ساتھ دینے پر جماعت اسلامی کے ممنون ہیں، اہلخانہ سانحہ بلدیہ فیکٹری

57

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سانحہ بلدیہ فیکٹری کو 7 برس بیت گئے۔ مرنے والوں کے اہلخانہ آج بھی غم سے نڈھال ہیں۔ سندھ ہائیکورٹ میں اہلخانہ نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ انصاف نہیں ملا، 7 برس کے بعد بھی در بدر ہیں،تقاریب میں لے جا کر فوٹو بنوائے جاتے ہیں، 2 سال بعد سب نے آنا چھوڑ دیا، نوکریوں اور دیگر مراعات دینے کا کوئی وعدہ پورا نہیں ہوا، صرف جماعت اسلامی نے ساتھ دیا،ان کے مشکور ہیں، اب تو کوئی حکومتی نمائندہ بھی گھر پوچھنے نہیں آتا، ہمیں انصاف نہیں ملا ،کس سے فریاد کریں۔قبل ازیںسندھ ہائی کورٹ نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں فیکٹری مالکان کا وڈیو لنک کے ذریعے بیان قلم بند کرنے کے فیصلے کیخلاف ملزم رحمن بھولا کی اپیل پر فریقین سے 13 ستمبر کے لیے مزید دلائل طلب کر لیے۔ جسٹس شمس الدین عباسی اور جسٹس عدنان اقبال چودھری پر مشتمل2 رکنی بینچ کے روبرو سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں فیکٹری مالکان کا وڈیو لنک کے ذریعے بیان قلم بند کرنے کے فیصلے کیخلاف ملزم رحمن بھولا کی اپیل کی سماعت ہوئی۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ اپیل مسترد کی جائے کیونکہ وڈیو لنک کے ذریعے بیانات کی نظیر موجود ہیں،عدالت عظمیٰ کا حسین نواز کیس میں وڈیو لنک کا فیصلہ موجود ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ پرویز مشرف کیس میں بھی تو وڈیو لنک کے ذریعے بیان قلمبند کرنے کا فیصلہ ہوا۔ عدالت نے فریقین سے 13 ستمبر کے لیے مزید دلائل طلب کر لیے ۔وڈیو لنک کا بیان قلمبند کرنے کا فیصلہ انسداد دہشت گردی عدالت نے دیا تھا۔دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کافی بہتر ہے، فیکٹری مالکان کو یہاں آکر بیان ریکارڈ کرانا چاہیے۔ عدالت نے وڈیو لنک کے ذریعے فیکٹری مالکان کا بیان قلم بند کرنے کی درخواست منظور کی تھی ،وڈیو لنک کے ذریعے فیکٹری مالکان کا بیان قلم بند کی درخواست اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ساجد محبوب شیخ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مقدمے میں اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ساجد محبوب شیخ کے مطابق پولیس نے 768 گواہوں کو نامزد کیا تھا۔ جس میں سے اب تک 396 کے بیانات قلمبند کیے جاچکے ہیں جبکہ 364 گواہوں کو give up کیا جاچکا ہے۔ جن کے بیانات قلمبند کیے گئے ان میں زخمی، عینی شاہدین، لواحقین، ڈاکٹرز، فارنزک اور کیمیکل ایکسپرٹ سمیت دیگر محکموں کے افسران شامل ہیں۔ساجد محبوب شیخ کے مطابق مرکزی ملزم رحمن بھولا جرم کا اعتراف کرچکا ہے۔ پراسیکیوٹر ساجد محبوب شیخ نے کیس کے تفتیشی افسر ایس ایس پی ساجد سدوزئی کے ملک سے باہر جانے سے متعلق بھی درخواست دی تھی کہ ان کو بیان قلمبند کیے جانے تک روکا جائے۔جس پر عدالت نے آئی جی سندھ کو احکامات دے دیے ہیں۔ساجد محبوب شیخ کے مطابق اب صرف مقدمے میں 5 گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے ہیں۔ جس میں مالکان،تفتیشی افسر سمیت دیگر شامل ہیں۔ مقدمے میں مرکزی ملزم رحمن بھولا اور زبیر چریا گرفتار ہیں۔ساجد محبوب شیخ کے مطابق کیس اپنے آخری مراحل ہر ہے اور اب جب ملزمان کو لگ رہا ہے کہ مقدمہ ان کے خلاف جارہا ہے تو وہ تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔مقدمے میں ایم کیو ایم کراچی تنظیمی کمیٹی کے سابق انچارج حماد صدیقی اور علی حسن قادری مفرور ہیں ۔