سید منور حسن ……(سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان)

666

یہ جان کر خوشی ہوئی کہ الحمد للہ جمعیت طلبہ عربیہ 10محرم الحرام 1437؁ھ کو اپنا بیالیسواں یوم تاسیس منا رہی ہے ۔ میں دل کی گہرائیوں سے جمعیت طلبہ عربیہ کو ان کے یوم تاسیس پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
آج سے 44سال پہلے فرقہ واریت، مسلکی تعصبات اور فقہی اختلافات کو بنیاد بنا کر ملت اسلامیہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی مذموم کوششوں خاتمے ، اتحاد امت کی دعوت کو عام کرنے اور مدارس دینیہ کے طلبہ کو متحد ومنظم کرکے اقامت دین کی جدو جہد میں لگانے کے لیے ’’جمعیت طلبہ عربیہ‘‘ کے نام سے مٹھی بھر افراد نے جو پودا لگایا تھا ۔ آج الحمد للہ وہ ایک تناور درخت کی حیثیت اختیار کرچکا ہے ۔ اس لیے جمعیت طلبہ عربیہ کے کارکنان و ذمہ داران بجا طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے فرقہ پرستی اور مذہبی عصبیت کی زہریلی فضا میں اتحاد ویکجہتی اور محبت واخوت کا عملی نمونہ بن کر اپنے پیغام کومدارس عربیہ کے طلبہ تک پہنچایا ۔ الحمد للہ آج جمعیت اخوت اور اپنائیت کی پہچان بن چکی ہے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ جمعیت کی پرخلوص کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور اس میں بے پناہ برکت عطا فرمائے ۔آمین
میں اس موقع پر جمعیت کے کارکنان وذمہ داران کو پرزور نصیحت کروں گا کہ وہ اپنی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں ۔ نہ صرف یہ کہ انتہائی محنت ولگن سے تعلیم حاصل کریں بلکہ دین کے مختلف شعبوں میں اس طرح تخصص اور مہارت حاصل کریں کہ اپنے اسلاف کا قابل فخر نمونہ بن سکیں اور دور جدید کے نت نئے مسائل میں امت کو قرآن وسنت کی صحیح رہنمائی فراہم کر سکیں ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کا حامی وناصر ہو۔