یورپی ممالک مسئلہ کشمیر سمجھتے ہیں آواز نہیں اٹھاتے ثالثی واحد حل ہے،شاہ محمود قریشی

63
جنیوا: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل باچلیٹ سے ملاقات کے دوران مقبوضہ کشمیر کے حالات سے آگاہ کررہے ہیں
جنیوا: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل باچلیٹ سے ملاقات کے دوران مقبوضہ کشمیر کے حالات سے آگاہ کررہے ہیں

جنیوا (اے پی پی،آن لائن)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے کئی ممالک مقبوضہ کشمیر صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہیں لیکن اپنی سیاسی وجوہات کی بنا پر آواز نہیں اٹھا رہے،پاکستان اور بھارت کے مابین تیسرے فریق کی طرف سے مصالحت ہی واحد آپشن ہے۔ ملٹری آپشن افغانستان کے مسئلے کا حل نہیں ہے۔بدھ کو جینوا میں سوئیس ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں صورتحال اس قدر تشویشناک ہے کہ ذرائع مواصلات پر پابندی کی وجہ سے حقائق سامنے نہیں آرہے،لیکن اس سلسلے میں بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کا کردار قابل تعریف ہے۔انہوں نے کہا کہ بہت سے یورپی یونین کے ممالک اس صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہیں لیکن اپنی سیاسی وجوہات کی بنا پر آواز نہیں اٹھا رہے۔ہندوستان نے پانچ اگست کو جو اقدام اٹھائے وہ سب کے لیے حیران کن تھے کیونکہ بھارت میں لوگوں نے اس کو قبول نہیں کیا یہ ان کے اپنے قوانین کے منافی تھے اقوام متحدہ کے چارٹر، سیکورٹی کونسل کی قرارداروں اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف تھے، ہندوستان کی اپوزیشن جماعتوں نے ان اقدامات کے خلاف آواز اٹھائی، انڈین سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشنز دائر کی گئیں۔ہندوستان کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قرارداروں پر عملدرآمد کرنا ہو گا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین تیسرے فریق کی طرف سے مصالحت ہی واحد آپشن ہے۔مجھے پتہ چلا ہے کہ سوئس حکام نے ہندوستان کے رہنماؤں کے ساتھ متوقع ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کو ایجنڈے میں شامل کیا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔قبل ازیں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ہیومن رائٹس کونسل میں 50 سے زائد ممالک نے بھارت کے سامنے 5 مطالبات پیش کردیے۔اقوامِ متحدہ کے تحت عالمی ادارہ برائے پناہ گزین کے تحت (ہیومن رائٹس کونسل) کے غیرمعمولی اجلاس میں 50 سے زائد ممالک نے مقبوضہ کشمیر پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے بھارت کے سامنے 5 مطالبات پیش کئے ہیں۔مشترکہ اعلامیے میں پہلا مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارت کشمیریوں سے جینے کا حق نہ چھینے اور انہیں جینے دیا جائے۔ دوسرے مطالبے میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں مسلسل 37 روز سے جاری کرفیو فوری طور پر ختم کیا جائے۔تیسرے مطالبے میں بھارت سے کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا کشمیر میں مواصلات کے کریک ڈاؤن کی تصدیق کرچکا ہے اور کشمیر میں مواصلات کو یقینی بنایا جائے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔چوتھے مطالبے میں کئی ذیلی مطالبات رکھے گئے ہیں جن کے تحت مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کا تحفظ، آزادی اور گرفتار افراد کو رہا کرنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ گن سمیت طاقت کے بے جا استعمال سے گریز کیا جائے۔اسی کے ساتھ مطالبہ کیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے دورے کی اجازت دی جائے۔ پانچواں اور اہم مطالبہ یہ کہتا ہے کہ جموں و کشمیر کے حل کیلیے پرامن طریقہ کار اختیار کیا جائے۔اس موقع پر وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج کا دن ہمارے لیے اور کشمیریوں کے لیے بہت اہم ہے، دنیا بھرسے آئے مندوبین کیسامنے کشمیریوں کا مقدمہ پیش کیا اور مقبوضہ کشمیر پر پاکستانی کوششوں سے 50 سے زائد ممالک نے ایک مشترکہ بیان دیا ہے جس میں بھارت سے پانچ اہم مطالبات کیے ہیں۔وزیر خارجہ نے انسانی حقوق کونسل میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا گیا ہے، عالمی برادری بھارتی مظالم رکوانے کے لیے کردار ادا کرے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ گزشتہ چھ ہفتوں سے کشمیری حریت رہنما نظر بند ہیں، مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا گیا ہے، آپ سب کو بی بی سی کے آرٹیکل کی کاپی دی ہے جس میں کشمیری اپنے منہ سے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کی داستانیں بیان کر رہے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پیلٹ گن کے شکار مریض اسپتال جانے سے بھی ڈرتے ہیں، بھارت اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعوے دار کہتا ہے تاہم بھارت کشمیریوں کی اکثریت کو اقلیت بنانا چاہتا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں ادویات کی شدید قلت ہے، برطا نوی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں ہو رہے مظالم کو بے نقاب کیا، عالمی برادری مسئلہ کشمیر حل کروانے میں کردار کرے، مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، مقبو ضہ کشمیر میں طوفان کے آنے سے پہلے کی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت ایک بار مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹا کر تو دیکھے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر مذاکرات کی دعوت مسلسل ٹھکرائی، بھارت آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے مسلسل لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر کا معاملہ بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے آپریشن کرسکتا ہے۔دریں اثناء بھارتی قابض افواج کو بے گناہ کشمیریوںکا مزید خون بہانے سے روکنے کیلیے اقوام متحدہ ، عالمی برادری اورانسانی حقوق کی کونسل کواپنا کرداراداکرنا ہوگا، سات دہائیوں سے بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔علاوہ ازیں وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی المیے کی صورتحال پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت سے لاکھوں نہتے کشمیریوں کی زندگیاں بچانے کیلیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیاہے ۔ انہوں نے یہ بات جنیوا میں جاری انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے موقع پر عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس سے ملاقات میں کہی۔ ملاقات میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلسل کرفیو کے سبب انسانی جانوں کو درپیش شدید خطرات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔قبل ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جنیوا میں جاری انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے موقع پر او آئی سی گروپ کے سفراء سے گزشتہ روز ملاقات کی۔ملاقات کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں یکطرفہ طور پر کئے گئے بھارتی اقدامات اور ان کے مضمرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں کئے گئے یکطرفہ، غیر آئینی اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے صریحاً منافی ہیں ،بھارت ، ان یکطرفہ اقدامات کی آڑ میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو تبدیل کر کے مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے ۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جنیوا میں سینیگال کے وزیر خارجہ احمدوبا سے ملاقات کی اور ان سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال اور خطے میں امن و امان کو درپیش خطرات پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیرخارجہ نے اس موقع پر کہاکہ پاکستان افریقی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے اور انسانی حقوق کونسل کی صدارت کا منصب سینیگال کے پاس ہونے کے سبب ہمیں آپ سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ وزیر خارجہ نے سینیگال کے وزیر خارجہ کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر اٹھائے گئے یکطرفہ بھارتی اقدامات اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا اورکہاکہ بھارت نے 5 اگست سے لیکر آج تک مقبوضہ جموں و کشمیر کے لاکھوں نہتے انسانوں مسلسل کرفیو لگا کر محصور کر رکھا ہے۔ سینیگال کے وزیر خارجہ احمدوبا نے اس ساری صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ساری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔