قرضے لیے گئے عمران احمد خان نیازی کی حکومت میں محض ایک برس میں اس کے نصف سے بھی زیادہ قرضے لیے گئے ہیں۔ آئی ایم ایف سے جو شرائط طے کی گئیں تھیں ایک سال کے نتائج اس سے 1500 ارب روپے کم ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ قرض کی قسط دینے کے محض دو مہینے بعد ہی آئی ایم ایف ایک خصوصی مشن پاکستان روانہ کررہی ہے تاکہ حکومت کو حالات کی سنگینی کی وارننگ دی جاسکے۔
ایک سال میں حکومت نے کوئی نیا پروجیکٹ شروع کیا ہے اور نہ اس کے امکان ہیں۔ نئی نوکریاں تو کجا جو نوکریوں پر ہیں ان کی نوکریاں خطرے میں ہیں کہ نہ جانے کب جواب مل جائے۔ مکانات کی تعمیر کے لیے کروڑوں روپے کے فارمز فروخت کردیے گئے ہیں لیکن کسی کو ایک چھت بھی میسر نہ آسکی۔ بجلی، گیس کے نرخوں میں اضافے سے حکومت کھربوں روپے وصول کرچکی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے لوگوں کی جیبوں سے اربوں روپے نکال لیے گئے۔ جی ایس ٹی ساڑھے سترہ فی صد کرکے اربوں کھربوں کا ڈاکا ڈالا جارہا ہے۔ ترقیاتی کام بند کرکے بھی اربوں روپے بچائے گئے ہوںگے لیکن اس کے باوجود خسارہ 52فی صد۔ آخر یہ روپیہ جا کہاں رہا ہے۔
یہ یک سالہ کارکردگی اس حکومت کی ہے جو بائیس سال سے بشرط اقتدار معیشت کی درستی کے دعوے کرتی رہی ہے۔ خود کشی کو قرضوں پر ترجیح دیتی تھی۔ معیشت کو قرضوں سے نجات دلانا جس کا اہم ترین ہدف تھا۔ جس کا دعویٰ تھا کہ اس کے پاس معاشی ماہرین کی ایک ٹیم ہے۔ اسد عمر کو ایک معاشی نابغہ کے بطور پیش کیا جاتا تھا لیکن اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد انہیں برطرف کرکے معیشت ان معاشی دہشت گردوں کے سپرد کردی جن کی دی گئی گولیوں کے بعد کسی ملک کا نظام درست نہ رہا۔ سب کو الٹیاں لگی ہوئی ہیں۔ جو اس نظام کے سفیر ہیں، اس نظام کے فروغ کے ذمے دار ہیں، جو کسی بھی ملک کو اس کی مرضی کی پالیسی بنانے نہیں دیتا۔ اس برس حکومت معاشی ترقی کی شرح چار فی صد رکھنا چاہتی تھی لیکن ان معاشی غارت گروں نے حکم دیا کہ نہیں شرح ترقی 2.5فی صد ہوگی بلکہ اس سے بھی کم۔ حکومت نے معیشت کو ان عالمی سود خوروں کے پاس گروی رکھ دیا جو جسم سے آخری قطرہ خون تک نچوڑنے پر عمل کرتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم کو اس صورتحال کی کچھ خبر نہیں۔ وہ ہر وقت ایک عالم کیف میں رہتے ہیں کبھی بیگم انہیں بتاتی ہیں کہ آپ وزیراعظم ہیں، کبھی انہیں ٹی وی دیکھ کر اس آرڈی ننس کا پتا چلتا ہے جس پر انہوں نے خود دستخط کرکے صدر کے پاس بھیجا تھا۔ پچھلے دنوں مالیاتی کمیٹی کے ایک اجلاس میں اسد عمر نے انہیں بتایا کہ آئی ایم ایف سے طے کردہ اہداف پورے نہیں ہورہے ہیں۔ وزیراعظم کو ان کی ناک کے نیچے ہونے والے معاملات سے باخبر رکھنے کے لیے بھی ٹہوکے دینے پڑتے ہیں۔
جمہوریت بھی برطانیہ، فرانس اور امریکا کی خارج کردہ گولی ہے جس کے استعمال سے دنیا کو الٹیاں لگی ہوئی ہیں۔ یہ نظام دنیا بھر میں اچھی حکومتیں دینے میں ناکام رہا ہے۔ اس نظام کے خلاف ایک طرف فرانس کے عوام برسر احتجاج ہیں تو دوسری طرف دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت بھارت کے عوام بد ترین غربت میں مبتلا ہیں۔ امریکا جیسی دنیا کی سب سے بڑی معاشی قوت کا بجٹ خسارے کا بجٹ ہے جس کا بیش تر حصہ قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہوجاتا ہے۔ جمہوریت ایک تباہ کن تعصب کی صورت اختیار کرگئی ہے جس کے خلاف بات کرنا بھی گویا اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ سرمایہ داریت اور جمہوریت انسانوں کی اس کائنات کو تباہ وبرباد کرنے کے درپے ہیں۔ ناانصافی کے شکار لوگوں کو حکم ہے کہ جمہوریت کے متعلق سوال کریں اور نہ اس کے سامنے سر اٹھانے کی جرات کریں۔ یہ ایک ایسا بھوت ہے جس نے اسے پناہ دی یہ اس کو کھا گیا۔
مسلمانوں کے پاس اپنی ایک شناخت ہے اپنا ایک نظام ہے جس کی سچائی پر صدیاں گواہ ہیں۔ صورتحال ایسی بنادی گئی ہے کہ لوگ کھلے بندوں اس نظام کی، خلافت کی، بات کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔ اسلام کو جمہوریت کے ساتھ اس طرح گڈ مڈکردیا گیا ہے کہ جمہوریت نظام حیات اور اسلام صرف عبادات تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ یاد رکھیے ’’جہاں اسلامی نظام نہیں ہے وہاں پہلا فرض یہ ہے کہ تن من دھن اس نظام کو لانے پر لگا دینا ہوگا۔ اقامت دین کی جدوجہد کرنا ہوگی اگر یہ نہیں کرتے تو نماز نماز نہیں ہے اسے منہ پر دے مارا جائے گا۔ روزہ روزہ نہیں ہے اسے منہ پر دے مارا جائے گا۔ میں جو کہہ رہا ہوں علی وجہہ البصیرت کہہ رہا ہوں۔ میری پوری زندگی کے مطالعے کا نچوڑ یہی ہے‘‘۔ یہ ڈاکٹر اسرار علیہ الرحمہ کافر مودہ ہے۔