روئی کی فی من 500 روپے کم بھائو پر فروخت جاری

31

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز کی جانب سے اچھی کوالٹی کی روئی کی خریداری میں دلچسپی بڑھنے کے باعث روئی کے بھاؤ میں مجموعی طورپر استحکام رہا۔ کاروباری حجم بھی نسبتا بڑھ گیا جنرز اور پھٹی کے بیوپاری اور کپاس کے زمینداروں نے بھی پھٹی کی رسد میں اضافہ اور جننگ پروسیس میں اضافہ کردیا محرم الحرام کی تعطیلات کے باعث ملوں نے زیادہ خریداری کی تاہم صوبہ سندھ میں بارش والی پھٹی کے باعث کپاس کی کوالٹی متاثر ہونے کی وجہ سے پھٹی کا بھاؤ کم رہا روئی کا بھاؤ بھی پنجاب کی روئی کے نسبت فی من تقریبا 500 روپے کم بھاؤ پر فروخت ہوئی تاہم پھٹی کے کم بھاؤ کے سبب کپاس کے کاشتکاروں کو اٹھانا نقصان پڑا جبکہ روئی کا بھاؤ کم ہونے کے باوجود جنرز کے کہنے کے مطابق ان کو فائدہ ہوا گزشتہ بارشوں کی وجہ سے صوبہ سندھ میں روئی کی کوالٹی اور کوینٹیٹی کو نقصان ہوا کاشتکاروں کو پھٹی کے نقصان کے متعلق پوچھا جاتا ہے تو وہ 10 تا 15 فیصد نقصان بتاتے ہیں صوبہ پنجاب میں کپاس پیدا کرنے والے کئی علاقوں میں بارشوں کے سبب گو کہ کوالٹی کا نقصان ہوا ہے لیکن مقدار زیادہ متاثر نہیں ہوئی تاہم کپاس کی پیداوار۔نقصان کا اندازہ ستمبر کے آخر میں ہوسکے گا۔ہفتہ کے دوران صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ فی من 7700 تا 7900 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 3000 تا 3500 روپے رہا بنولہ اور کھل کے بھاؤ میں نسبتا کمی ہوئی جبکہ صوبہ پنجاب میں روئی سندھ کے نسبت کوالٹی میں بہتر ہونے کے سبب روئی کا بھاؤ فی من 8250 تا 8600 روپے رہا پھٹی کا بھاؤ 3400 تا 4000 روپے رہا بنولہ اور کھل کا بھاؤ کم ہوا لیکن طلب کی وجہ سے بھاؤ مستحکم رہا صوبہ بلوچستان میں روئی کا بھاؤ 8050 تا 8100 روپے پھٹی کا بھاؤ بڑھ کر فی 40 کلو 3800 تا 4000 روپے رہا۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 100 روپے کا اضافہ کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 8100 روپے کے بھاؤ پر بند کیا۔کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئر مین نسیم عثمان نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر کپاس کے کاشتکاروں کو رعایت دے کر کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔