افغان مذاکرات میں تعطل پر دکھ ہوا کشمیر میں حالات تشویشناک ہیں،چین

52

بیجنگ (اے پی پی) چین نے امریکا اور طالبان سے مذاکرات جاری رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان مسئلے کے حتمی حل کے لیے مذاکرات جاری رکھے جائیں‘ مقبوضہکشمیر میں حالات تشویشناک ہیں۔ گزشتہ روز چین نے امریکا اور طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان مسئلے کے حلکے لیے حتمی مذاکرات کیے جائیں۔ وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کی معطلی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے امریکا اور طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھائیں اور نتائج کے بارے میں بات کریں تا کہ افغانستان میں امن کا بیج بویا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فریقین سے افغانستان کے مسئلے کے حتمی حل کے لیے شرائط تیار کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ چین پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے مابین اسلام آباد میں ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے خواہش مند ہیں، اسی طرح وہ عوام کے فلاح و بہبود اور معیار زندگی میں بہتری کے ساتھ ساتھ ایک خطے، ایک سڑک کے نظریے کے مطابق اقتصادی و تجارتی ترقی کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی اور خطے کی ترقی و خوشحالی کیلیے بھی پُرعزم ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ سہ فریقی مذاکرات میں اتفاق کیا گیا ہے کہ افغانستان کی صورتحال حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ افغانستان سے غیرملکی افواج ذمے داری کے تحت واپس جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تینوں فریقین بیلٹ اینڈ روڈ کے منصوبے کی مشترکہ تعمیر کے فریم ورک پر سہ فریقی تعاون میں اضافہ پر بھی متفق ہیں‘ چین پاکستان سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر بھی متفق ہیں اور وہ کابل پشاور ایکسپریس وے کی تعمیر کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔