بھارتی خلائی مشن کی ناکامی

86

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھارت کے چاند مشن کی ناکامی پر کہا ہے کہ چندریان سے رابطہ ختم ہونے سے بھارت کا 900ارب کا نقصان ہوا لیکن مقبوضہ کشمیر میں رابطے منقطع کرنے سے اس کا اس سے بھی زیادہ نقصان ہو گا اور یہ نقصان صرف مالی نہیں ہو گا۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز بھارتی ماہرین چاند کی سطح پر لینڈنگ کی کوشش کرنے والے روبوٹک خلائی جہاز وکرم سے رابطہ کھو بیٹھے تھے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق چاند پر پہنچنے کا منصوبہ بالکل درست سمت کی جانب جا رہا تھا کہ عین لینڈنگ کے وقت اور چاند کی سطح سے محض 2 کلو میٹر کی دوری پر خلائی جہاز کا کنٹرول پینل سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔ چاند پر لینڈنگ کا منظر دیکھنے کے لیے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی اسپیس ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر میں موجود تھے، جب انہیں بتایا گیا کہ خلائی راکٹ سے سگنل منقطع ہوگیا ہے تو چاند مشن ناکام ہونے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مایوسی میں وہاں سے اُٹھ کر چلے گئے۔
بھارت کو اپنے خلائی مشن کی ناکامی پر مایوسی کے ساتھ ساتھ دنیا کے سامنے شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ مشن چندریان کی ناکامی کا الزام اب بھارت کس کو دے گا؟ کیا ناکامی کی وجہ مقبوضہ کشمیر کے معصوم عوام ہیں؟ انہوں نے بھارتی خلائی مشن کی ناکامی پر کہا ہے کہ کیا چندریان مشن کی ناکامی کے پیچھے مسلمانوں یا کسی اور اقلیت کا ہاتھ ہے؟ کیا بھارتی سٹیلائٹ کی درست سمت میں لینڈنگ نہ کرنے کی ذمے دار آئی ایس آئی ہے؟ کیا ہندوتوا کے خلاف بلند آوازوں نے مشن چندریان کو چکنا چور کردیا؟ چاند کو اکیلا چھوڑ دیں، ہندوتوا آپ کو کہیں بھی نہیں لے کر جا سکتی، مشن چندریان کی ناکامی کا الزام اب بھارت کس کودے گا؟
دوسری جانب وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے بھارت کے چندریان مشن کی ناکامی پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت صرف بالی وڈ فلموں کے ذریعے ہی چاند پرجانے کی ڈرامے بازی کرسکتا ہے اس کے سوا اس کے پاس چاند پر قدم رکھنے کا کوئی اور شارٹ کٹ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزید 100کروڑ خرچ کریں اور آپ چاند پر پہنچ جائیں گے، شدت پسند ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں، اسی لیے آپ ناکام ہوئے ہیں۔ فواد چودھری نے اپنے ٹویٹر پیغام میں بھارت کے خلائی مشن کی ناکامی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے سائنس کے بجائے جوتشیوں اور پنڈتوں کا سہارا لیا اور ان کے کہنے پر مشن میں تاخیر کی، دوسرے مذاہب اور قوموں کی نفرت سے باہر نکل آئیں تو شاید پھر بات بن جائے گی۔ گزشتہ روز انہوں نے چندریان کی ناکامی پر کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا ایک اور چندریان ثابت ہوگا جس کی قیمت کئی گنا زیادہ ہوگی۔
واضح رہے کہ اطلاعات کے مطابق بھارت کے چندریان ٹو مشن کی ناکامی سے بھارت کو 900 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ اس حوالے سے بھارتی خلائی مشن کے ڈائریکٹر کے سیوان نے کہا ہے کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا کہ اچانک خلائی جہاز کا رُخ تبدیل ہوگیا۔ اب تک جو ڈیٹا حاصل ہوا اس کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ امریکا، روس اور چین کے خلائی مشن چاند پرکامیاب لینڈنگ کرچکے ہیں جب کہ بھارت اس دوڑ میں شامل ہوکر چاند پرکامیان خلائی مشن بھیج کر دنیا کا چوتھا ملک بننے کے چکر میں تھا لیکن اس کی یہ آس گزشتہ روز اس وقت ٹوٹ گئی تھی جب چندریان ٹونامی خلائی مشن چاند کے انتہائی قریب پہنچ کر ناکامی سے دوچار ہوگیا تھا جس پر نہ صرف اس خلائی مشن کے نگران پھوٹ پھوٹ کر روپڑے تھے بلکہ اس موقع پر موجود بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی سبکی کا سامنا کرتے ہوئے یہاں سے خاموشی کے ساتھ کھسکنا پڑا۔ چندریان تو بھارتی خلائی مشن کی ناکامی پر ڈی جی آئی ایس پی آر جو بھارت کے انتہا پسندانہ روئیے اور خاص کر کشمیری مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کے خلاف بھارتی سورمائوں کو آڑے ہاتھوں لینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو خلائی مشن کی ناکامی سے زیادہ مقبوضہ کشمیر میں عن قریب ملنے والے نقصان کی فکر کرنی چاہیے جو نہ صرف چندریان کے نقصان سے زیادہ ہوگا بلکہ صرف مالی نقصان تک بھی محدود نہیں ہوگا جس کا واضح اشارہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کی طرف تھا جو بھارتی ظلم و درندگی کے باعث ایک ایسے لاوے کی شکل اختیار کرچکا ہے جوکسی بھی وقت بھڑک کر بھارت کی جغرافیائی سا لمیت کو ملیا میٹ کر سکتا ہے۔ اسی طرح چندریان خلائی مشن کی ناکامی نے بھارت کے چہرے پر جو سیاہی ملی ہے اس سے بھی دنیا پر بھارت کا بھیانک چہرہ ایک بار پھر عیاں ہوگیا ہے۔ بھارت نے ایک لاحاصل مشن پر 900 ارب روپے کی جو خطیر رقم پھونکی ہے اگر بھارت چاہتا تو اس رقم سے کروڑوں کی تعداد میں فٹ پاتھوں پر پڑے اپنے بھوکے پیاسے اور ننگے شہریوں کے لیے دو وقت کی روٹی اور چھتوں کا بندوبست کرسکتا تھا لیکن چونکہ اس کی انتہا پسند قیادت کے ذہنوں پر بھارت کو علاقائی تھانیدار بنانے کا بھوت سوار ہے اس لیے اسے اپنے ہاں غربت کے خاتمے سے زیادہ چاند پر پہنچنے کی جلدی ہے۔