نالوں کی صفائی مسئلے کا حل نہیں ، شہر سے کچرا صاف کرنا ہوگا، مئیر

86

 

کراچی(اسٹا ف رپورٹر)میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ نالوں کی صفائی کراچی کا مستقل حل نہیں ہے یہاں سب سے پہلے کچرے کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے، وفاقی وزیر علی زیدی نے جو نالوں کی صفائی کا کام کیا وہ عارضی تھا اب پھر نالوں کی وہی صورتحال ہو گئی ہے، پارٹی سے ہٹ کر اگر کراچی میں ترقیاتی کام کیے جائیں گے تو کراچی بہتر ہو گا،کراچی میں سیوریج کا انفرااسٹرکچر مکمل طور پر نیا بنانے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ اس کا کوئی حل نہیں،کراچی سے بدعنوانی کو ختم کرنا ہے تو اس نظام کو مکمل طور پر بدلنا ہو گا اور اصولوں سے ہٹ کر کچھ کام کرنے ہوں گے، اگر اسی طرح کا نظام چلتا رہا تو کراچی مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا۔ صحا فیوں سے خصوصی گفتگوکرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ کراچی پر تمام سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے عزائم ہیں اور کوئی ایک دوسرے کی مدد نہیں کرنا چاہتا۔ صرف بیانات کی حد تک سب ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کراچی سے کسی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں ڈی ایم سی اور کے ایم سی کے ملازمین کا استعمال درست نہیں ہو رہا۔ کراچی کو 6 اضلاع میں تقسیم کیا گیا جس کا بجٹ بھی تقسیم ہو گیا۔ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ بنایا گیا جس میں اضلاع کو اختیار دیا گیا کہ وہ اس بورڈ میں آنا چاہیں تو آئیں۔ اگر ان کی مرضی پر ہی رکھنا تھا تو بورڈ کیوں بنایا گیا۔کراچی کے کچھ ادارے سندھ حکومت کے دائرہ اختیار میں ہیں۔ کے پی ٹی، سول ایوی ایشن، ریلویز، کنٹونمنٹ بورڈز سمیت دیگر اداروں کو مختلف مقامات کا اختیار دیا گیا ہے وہ میئر کراچی کے اختیار میں نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی کا اصل بجٹ 16 ارب روپے کا ہے۔ جو اتنے بڑے شہر کے لیے ناکافی ہے۔ کراچی کے 16 اسپتال کی مرمت اور دیکھ بھال مجھے دی ہوئی ہے لیکن اس کے پیسے نہیں دیے ہوئے جبکہ کئی ایسے کام جو میئر کراچی کے کرنے کے ہیں وہاں سندھ حکومت کام کر رہی ہے۔وسیم اختر نے کہا کہ فائر بریگیڈ کی انتہائی خراب صورتحال ہے جس کے لیے ہم نے وفاقی حکومت کو بھی لکھا ہے اور امید ہے کہ ہمیں فائر بریگیڈ کی 50 گاڑیاں وفاق سے مل جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ہمارا پورا نظام ہی کرپٹ ہے لیکن اسے میں جہاں تک روک سکتا ہوں روکنے کی کوشش کر رہا ہوں جسے روکنا ناممکن ہے کیونکہ ہر ہر سطح پر کرپشن ہو رہی ہے۔ وسیم اختر نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے حکم پر ہمیں نالوں کی صفائی کے لیے 50 کروڑ روپے ملے تھے جسے ہم نے پورا سال استعمال کیا اور 38 نالے صاف کیے تھے ۔