برٹش ائر ویز کے ملازمین کی ہڑتال ، 1700 پروازیں منسوخ

84

 

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) تنخواہوں کے معاملے پر اختلافات کے سبب برٹش ائر ویز کے پائلٹ 48 گھنٹوں کی ہڑتال پر چلے گئے، جس کے نتیجے میں ائر لائن نے تمام 1700پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔ برٹش ائر ویز نے اپنے پائلٹوں کی ہڑتال کے باعث پیر کے روز تقریباً تمام پروازیں منسوخ کر دیں۔ اس پیش رفت سے برطانیہ سے روانہ اور آنے والی تمام طے شدہ تمام پروازیں متاثر ہوئیں۔ دارالحکومت لندن کے ہیتھرو اور گیٹوک ہوائی اڈوں پر ہڑتال کے پہلے روز تقریباً ایک لاکھ 45 ہزار مسافر متاثر ہوئے۔ ائر لائن کی انتظامی کمپنی انٹرنیشنل ائر لائنز گروپ نے اس بارے میں جاری کردہ اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہیں اس بارے میں کوئی علم نہ تھا کہ کتنے پائلٹ ملازمت پر آئیں گے اور کتنے نہیں، اسی لیے انہیں تمام پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔ پروازیں منسوخ ہونے کی وجہ بننے والی ہڑتال کی کال برٹش ائر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن نامی مزدور یونین نے تقریباً 9 ماہ تک جاری رہنے والے مذاکراتی عمل کی ناکامی کے بعد دی ہے۔ برٹش ائر لائنز اور اس کے 4300 پائلٹ تنخواہوں کے حوالے سے ایک طویل تنازع میں گھرے ہوئے ہیں۔ مزدور یونین آیندہ 3 برسوں میں تنخواہوں میں ساڑھے 11 فیصد اضافے کی پیشکش مسترد کر چکی ہے۔ پیر اور منگل کو ہڑتال سے تقریباً 3 لاکھ مسافر متاثر ہوں گے۔ پائلٹوں نے 27 ستمبر کو دوبارہ ہڑتال کی دھمکی بھی دی ہے۔ اسی دوران پائلٹوں کی نمایندگی کرنے والی 2 دیگر یونینوں کا دعویٰ ہے کہ وہ 90 فیصد پائلٹوں کی نمایندگی کرتی ہیں اور انہوں نے ساڑھے 11 فیصد اضافے کو قبول کر لیا ہے۔