امیر العظیم (سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان)

36

مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان اپنا 44واں یوم تاسیس منا رہی ہے، یہ یوم تاسیس دسویںمحرم کے کو منایا جاتاہے، اگرچہ جمعیت طلبہ عربیہ کاکام دینی مدارس کے طلبہ میں ہے اور انہیںانقلاب اسلامی کے دستے میں شامل کرانے کی جہدوجہد کرنا ہے، لیکن دسویںمحرم کی مناسبت سے حق کے لیے آواز اٹھانے اور اس کی خاطر مشقت سہنے کی سنت بھی جمعیت طلبہ عربیہ کے حصے میں آئی ہے۔اس44سالہ سفر میں جمعیت طلبہ عربیہ کی آوازملک کے طول وعرض میں پہنچ چکی ہے ۔ مختلف انداز میں دین اور اسلامی تحریکوں پر حملے ہوتے رہے ہیں آج بھی دینی مدارس نشانہ ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ جمعیت طلبہ عربیہ دینی مدارس کے لیے بھی ایک مضبوط ڈھال ثابت ہوگی۔ جمعیت طلبہ عربیہ کا قیام جس زمانے میں عمل میں آیا تھا ۔ اس وقت مدارس جس طرح مسلکی تعصب کی آماجگاہ بنے ہوئے تھے اس میں کسی وابستگی کے بغیر اتفاق و اتحاد کے لیے آواز اٹھانا ایک مشکل کام تھا مگر جمعیت طلبہ عربیہ کے کارکنان نے جرأت و استقامت کے ساتھ اپنی دعوت کاعلم تھامے رکھا ۔ الحمدللہ اس کے نتیجے میں آج صورت حال یہ ہے کہ اس کے ہزاروں کارکنان نہ صرف ملک کے مختلف اداروں میں اپنے نصب العین کے لیے مصروف عمل ہیں بلکہ بیرون ملک بھی تحریکی حلقوں میں کلیدی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔یہ علماء جہاں بھی ہوں ، اتحاد کے علمبردار اور اخوت ومحبت کے ترجمان ہیں۔ اللہ جمعیت کے کارکنان کی کوششوں کو قبولیت بخشے اور دنیا وآخرت میں بہترین اجر عطا فرمائے ۔ (آمین )