عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کے پولیو پروگرام کو ناکام قرار دیدیا

75

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تحت کام کرنے والے ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ نے پاکستان کے پولیو پروگرام کو ‘ناکامی’ کی جانب گامزن قرار دیتے ہوئے صورت حال کو دنیا کے لیے خطرناک قرار دے دیا ہے۔انسداد پولیو کے لیے کام کرنے والے ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ (ٹیگ) کے ماہرین صحت سال میں 2 مرتبہ ایسے ممالک کے پولیو پروگرام کا جائزہ لیتے ہیں جہاں تاحال اس مرض کا خاتمہ نہیں کیا جا سکا ہے۔اسلام آباد میں 29 اور 30 اگست کو ایڈوائزری گروپ نے اپنے ششماہی اجلاس میں ایک بار پھر پاکستان کے پولیو پروگرام پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ماہرین صحت کا یہ گروپ پولیو سے متاثرہ ملکوں کو اس مرض کے تدارک کے لیے اپنی سفارشات بھی پیش کرتا ہے۔پاکستان میں رواں سال پولیو کیسز کی تعداد 62 تک جا پہنچی ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے علاوہ کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں بھی پولیو کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ٹیگ کے ماہرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں انسداد پولیو مہم ایسے موڑ پر کھڑی ہے جس کی ناکامی کا اثر بہت دور تک جا سکتا ہے۔ماہرین صحت نے اجلاس کے اختتام پر اپنے مشاہدات اور سفارشات پر مشتمل رپورٹ بھی مرتب کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ماہرین نے پاکستان کی موجودہ انسداد پولیو پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکمت عملی کا فقدان قرار دیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ انسداد پولیو پروگرام پیچیدہ حکمت عملی کی وجہ سے کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو رہا۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر اور خیبر پختونخوا کے آپریشن سینٹرز بدانتظامی سے دوچار ہیں۔