محمد حسین محنتی ……(امیر جماعت اسلامی سندھ)

28

مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ 10 محرم الحرام 1441ھ کو ملک مگیر اور دینی مدارس کے طلبہ کی تنظیم ،جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان اقامت دین کی جدو جہد کے اپنے 46سال مکمل کرکے 47ویں سال میں داخل ہورہی ہے الحمدللہ دینی مدارس اور اسمیں پڑھنے والے طلبہ نے ہمیشہ اور ہر محاذپر ملک کی نظریاتی واور جغرافی سرحدوں کی حفاظت کی ہے ۔ جمعیت طلبہ عربیہ دینی مدارس میں پڑھنے والے طلبہ تنظیموں سے اس لیے ممتاز ہے کہ اس نے فرقہ ومسالک سے بالا تر ہوکر طلبہ میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے شوق کے ساتھ ساتھ اقامت دین کا حقیقی تصور اتحاد امت کا شعور اجا گر اور اغیار کی سازشوں سے آگاہ کرنے کا فریضہ سر انجام دے رہی ہے ۔ وطن عزیز سمیت پورا عالم اسلام آج ان مسائل سے دو چار ہے اس میں جمعیت طلبہ عربیہ کے کارکنان کی ذمہداریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھتی جاتی ہیں ۔کہ وہ اپنی پوری توجہ دینی علوم پر مرکوز رکھنے کے ساتھ ساتھ طلبہ کے اندر اتحاد ویگانگت اور اقامت دین کی جدو جہد کے لیے آگے بڑھ کر ہر ہر وقت تیار رہنے کے لیے دن رات ایک کرنا ہوگا تاکہ اغیار کی تمام سازشین ناکام اور بانی بانی پاکستان محمد علی جناح ایک اسلامی فلاحی اور جمہوری ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے ۔ جمعیت طلبہ عربیہ سندھ میں ایسے علماء کرام کی تیاری کا بھی اہتمام کرے جو کہ ایک گھٹا ٹوپ اندھیرے میں روشنی کی کرن عوام کو دینی شعور کی آگاہی اور جہالت و جاہلانہ رسومات کے خاتمے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کر سکیں کیوں کہ اسلامی پاکستان ہی خوشحالپاکستان کی ضمانت ہے۔