اسلامی جمہوریہ پاکستان کا میڈیا

115

 

 

لوگ اکثر یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ گزشتہ دس پندرہ برس میں پاکستان کے الیکٹرونک میڈیا نے اتنی زیادہ ترقی کی ہے جس کی مثال شاید ہی دنیا کے کسی ملک میں ملتی ہو۔ ایک تو یہی بات کہ لوگوں کے ذہن میں ترقی کا مفہوم کیا ہے؟، بہت اہم بات ہے اور دوم یہ کہ میڈیا کی یہ ترقی کیا ملک کی ترقی کا سبب ہے؟ کیا تہذیب کی ترقی کا سبب ہے؟ کیا لوگوں میں کسی مثبت رجحان کی ترقی کا سبب ہے؟ کیا ملک کی قومی زبان کی ترقی کا سبب ہے؟ کیا اخلاقی ترقی کا سبب ہے؟ اور کیا اسلامی تہذیب و تمدن کو فروغ دینے کا سبب ہے؟۔ جو پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور جس کے نام پر آج تک قوم سے قربانیاں مانگی جاتی ہیں اس پاکستان میں یہ کتنے المیہ کی بات ہے کہ بار بار لوگوں کو یہ توجہ دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جس نظریہ کو اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم کا مرکز مان کر اس ملک کو حاصل کیا گیا تھا آخر وہ خواب کب شرمندۂ تعبیر ہوگا۔
ہم جس کو میڈیا کی ترقی کہہ رہے ہیں کیا اوپر بیان کی ہوئی کسی ایک بات کی ترویج کے لیے بھی الیکٹرونک میڈیا کا کوئی کردار ہے؟۔ کیا اس کے پروگرام کسی نظریاتی ملک کے پروگرام لگتے ہیں؟، کیا اس میڈیا کے چینلوں کے ’’میزبان‘‘ مسلمان وضع قطع کے مالک لگتے ہیں؟، کیا ان کی گفتار، کردار، اٹھانا بیٹھنا، لباس اور ان کے سارے لچھن اسلامی روایات کی عکاسی کر رہے ہوتے ہیں؟۔ کیا ان کی قومی زبان وہی ہے جس کو اردو کہہ سکیں؟، کیا ان کی سرکاری زبان وہی ہے جس کو انگریزی کہا جا سکے؟، کیا دکھائی جانے والی خبروں یا کسی بھی پروگرام کے سلسلے میں دوڑتی بھاگتی سلائیڈز با محاورہ اردو کی نمائندہ ہیں؟، کیا ان میں املے کا خیال رکھا جاتا ہے۔ کیا سارا سارادن نشر ہونے والے پروگرام اس اخلاق کے نمائدے ہوتے ہیں جو اسلام کا شعار ہیں، کیا اشتہارات میں اسلامی کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہوتا ہے؟، کیا اخلاق باختہ اور فحش لباس ہمارے ملک کے کسی بھی کلچر کا عکاس ہوتا ہے؟۔ اگر سب کچھ ہماری تہذیب و ثقافت کے مطابق ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے الیکٹرونک میڈیا نے واقعی ترقی کی ہے اور یہ میڈیا قوم کو اسلامی اقدار کی جانب لیجانے کا ایک بہت انقلابی ذریعہ ثابت ہورہا ہے۔
ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ جو جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، جو جو کچھ ہمیں دکھایا جارہا ہے اس کا نہ تو ہماری کسی بھی مقامی تہذیب سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی کوئی ایک پروگرام اسلامی احکامات کا عکاس۔ فحش اور بیہودہ اشتہارات کی ایک بھر مار ہے جو اسلامی قابل احترام مہینوں میں بھی بند نہیں کیے جاتے۔ نعت ختم، نیم برہنہ خواتین کا اشتہار، منقبت ختم، ناچتی تھرکتی خواتین کے اشہارات، مجلس شام غریباں کے درمیان وہی بیہودگی، کسی اسلامی اسکالر کی بہترین گفتگو کے دوران وہی ننگی پتلیوں کے تھرکتے بدن۔ کیا یہی میڈیا کی پختگی اور ترقی کہلاتی ہے؟۔ میں حیران ہوں کہ وہ تما م لوگ، شرکائے محفل، علما، نعت گو، ذاکرین اور منقبت پڑھنے والے جو بطور مہمان مدعو ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ عملاً دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ عین اسلام ہے تو پھر وہ اپنے گھر والوں اور بہو بیٹیوں کو بھی وہی ’’پسندیدہ‘‘ لباس زیب تن کراکے اپنی ان مجالس میں بطور مہمان کیوں نہیں لے آتے تاکہ اس بات کو سند بنایا جا سکے کہ ایسا سب کچھ کرنے کی اسلام بھر پور طریقے سے اجازت دیتا ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جماعتیں جو ذرا ذرا سی بات پر لاکھوں افراد کو لیکر سڑکوں پر آجاتی ہیں، ان کا رخ کبھی میڈا سینٹر کی جانب نہیں ہوا۔ کبھی کسی میڈیا سینٹر کا گھیراؤ نہیں کیا گیا کہ وہ یہ سب اخلاق باختہ حرکتیں کب بند کرے گا۔ جب ملک کا یہ طبقہ میڈیا کی کسی بھی غلط روش کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کے لیے تیار نہیں تو پھر کسی اور کو کیا غرض ہو سکتی ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ یہ اور ایسے ہی دیگر سوالات کے جواب جاننے کے لیے کراچی کے بیچ لگژری ہوٹل میں ہونے والے دوسرے سندھ لٹریچر فیسٹیول (ایس ایل ایف) کے دوسرے روز 28 اکتوبر 2018 کو شام 4 بجے، ’’کیا میڈیا کو ایسا ہونا چاہیے‘‘؟ کے عنوان سے میڈیا پالیسی میکرز، صحافی و کالم نگاروں پر مبنی ایک نشست رکھی گئی۔ سیشن کے شراکت داروں میں سینئر صحافی حامد
میر، صحافی، لکھاری و جیو نیوز کے مینیجنگ ڈائریکٹر اظہر عباس، اخبار 92 نیوز کے کالم نگار عامر خاکوانی اور معروف سندھی نیوز چینل ’’کے ٹی این‘‘ کے ڈائریکٹر نیوز اشفاق آذر شامل تھے۔ ماڈریٹر وسعت اللہ خان اور سیشن دیکھنے والے افراد کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے جیو نیوز کے ایم ڈی اظہر عباس نے تسلیم کیا کہ اگرچہ پاکستان کا میڈیا بہت زیادہ بہتر صورتحال میں نہیں، تاہم یہ اتنا بھی خراب نہیں کہ صرف اس کی برائیاں کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ پاکستانی میڈیا صرف فالتو، غیر ضروری یا نان ایشوز پر خبریں چلاتا اور پروگرام کرتا ہے، تاہم ایسا بھی نہیں کہ میڈیا میں غیر ضروری چیزیں نہیں ہو رہی۔ ان کے مطابق ان کی نظر میں پاکستان کی مجموعی قومی میڈیا میں بہت ساری ایسی چیزیں بھی ہو رہی ہیں، جو نہیں ہونی چاہئیں۔ حامد میر کی جانب سے پاکستانی میڈیا کو ’’نام نہاد قومی میڈیا‘‘ کہے جانے پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا، جس پر انہوں نے کہا کہ یہ تالیاں بجانے نہیں بلکہ افسوس کا مقام ہے کہ ’قومی زبان کا میڈیا نام نہاد‘ بن چکا ہے۔ حامد میر نے ’نام نہاد میڈیا‘ کے حوالے سے دلیل دی کہ پاکستان کے قومی میڈیا کے پاس کوریج کے لیے دیگر کئی مسائل ہیں، جس وجہ سے وہ صوبائی مسائل پر زیادہ توجہ نہیں دیتا، اور صوبوں کے لوگ بھی زیادہ تر اردو میڈیا دیکھنے کے بجائے مقامی میڈیا کو دیکھتے ہیں، جس وجہ سے اردو میڈیا اور صوبوں کے عوام میں فاصلے پیدا ہوگئے ہیں، اور یہ فاصلے صرف میڈیا کی وجہ سے نہیں بلکہ ان میں سیاستدانوں اور ملک کی طویل سیاسی و آمریت کی تاریخ کا بھی ہاتھ ہے۔ حامد میر نے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی میڈیا کے لیے ملک میں کئی ’نو گو ایریاز‘ ہیں۔ انہوں نے مثال دی کہ پاکستان کا قومی میڈیا فاٹا کی کوریج نہیں کرسکتا، اسی طرح قومی میڈیا کو بلوچستان میں بھی کوریج نہیں کرنے دی جاتی، آزاد کشمیر و گلگت بلتستان سمیں بھی قومی میڈیا کے لیے نو گو ایریاز ہیں۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ اگر سندھ کی بات کی جائے تو یہاں پر ’مسنگ پرسن‘ کا معاملہ حساس ہے، پہلے تو یہاں اس موضوع پر پروگرام کرنے نہیں دیا جائے
گا، اور کرنے بھی دیا گیا تو ایک ہی پروگرام کرنے کی اجازت ہوگی، لیکن اگر کوئی ضد کرکے اسی معاملے پر مسلسل 2 سے 3 پروگرام کرے گا تو اسے نتائج برداشت کرنا پڑیں گے۔ حامد میر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کا میڈیا بعض اہم مسائل پر اس طرح کام نہیں کرتا، جس طرح اسے کرنا چاہیے، حالانکہ ان مسائل پر بات کرنے سے کوئی روک ٹوک نہیں۔ حامد میر نے باتوں ہی باتوں میں ملک کی دیگر بڑی زبانوں کو بھی قومی زبان قرار دینے کے معاملے پر سیاستدانوں کو آڑے ہاتھوں لیا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نہ تو پارلیمنٹ مکمل طور پر خود مختار ہے، اور نہ ہی عدالتیں اور میڈیا آزاد ہے۔
اس موقع پر ماڈریٹر وسعت اللہ خان کی جانب سے سوالات پوچھے گئے کہ ایک ہی ملک کا میڈیا ہونے کے باوجود سندھی اور اردو میڈیا میں اتنا تضاد کیوں ہوتا ہے، اگر دونوں زبانوں کے میڈیا کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ سندھی میڈیا کسی اور جب کہ اردو کسی اور ملک کا میڈیا ہے۔ اندرون سندھ کے معاملہ پر افسانہ اور ڈراما نگار و سابق قائم مقام وزیر اطلاعات سندھ نورالہدیٰ شاہ نے سوال اٹھایا کہ اردو میڈیا میں ’’کراچی اور اندرون سندھ‘‘ کی اصطلاح کس نیت کے تحت استعمال کی جاتی ہیں اور اس جملے کو استعمال کرنے والے ’کراچی اور اندرون سندھ‘ کی بارڈر لائن کہاں کھینچتے ہیں؟
اس فیسٹیول میں ہونے والی باتوں سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارا میڈیا کتنا آزاد ہے۔ میڈیا کے نمائندوں کی گفتگو سے اس بات کا اندازہ تو ہو ہی گیا ہوگا کہ وہ کتنا بول سکتے ہیں، کہاں جا سکتے ہیں اور کون کون سے علاقے ان کے لیے ’’نوگو ایریاز‘‘ ہیں۔ اس بات کا اندازہ بھی ہو گیا ہوگا کہ ان سب کو اس بات کی کوئی فکر ہی نہیں کہ دکھائے جانے والے پروگرام اور اشتہارات، میزبانوں کے لباس، حلیے اور لچھن کس حد تک نظریہ پاکستان سے ہم آہنگ ہیں۔ کسی نے بھی اس سلسلے میں نہ تو تشویش کا اظہار کیا اور نہ ہی سوال کرنے والوں کے نزدیک یہ سب باتیں قابل ذکر سمجھی گئیں۔ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا بہت بڑا اور سنگین المیہ ہے، میں اس معاملے میں صرف اتنا ہی عرض کرسکتا ہوں کہ
وائے ناکامی متاعِ کرواں جاتا رہا
کاررواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا