گگلی بولنگ کے ماہر عبدالقاد کے انتقال سے اسپن سیکھنے کا دور ختم ہوا

73

 

سابق لیگ اسپنر اور گگلی بولنگ کے ماہر عبد القادر خان کے انتقال سے پاکستان کے شایقین کرکٹ کو دلی صدمہ پہنچا،عبدالقادر 64 سال کی عمر میں بھی فٹنس کے لحاظ سے کافی فٹ دکھائی دیتے تھے اس کے باوجود وہ 6 ستمبر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔ عبد القادر ستمبر کے مہینے میں پیدا ہوئے اور ستمبر ہی کے مہینے میں وفات پائی۔ عبدالقادر 15 ستمبر 1955 میں لاہور کے علاقے دھرم پورہ کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہویے ،غربت کا یہ عالم تھا بقول مرحوم عبدالقادر اگر صبح کھانا ہے تو رات کے کھانے کا کچھ پتا نہیں ہوتا تھا کہ ہوگا یا نہیں ،آپ مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے،آپ کے والد حافظ قران تھے،آپ نے اپنے ٹیسٹ کرکٹ کیرئیر کا آغازانگلینڈ کے خلاف 14 ستمبر 1977 میں جبکہ ون ڈے انٹر نیشنل میں1983 میں ڈیبیو ویسٹ انڈیز کے خلاف کیا اور آخری ون ڈے انٹر نیشنل2 نومبر 1993 سری لنکا کے خلاف کھیلا،1977 سے 1990 کے ٹیسٹ کر کٹ کیرئیر میں عبدالقادر نے 67 ٹیسٹ میچز میں 236 وکٹیں حاصل کیں،انہوں نے ایک روزہ انٹر نیشنل کرکٹ میں 104 میچزکھیل کر 132 کھلاڑیوں کو پویلیئن کا راستہ دکھایا،ایک وقت ایسا بھی تھا کہ سیدھے ہاتھ سے لیگ اسپن بولنگ کرنے والے گگلی ماسٹر دنیائے کرکٹ پر چھائے رہے ،اور اپنے دور میں دنیائے کرکٹ کے بڑے بڑے بلے بازوں کو پریشان کیا ،عبدالقادر نے اپنی اسپن بولنگ سے پاکستان کی فتوحات میں بہت اہم کردار ادا کیے جبکہ عبدالقادر کو بچپن میں کرکٹ سے کوئی لگائو نہ تھا بقول عبدالقادر کے وہ گلی میں کھیلنے والے بچوں کی کرکٹ ٹیم میں بھی کھیلنا پسند نہیں کرتے تھے اور والدین بھی انکے کرکٹ کھیلنے پر راضی نہ تھے، بچپن میں جھولا جھولنے کا بہت شوق تھا ،مگر ایک مرتبہ گلی کی ٹیم کا میچ دوسرے گلی کی ٹیم سے تھا اور ہماری گلی کی ٹیم کے پاس 10 کھلاڑی تھے ایک کھلاڑی کم تھا تو مجھے منع کرنے کے باوجود لڑکوں نے ٹیم میں شامل کیا ،سب لڑکے کٹ میں کرکٹ کھیلتے تھے اور میرے پاس کھیلنے کے لیے پینٹ بھی نہیں ہوتی تھی میں جب کرکٹ کھیلنے لگا تو لنڈے سے کٹ خرید کرلاتا تھا،عبدالقادر اپنی زندگی کے بارے میں حقیقت سے بھرپور اور سچی بات کیا کرتے تھے ان کی اچھی بات یہ تھی کہ وہ جودیکھتے تھے اس پر بات کرتے تھے سنی سنائی اور بغیر دیکھی باتوں پر تبصرے نہیں کرتے تھے ۔ آپ کو پاکستانی ہونے پر بہت فخر تھا ۔ آپ نے پاکستان کے2 وزیر اعظم کے ساتھ کرکٹ کھیلی ۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور 1992 ورلڈ کپ کے فاتح کپتان عمران خان کے ساتھ کرکٹ کھیلی اور قومی کرکٹ ٹیم کے بہت اہم رکن رہے 1983 اور1987کا ورلڈ کپ بھی کھیلا،آپ نے 5 ایک روزہ ون ڈے انٹر نیشنل میچز میں بطور کپتان پاکستان کی نمائندگی کی، آپ نے پی سی بی کی جانب سے چیف سلیکٹر کے فرائض بھی انجام دیے عبدالقادر کی سب سے عمدہ کارکردگی 1987 میں پاک انگلینڈ 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں رہی انہوں نے 437 رنز دیکر 30 وکٹیں اپنے نام کیں،اور 1987 ہی میں ہونے والی ون ڈے ہوم سیریز میں انگلش ٹیم کے خلاف قذافی اسٹیڈیم لاہورمیں 56 رنز دیکر9 وکٹیں حاصل کیں، کرکٹ بورڈ نے 2008 میں سابق فاسٹ بولر سلیم جعفر کی جگہ عبدالقادر کو چیف سلیکٹر کا عہدہ دیا تھا مگر انہوں نے چیئرمین پی سی بی جانب سے انکی اجازت کے بغیر شعیب اختر کو قومی ٹیم سے نکالنے پر 2009 میںانکے فیصلے کے خلاف استعفی دے دیا،اس کے علاوہ عبدالقادر نے بطور کمنٹریٹر خدمات انجام دیں،عبدالقادر کے لیے ستمبر کا مہینہ بہت اہمیت کا حامل ہے ،ستمبر میں آپکی پیدائش ہوئی۔ عبدالقادراپنے ٹیسٹ کیرئیر کا آغاز بھی ستمبر میں کیا اور ستمبر ہی کے مہینے عبدالقادر خان انتقال کرگئے ،انکے صاحبزادوں میں سلمان قادر ، رحمان قادر،عمران قادر اور عثمان قادر فرسٹکلاس کرکٹ کھیل چکے ہیں، اور ایک بیٹی نور آمنہ ہے جنکی شادی پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹر عمر اکمل سے ہوئی ہے، عبدالقادر ویسے تو اپنی پوری فیملی پر بہت فخر کرتے تھے مگر خاص طور پر اپنے والد اور بیٹے عثمان قادر پر بہت فخر کرتے تھے انکا کہنا تھا کہ عثمان قادر حافظ قرآن اور ایک بہت ٹیلنٹڈ کرکٹر ہے اس کو دنیائے کرکٹ کے بیشتر ممالک کی طرف سے کرکٹ کھیلنے کی آفرز ملتی رہتی ہے مگر پاکستان میں اس کی کوئی قدر نہیں کی گئی جسکا بہت افسوس ہوتا ہے،انکا کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ بہت ہے مگر اس ٹیلنٹ کی کوئی قدر نہیں کرتا،اور سفارش کی وجہ سے قومی ٹیم کو نقصان پہنچتا ہے اور وہ لڑکے ٹیم اور ملک کے لیے نہیں بلکہ پیسے کمانے یا اپنے ریکارڈ بنانے کے لیے کھیلتے ہیں ،عبدالقادرعمران خان ،جاوید میاداد اور سرفراز نواز پر بہت فخر کرتے تھے اور خاص طور پر عمران خان کو کوہ نور اور بہت بہادر انسان سمجھتے تھے، انکا کہنا تھا کہ سرفراز نواز کو فاسٹ بولنگ میں بڑی کمانڈ حاصل تھی،وسیم اکرام یا دوسرے بولرز جو سوئنگ کرتے تھے وہ ان کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے،بنگلادیش کے خلاف ورلڈ کپ میں پاکستان کی شکست کی وجوہات جاننے کے لیے بھنڈاری کمیشن بنایا گیا تھا،اس کمیشن کا چیرمین عبدالقادر کو بنایا گیا ، انہوں نے پوری زندگی اصولوں پر گزاری وہ پاکستان کی کرکٹ میں توقیرء ضیاء اور خالد محمود کی خدمات کو سراہتے تھے اس کے برعکس نجم سیٹھی کو قومی کرکٹ کے لیے اچھا نہیں سمجھتے تھے ان کا کہنا تھانجم سیٹھی نے موجودہ کرکٹ میں سیاست کوشامل کیا،جس کے باعث کرکٹ کو بہت نقصان ہوا،سابق چیرمین پی سی بی شہریار خان اچھے انسان تھے مگر انکو بھی پی سی بی سے غلط طریقے سے فارغ کیا گیا،عبدالقادر پی سی بی کی جانب سے کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دینے کو بہت برا سمجھتے تھے انکا کہنا تھا کہ آج کے کھلاڑی کو کرکٹ کھیلنے پر اتنے پیسے مل جاتے ہیں کہ انکو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں،اگر وہی پیسہ سابق کرکٹر زجنکے حالات بہتر نہیں اس پر خرچ کرے تو زیادہ بہتر ہوتا،وہ لٹل ماسٹر حنیف محمد کو بہت بڑا کرکٹر مانتے تھے،عبدالقادر اپنے داماد ٹیسٹ کرکٹر عمر اکمل کو قومی ٹیم سے نظر انداز کیے جانے پر نہ خوش دکھائی دیتے تھے عبدالقادر کے انتقال سے پاکستان میں اسپن بولنگ کو سیکھنے کا دور ختم ہوا ،انکے اچانک انتقال سے کرکٹ کے حلقوں میںدکھ اور مایوسی کی لہر دوڑ گئی۔ اللہ رب العزت ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور پسمندگان کو صبر جمیل ۔ آمین۔