کراچی میں جرائم پیشہ افراد کا راج ،ماہ اگست میں 36افراد کا قتل

91

کراچی (اسٹاف رپورٹر)گزشتہ ماہ اگست میں شہر میں36افراد کو قتل کردیا گیا، ہزاروں شہریوںکواسلحے کے زور پر ان کے موبائل فونز،گاڑیوں اورموٹرسائیکلوں سے محروم کردیا گیا، پولیس درجنوں وارداتوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی موجودگی کے باوجود ملزمان کو گرفتار نہیں کرسکی۔ شہر حلقوں نے سی پی ایل سی کے جاری کردہ اعداد وشمار کو مسترد کردیا،شہر میںجرائم کی اس سے بہت زیادہ ہیں، سی پی ایل سی وارادتوں کی کچی ایف آئی آر کو رپورٹ کا حصہ نہیں بناتی۔ تفصیلات کے مطابق سٹیزن لائزنگ کمیٹی نے کراچی میں اگست میں رپورٹ ہونے والے جرائم کی فہرست جاری کر دی، رپورٹ کے مطابق شہرمیں 36 افراد قتل ہوئے ، 23 گاڑیاں اسلحے کے زور پر چھینی گئیں ، 146 چوری ہوئیں۔چھینی اور چوری ہونے والی گاڑیوں میں سے صرف 58 برآمد کی جاسکی ہیں۔ 189 موٹرسائیکلیں چھینی گئیں اور 25 سو سے زاید چوری ہوئیں۔ 1853 موبائل فونز چھینے گئے ، 26 سو سے زاید چوری ہوئے۔اغوا برائے تاوان اور بینک ڈکیتی کی کوئی واردات رپورٹ نہیں ہوئی جبکہ درجنوں وارداتوں کی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آنے پر بھی ملزمان گرفتار نہیں کیے جاسکے، مذکورہ رپورٹ صرف ان وارادتوں پر مشتمل ہے جن کے مقدمات درج کیے گئے، کراچی کے شہری تھانہ کلچر اورعدالتی نظام کے خوف سے مقدمہ درج کرانے سے گریز کرتے ہیں اور قانونی خانہ پوری کے لیے کچی ایف آئی آر درج کرانے پراکتفا کر تے ہیں۔ شہری حلقوں کے مطابق کراچی میں جرائم کی شرح جاری کرتے وقت نان کاک ( کچی ایف آئی آر ) کو بھی اس کا حصہ بنایا جائے تاکہ قانون نافذ کرنے اداروں اور حکومت کے نوٹس میں یہ صورتحال واضح ہو سکے۔