وزیراعظم نے کراچی سے متعلق کمیٹی پر مشاورت کی نہ اعتماد میں لیا،وزیراعلیٰ سندھ

221

کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے کراچی پر ایک اسٹریٹیجککمیٹی تشکیل دی ہے جس کے لیے نہ ہی انہوں نے ہم سے مشاورت کی ہے اور نہ ہی ہمیں اعتماد میں لیاہے۔’’ نیوزمین کی طرح میں نے بھی اسٹریٹیجک کمیٹی کی تشکیل کے بارے میں نیوز چینل پر ہی سنا ہے۔ ‘‘ انہوں نے یہ بات بدھ کوگورنر سندھ عمران اسماعیل کے ساتھ مزار قائد پر بانی پاکستان کی 71 ویں برسی پر فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے یہ بات نیوز میں سنی ہے کہ وفاقی حکومت نے کراچی کے معاملات پر ایک اسٹریٹیجک کمیٹی تشکیل دی ہے،میں نہیں جانتا کہ یہ کمیٹی کیاکرے گی اور اس کا کیا مینڈیٹ ہے، نہ تو مجھ سے مشاورت کی گئی ہے اور نہ ہی کمیٹی کی تشکیل پر اعتماد میں لیاگیا۔اسی سوال پر گورنر نے کہا کہ کمیٹی وفاقی وزیر برائے قانون فروغ نسیم کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے اور اْسے متعدد سوک اتھارٹیز مثلاً کے پی ٹی،کے ایم سی،ڈی ایم سیز اورشہر کی دیگر ایجنسیز کے کاموں کا تجزیہ کرنے کا ٹاسک دیاگیاہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا ایک سنگل اتھارٹی بنائی جا سکتی ہے یا نہیں اور اپنی سفارشات وفاقی حکومت کو پیش کرے گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کچرااٹھانا،سڑکوں اور شہروں کی صفائی کا کام بلدیات کاہے،کے ایم سی کے متعدد بڑے گندے پانی کے نالے ہیں اور ان کی نکاسی کے کام کی دیکھ بھال کرنا اور چند چھوٹے نالے ڈی ایم سیز میں ہیں اور سڑکوں کی صفائی ڈی ایم سیز کی اہم ذمے داریوں میں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی (ایس ایس ڈبلیو ایم اے ) تشکیل دی گئی تھی تو شہر میں تقریباً4 ٹن کچرا جمع ہوتاتھا مگراب تقریباً روزانہ 16 ٹن کے قریب کچرا جمع ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔مراد علی شاہ نے صفائی مہم شروع کرنے کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت سڑکوں اور کھلے پلاٹوں کے پاس جمع کچرے کو اٹھانے کے لیے چند بہتر اور اضافی اقدام اٹھائے گی۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی صفائی مہم کی مخالفت کے تاثر کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اہم سڑکوں اور پارکس کے نزدیک کچرا اور برساتی پانی پھینکنے کی مخالفت کی تھی۔انہوں نے کہا کہ ان کاموں سے شہر کی حفظانِ صحت کی صورتحال مزید خراب ہوئی اور شہر میں مکھیوں اور مچھروں کی بہتاب ہوئی ،لوکل باڈیز نے فیومیگیشن شروع کی جس سے صورتحال کنٹرول میں آئی۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کی وصولیاں اتنی اچھی نہیں ہیں جتنی توقع کی جارہی تھی، وصولیوں میں شارٹ فال کی وجہ سے اس کا اثر صوبائی حکومتوں پر بھی پڑ رہا ہے اور اسی حساب سے ان کے حصے میں کمی کردی گئی ہے۔