کلفٹن لائسنس برانچ میںبدعنونی عروج پر،ہنگامہ آرائی معمول بن گئی

74

کراچی ( محمد علی فاروق ) کراچی کے شہریوں کے لییڈرائیونگ لائسنس بنوانا جوئے شیر لانے کے مترادف بن گیا ۔کلفٹن لائسنس برانچ میں تعینات ڈی ایس پی کی غیر سنجیدگی کے باعث شہر کی سب سے مصروف برانچ میں لائسنس بنوانے کے لیے آنے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوگئی ۔میرٹ پر کام ہونے کی بجائے بروکز کے ذریعہ لائسنس بنوانے کا کام عروج پر پہنچ گیا۔ کلفٹن لائسنس برانچ کا ماہانہ ریونیو چھ لاکھ روپے سے کم ہو کر ایک لاکھ روپے تک آگیا۔ ذرائع کے مطابق کراچی میں شہریوں کو ٹریفک لانسنس بنوانے کے لیے مختلف علاقوں میں لائسنس برانچز قائم کی گئی ہیں ۔ان برانچز میں کلفٹن برانچ سب سے مصروف گردانی جاتی تھی جہاں سے سیکڑوں شہری لائسنس بنواتے تھے تاہم ایک ماہ قبل تعینات ہونے والے ڈی ایس پی مسعود اخترکے نامناسب رویے کی وجہ سے کلفٹن لائسنس برانچ میں ویرانیوں نے ڈیرے ڈال لیے ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ برانچ میں آنے والے شہریوں کو جواز تنگ کیا جاتا ہے اور ان سے غیر ضروری ڈاکومنٹس طلب کیے جاتے ہیں جبکہ امیدواروں کی اکثریت کو میڈیکل ٹیسٹ میں فیل کردیا جاتا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ یہ سب کام بروکرز کی ملی بھگت سے کیا جارہا ہے ۔جب شہریوں کا لائسنس جائز طریقے سے نہیں بنتا ہے تو وہ لامحالہ بروکرز کے ساتھ رابطہ کرتے ہیں اور 4سے 8ہزار روپے میں یہ بروکرز بآسانی لائسنس بنواکر دے دیتے ہیں ،جس میں سے رقم کا ایک بڑا حصہ لائسنس برانچ میں موجود ٹریفک پولیس افسران کو دیا جاتا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی مسعود اختر کے رویے کی وجہ سے دفتر میں روزانہ کی بنیاد پر ہنگامہ آرائی معمول بن گئی ہے اور ان کے اخلاق سے عاری رویہ کی وجہ سے شہری اشتعال میں آجاتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے افسران کو اہم پوسٹوں پر تعینات کیا جاتا رہا تو پولیس اور شہریوں کے درمیان میں موجود دورویوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے آئی جی سندھ ، ایڈیشنل آئی جی راچی اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران سے مطالبہ کیا کہ کلفٹن لائسنس برانچ میں ہونے والی کرپشن اور بے قاعدگیوں کا نوٹس لیا جائے۔