ملکہ برطانیہ نے بلا معاہدہ بریگزٹ کا راستہ روک دیا

159
لندن: برطانوی پارلیمان کے اسپیکر جان بیرکاؤ اجلاس کے دوران مستعفی ہونے کا اعلان کررہے ہیں
لندن: برطانوی پارلیمان کے اسپیکر جان بیرکاؤ اجلاس کے دوران مستعفی ہونے کا اعلان کررہے ہیں

 

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم نے بلامعاہدہ بریگزٹ کو روکنے کے پارلیمانی بل کی منظوری دے دی۔ خبررساں اداروں کے مطابق یہ منظوری پیر کے روز دی گئی اور ان کی منظوری کے بعد بل قانون کا حصہ بن گیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ملکہ برطانیہ کی منظوری کے بعد برطانیہ بغیر معاہدے کے 31 اکتوبر کو یورپ سے انخلا نہیں کرپائے گا۔ ملکہ برطانیہ کی جانب سے بلامعاہدہ بریگزٹ بل کو روکنے کی منظوری کے بعد برطانوی پارلیمان کے اسپیکر جان بیرکاؤ مستعفی ہوگئے۔ اسپیکر اسمبلی کا کہنا تھا کہ بورس جانسن کے اقدام کا مقصد پارلیمان کو بریگزٹ منصوبے اور اس کی روشنی میں ملک کے راستے کی ذمے داریوں کو زیر بحث لانے سے روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان کو معطل کرنا جمہوری عمل اور عوام کے منتخب کردہ پارلیمانی نمایندوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کوربن نے بورس جانسن کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کی معطلی ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزاعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی اور انہیں عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا۔ ملکہ برطانیہ کے فیصلے کے بعد برطانوی وزیراعظم بورس جانسن 31 اکتوبرکو بغیر کسی معاہدے کے ملک کو یورپی یونین سے الگ نہیں کرسکیں گے اور بریگزٹ کو 31 اکتوبر کے بعد تک ملتوی کرنا ہوگا۔ خیال رہے کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا تھا کہ بریگزٹ معاہدے پر یورپی یونین سے مزید توسیع لینے سے بہتر ہے کہ میں گہری کھائی میں گر کر خودکشی کرلوں۔ 2016ء میں ایک ریفرنڈم میں 52 فیصد عوام نے بریگزٹ کی حمایت کی تھی۔