سانحہ بلدیہ میںجاںبحق 260مزدوروںکے لواحقین انصاف کے منتظر

38

کراچی (اسٹا ف رپورٹر) سانحہ بلدیہ جیسے المناک واقعات کی روک تھام کے لیے کار خانوں میں ہیلتھ اور سیفٹی کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ گیارہ ستمبر 2012 ء کو صنعتی تاریخ کے بھیانک ترین حادثے میں شہید ہونے والے 260 مزدور آج بھی انصاف کے منتظر ہیں اور اس سانحہ کے ذمے داران آزاد گھوم رہے ہیں جبکہ فیکٹریوں ، کارخانوں اور کارگاہوں میں ہیلتھ اور سیفٹی کو یقینی بنانے کے لیے اب تک کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے سانحہ بلدیہ کی 7 ویں برسی پر منعقدہ تعزیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن اور سانحہ بلدیہ متاثرین ایسوسی ایشن کے زیراہتمام 11 ستمبر بروز بدھ کو متاثرہ فیکٹری کے سامنے تعزیتی اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ اجتماع میں سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے بھی شرکت کی۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس امر پر کڑی تشویش کا اظہار کیا کہ 7 برس گزرنے کے باوجود سانحہ کے ذمہ دار قانون کی گرفت سے باہر ہیں جبکہ فیکٹریوں اور کارخانوں میں ہیلتھ اور سیفٹی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے حادثات روز کا معمول بنے ہوئے ہیں ۔حکومت سندھ نے 2017ء میں آکوپیشنل ہیلتھ اینڈ سیفٹی کا قانون تو منظور کر لیاتھا لیکن اس پر عمل درآمد اب بھی سوالیہ نشان ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ بین الاقوامی و مقامی لیبر قوانین، آئینی تحفظ اور بین الاقوامی معاہدات کے باوجود فیکٹریاں کارخانے محنت کشوں کے لیے قتل گاہیں بننی ہوئی ہیں۔ آئی ایل او کے مطابق ہر سال پوری دنیا میں 2.2 ملین افراد کام سے متعلق بیماریوں اور حادثات کے نتیجے میں مر جاتے ہیں جبکہ 270 ملین مزدور زخمی ہوتے ہیں ۔ جی ایس پی کی ریویو رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر 25 واں ورکر کام کے دوران حادثے کا شکار ہوتا ہے۔ دنیا بھر کی حکومتوں نے SDGS کے تحت وعدہ کیا ہوا ہے کہ 2030ء تک کام کی تمام جگہوں کو مزدوروں کے لیے محفوظ بنادیا جائیگا لیکن حکومت پاکستان کا اس بارے میں رویہ نہایت ہی غیر ذمے دارانہ ہے ۔