مسئلہ کشمیر ٹویٹ کرنے سے حل نہیں ہوگا،عمران خان قومی پالیسی تشکیل دیں،لیاقت بلوچ

159
حیدرآباد: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ، پروفیسر ابراہیم خان، معراج الہدیٰ صدیقی ودیگر تربیتی اجتماع سے خطاب کررہے ہیں
حیدرآباد: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ، پروفیسر ابراہیم خان، معراج الہدیٰ صدیقی ودیگر تربیتی اجتماع سے خطاب کررہے ہیں

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ مودی حکومت نے کشمیر میں جو شر پیدا کررکھا ہے اس سے خیر برآمد ہوگا۔ ٹویٹ کرنے سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا۔عمران خان ایک اور یوٹرن لیتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر اتفاق رائے سے ایک قومی پالیسی تشکیل دیں ۔موجودہ حکومت ماضی کی روش پر چل رہی ہے۔ملک شدید اقتصادی بحران کاشکار ہے سود کی لعنت نے معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ جماعت اسلامی کے کارکنان مسئلہ کشمیر کو ہرسطح پر اجاگر کریں ۔وہ جماعت اسلامی حیدرآباد کی جانب سے منعقدہ ایک روز ہ تربیتی اجتماع سے مسجد قباء ہیر آباد میں خطاب کررہے تھے۔ اجتماع سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان سابق سینیٹر پروفیسر ابراہیم خان‘ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی‘ نائب امیر جماعت اسلامی سندھ حافظ نصر اللہ عزیز‘ عبدالوحیدقریشی‘ مجاہد بلوچ‘ امیر ضلع حافظ طاہر مجید‘مشتاق احمدخان ‘ شاہد شیخ ودیگرنے بھی خطاب کیا۔ لیاقت بلوچ نے مزید کہاکہ سیاسی لیڈروں کی کمزوری کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ ملک پر اپنا اثر رسوخ قائم کرلیتی ہے۔ پاکستان کلمہ کی بنیاد پر بنا تھا اور پاکستان کا متفقہ آئین قرآن وسنت کی بالادستی چاہتا ہے لیکن اب تک سیاسی قوتیں اور فوجی آمریتوں نے آئین کی روح پر عمل نہیں کیا جس کے باعث ملک اغیار کی چالوں کا شکار ہوتا گیا پھر ریاست مدینہ کی بات کی اللہ نے اقتدار دیا اور پہلی بار فوج وحکومت کو ایک پیج پر دیکھ کر عوام نے سکھ کا سانس لیا ۔لیکن ہر آنے والا دن عوام کے لیے مصائب پیدا کررہاہے۔ ملک میں بے حیائی‘ لاقانونیت عروج پر ہے ۔ملک معاشی اور اقتصادی بحران کا شکار ہے جو عوام کے لیے مشکلات پیدا کررہا ہے۔ پیدواری لاگت بڑھنے سے صنعتیں بند ہورہی ہیں۔ سودکی لعنت نے معیشت کو تباہ کردیا ۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک سے سود کا خاتمہ کیاجاتا، وفاقی شرعی عدالت کو واپس لایاجاتا،غیروں کے آگے کشکول اٹھانے کے بجائے اپنے تاجروں وصنعت کاروں کو مراعت دیکر معیشت کی بہتری کے لیے کام کیاجاتا تو پاکستان یورپ کا مریض بن کر نہیں عالم اسلام کے ماتھے کا جھومر بن کر چمکتا ۔آج ملک میں پہلے سے اسٹیلشمنٹ زیادہ طاقت ور ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ ممکن نہیں کہ کسی فرد واحد کے بدلنے سے پورا نظام ٹھیک ہو جائے۔ نظام کی تبدیلی کے لیے وہ ہی نظر یہ کارگر ہے جو مولانا موددی نے دیا کہ کارکنان سے لیکر لیڈر تک ایماندار، دنیا دار اور خدا ترس ہو ۔ایک عام کارکن یا فرد اٹھ کر لیڈر کا احتساب کرسکتا ہو۔ انہوںنے کہاکہ جماعت اسلامی ہی ملک کو بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ امریکانے افغانستان میں اربوں ڈالر جھونک دیے لیکن ناکام رہا ،یہ جتنے عرصہ وہاں رہے گا اس کی شکست بڑھتی جائے گی ۔امریکا کو افغانستان سے نکلنا ہوگا ۔آج خود واشنگٹن میں یہ آواز یں اٹھ رہی ہیں۔ امریکا کی کانگریس اور سینیٹ آئندہ انتخابات سے پہلے مجبور کردیں گے کہ افغانستان سے نکلنا پڑے گا ۔انہوں نے کہاکہ افغانستان میں طالبان نے اللہ پر بھروسا کیا اور اپنی قوتِ بازو پر اعتماد کرکے یکسوئی سے جہاد جاری رکھا ۔انہوں نے اقوام متحدہ اور او آئی سی سے اپیلیں کیں نہ کسی ملک سے مدد کی بھیک مانگی۔ آج امریکا افغانستان میں شکست سے دوچار ہو چکا ہے۔ وہ طالبان سے فیس سیونگ چاہتا ہے لیکن طالبان بھی ثابت قدم ہیں اور وہ اپنی شرائط پر ہی امریکا سے کوئی معاہدہ کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ جب امریکا اور طالبان کے مذاکرات جاری تھے تو مری میں افغانوں اور افغان حکومت کی کانفرنس نہیں بلانا چاہیے تھی ابھی وقت ہے کہ ہم صورتحال کو سمجھیں۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان میں بھارت اور اسرائیل امن نہیں چاہتے اور نہ ہی امریکا کی ایسی خواہش ہے لیکن امریکا خو د کو نقصانات سے بچانے کے لیے راستہ تلاش کررہا ہے۔ اس صورتحال سے پاکستان کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ حیرت ہے کہ اسفند یار ولی جیسے لوگ افغان حکمرانوں کے ترجمان بنے ہو ئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ کشمیر میں کرفیو کو35دن ہوگئے ۔کشمیری ظلم کا شکار ہیں اور پاکستان کی آمد کے منتظر ہیں لیکن وزیر اعظم محض ٹویٹ اور بیانات تک ہی محدد ہیں۔ کشمیر ٹویٹ کرنے سے آزاد نہیں ہوگا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزیر اعظم نکلتے ۔ایک ایک اسلامی ملک ‘ سلامتی کونسل سمیت ہر درواز ے پر انصاف کے لیے دستک دیتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوںنے کہاکہ جہاں خان صاحب نے سال بھر میں اتنے یوٹرن لیے ایک اور یوٹرن لیتے ہوئے قومی اتفاق رائے سے ایک پالیسی تشکیل دیں۔ ہمیں افغانستان کے حالات سے سبق سیکھنا چاہیے جس نے بے دینی وسائل پر بھروسا کرنے کے بجائے اللہ کے بھروسے پر بڑی طاقت کو شکست دی۔ انہوںنے کہاکہ مودی نے جو شر پیدا کیا ہے اسی سے انشاء اللہ خیر برآمد ہوگا لیکن حکومت اس کے لیے حکومت ‘ فوج اور قوم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکرآگے بڑھنا ہوگا ۔جماعت اسلامی حیدرآباد کے کارکنان مسئلہ کشمیر کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کریں ایک ایک گھر جائیں ۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان و سابق سینیٹر پروفیسر ابراہیم خان نے کہا کہ طالبان نے امریکا کے ناک میں نکیل ڈال دی ہے اور افغانستان نے ایک صدی میں تیسری سپر پاور امریکا کو بھاگنے پر مجبورکیا ہے ۔ طالبان اور امریکاکے مذاکرات معطل ہوئے ہیں اور اس کی معیشت کا بیڑا غرق ہوگیا ہے۔ تا ہم امریکا کے نکل جانے کے بعد افغانستان میں مختلف گروپوں کو ایک میز پر بیٹھنا ہو گا تاکہ وہاں پائیدار امن قائم ہو اور افغانستان کا امن پاکستان کے لیے ضروری ہے۔ کشمیر کے حوالے سے کہا کہ کشمیر کا حل صرف جہاد ہے حکومت جہاد کا اعلان کرے اس کے بعد اللہ کی مدد بھی آئے گی اور مسلمانوں کی مدد بھی آئے گی جب کہ میں یقین سے کہتا ہوں پاکستان جہاد کا اعلان کرے بھارت خود بخود پیچھے ہٹ جائے گا۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا ہے کہ خلفائے راشدین نے جدیددنیاکی بنیادڈالی اور دیکھتے ہی دیکھتے امن وخوش حالی نے دنیابھرمیں اپنااعتبارقائم کردیا۔پاکستان ،عالم اسلام اور دنیاکے حکمران آج بھی سیرت رسول ﷺ کامطالعہ کریں توحکومت کیسے کی جاتی ہے عوام کے دلوں پر راج کیسے کیاجاتاہے سیرت طیبہ ؐ سے معلوم ہوتاہے ۔انھوں نے کہاکہ پاکستان کے حکمران امریکا کے بجائے آقائے نامدارؐ کادامن تھام لیں توذلت ورسوائی کی جگہ عزت وشہرت بھی دامن تھام لے گی۔ نائب امیر جماعت اسلامی سندھ حافظ نصر اللہ عزیزنے کہا کہ دین اگر ہے تو صرف اسلام میں ہے۔ دین کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی گزارنے کا طریقہ جس نے اسلام کے مطابق اپنی زندگی گزاری وہ ہی اصل زندگی ہے۔ اور اگر کسی نے اسلام کے مطابق زندگی نہیں گزاری تو اللہ نے فرمایا میرے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں ۔ دین کی بنیاد کلمہ شہادت ہے۔امام حسین نے دین اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔مشکل حالات میں بھی قرآن کا ساتھ نہیں چھوڑا یہ ہی دین کا تقاضا ہے۔
جماعت اسلامی