حجاب میں تحفظ ہے

38

شہلا خضر ناظم آباد
امی دیکھیں نا بھائی کو کب سے کہہ رہی ہوں کوچنگ سینٹر چھوڑ آئیںمجھے دیر ہورہی ہے ۔ میری کلاس کا وقت ہو رہا ہے۔ مگر بھائی چل ہی نہیں رہے ۔
پندرہ سالہ صنوبیہ بلیک ٹرا ئوزر ، پرنٹڈ ریڈ اور بلیک پھولدار شارٹ شرٹ اور “ہائی پونی” میں کسی باربی گڑیا جیسی لگ رہی تھی ۔ تیز تیز قدموں سے چلتی باورچی خانے میں اپنی والدہ خالدہ بانوکے پاس بھائی کی شکایت لے کر پہنچی۔ خالدہ بانو شام کی چائے بنانے میں مصروف تھیں ۔ وہ ایک سادہ گھریلو خاتون تھیں ۔ ان کے شوہر امجد صاحب ایک پرائیوٹ کمپنی میں چارٹرڈ اکائونٹنٹ تھے ۔ گھر میں آسودگی کا راج تھا ۔ دونوں اولادیں پندرہ سالہ صنوبیہ اور سترہ سالہ شارق ہی ماں باپ کی تمام تر محبتوں اور توجہ کے مرکز تھے ۔
شارق بارہویں جماعت کا ذہین طالب علم تھااور تعلیم کے علاوہ دیگر غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش تھا ۔ اسکی بہترین کارکردگی ہی کی وجہ سے اسے کالج کا ہیڈ بوائے بھی سلیکٹ کیا گیا تھا۔ صنوبیہ میٹرک سائنس کی طالبہ تھی اور چند ماہ بعد اسکے بورڈ کے پیپرز ہونے والے تھے لہٰذا باقی سہیلیوں کی طرح اس نے بھی نزدیکی کوچنگ سینٹر میں داخلہ لے لیا تا کہ امتحانات کی بہترین تیاری کرسکے ۔
شارق بیٹا کیوں ستارہے ہو بہن کو اسکی بہت اہم کلاس ہے ۔ لیکچر شروع ہونے والا ہے ۔ جلدی جائو بیٹا بہن کو وقت پر چھوڑ کر آئو ۔ خالدہ بانو نے باورچی خانے ہی سے آواز لگائی ۔ شارق جو کہ ٹی وی لائونج میں آرام سے صوفے پر نیم دراز تھا ، ماں کی آواز سن کر لپک کر ماںکے پاس باورچی خانے پہنچا ۔
امی میں نے کہہ دیا ہے کہ جب تک صنوبیہ عبایا نہیں پہنے گی میں اسے کوچنگ نہیں لے کر جائوں گا ، مجھے اچھا نہیں لگتا جب لڑکے اسے گھورتے ہیں ۔ میرے ساتھ چلنا ہے تو عبایا پہننا ہوگا ۔ ـشارق نے فیصلہ کن لہجے میںکہا ۔ واہ بھئی یہ کیا بات ہوئی ؟ مجھے نہیں پہننا عبایا وبایا، میں ابھی بہت چھوٹی ہوں ۔ جو لڑکیاں عبایا پہن کر آتی ہیں سب انہیں “بہن جی” اور “باجی جی” کہہ کر مذاق اڑاتے ہیں ۔ صنوبیہ منہ بسورتے ہوئے بولی ۔
طبعیت اور مزاج میں بے انتہا شوخی اور کھلنڈرا پن ہونے کے باعث صنوبیہ کسی طور پر یہ ماننے کو تیار نہ تھی کہ وہ اب بڑی ہوچکی ہے اور یہ کہہ کر اسے اپنے بچپن کے طور طریقوں کو بدلنا چاہئے۔ خالدہ بانو کبھی کبھی تو سمجھانے کی کوشش کرتیں مگر پھر اکلوتی بیٹی کی محبت میں ہتھیار ڈال دیتیں ۔ بیٹی کی آنکھوں میں امڈتے آنسوئوں کو دیکھ کر ان کا دل نرم پڑ گیا اور شارق سے قدرے خفگی سے بولیں ، ارے بھائی ضد نہ کرو جائو جلدی اسے چھوڑ آئو وہ ٹھیک ہی کہہ رہی ہے ۔ اگر سبھی کلاس فیلوز مذاق اڑائیں گے تو وہ دھیان سے اپنی کلاس میں پڑھ نہیں پائے گی اور امتحانات پر اسکا اثر پڑے گا ۔ ابھی تم اسے لے جائو ، امتحانات سے فارغ ہونے کے بعد ہم اس ٹاپک پر اطمینان سے بات کریں گے ۔
شارق بہت فرمانبردار لڑکا تھا وہ ماں کے حکم کو ٹال نہ سکا اور چپ چاپ چلنے کو را ضی ہو گیا ۔ صنوبیہ کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور وہ جھٹ سے اپنا چھوٹا سا ” بیک ہینگنگ”بیگ اور موٹا سا رجسٹر لے کر دوڑ کر بھائی کی موٹر سائیکل پر بیٹھ گئی ۔ شارق کا موڈ سخت خراب تھا ۔ وہ ماں کے حکم پر کوچنگ سینٹر چھوڑنے تو جا رہا تھا مگر پورے راستے صنوبیہ سے ایک لفظ بھی بات نہ کی ۔ ابھی کوچنگ سینٹر سے چند گلیاں دور ہی تھے کہ اچانک موٹر سائیکل کا ٹائر پنکچر ہو گیا ۔ شارق نے موٹر سائیکل روکی اور مین روڈ سے ہٹ کر کنارے پر کھڑی کردی ۔ آس پاس کو ئی پنکچر کی دکان بھی نظر نہ آرہی تھی ۔
گرمیوں کے دن تھے شام کے چار بجنے والے تھے مگر سورج کی حدت ابھی تک تیز تھی ۔ کچھ ہی دیر میں دونوں کے پسینے چھوٹ گئے ۔ صنوبیہ تو ویسے ہی کچھ زیادہ ہی نازک مزاج تھی ۔ اسکے گال ٹماٹر جیسے لال ہوگئے ۔ ہر آتی جاتی گاڑی اور موٹر سائیکل سواروں کی گھورتی نگاہوں سے صوبیہ بے انتہا نروس ہو رہی تھی ۔ شارق نے موبائل نکال کر اپنے دوستوں کو بلوالیا اور انہیں اپنی لوکیشن بھجوادی۔ اتنے میں چند کار پر سوار نوجوان وہاں سے گزرے اور وہ اس طرح دونوں کو پریشانی کے عالم میں کھڑا دیکھ کر قریب ہی چلے گئے اور گاڑی ان کی موٹر سائیکل کے آگے ہی لگادی ۔
تین نو جوان جو کہ حلیےہی سے لوفر ٹا ئپ نظر آرہے تھے گاڑی سے بر آمد ہوئے ۔ “باس کیا کوئی پرابلم ہو گئی ہے۔ ہم آپ کی کو ئی مدد کرسکتے ہیں کیا ـ”؟ ان میں سے ایک لڑکے نے بڑی اپنائیت سے کہا ۔ “نہیں آپ کا شکریہ میں نے فون کردیا ہے کچھ ہی دیر میں میرے دوست آنے والے ہیں مدد کیلئے “۔ شارق نے قدرے سختی سے کہا
ارے باس آپ تو تکلف کر رہے ہیں ، ہم بھی تو آپ کے اپنے ہی ہیں ۔ ان میں سے ایک لڑکے نے آنکھ مارتے ہوئے شارق سے کہا ۔ وہ خوامخواہ ہی فری ہورہے تھے حالانکہ شارق انہیںجانتا ہی نہیں تھا۔ باتوں باتوں میں وہ ان دونوں کے بالکل قریب آگئے ۔ صوبیہ کے چہرے پر گرمی اور خوف سے پسینے بہہ رہے تھے ۔ “بھائی کتنی دیر لگے گی جلدی بلوائیں اپنے دوستوں کو “۔ ان لڑکوں کے اس طرح پریشان کرنے پر وہ اکتا کر بولی ۔
ان آوارہ لڑکوں میں سے ایک جو شاید ان کا لیڈر لگ رہا تھا آگے بڑھ کر رومال نکال کر صنوبیہ کو دیتے ہوئے بولا، دیکھیں کتنی پریشانی ہورہی ہے “گڑیا”کو ۔ آئو گڑیا ہماری گاڑی میں بیٹھ جا ئو جب تک کہ مو ٹر سا ئیکل ٹھیک نہیں ہو جاتی۔ “او بھائی کیا مسئلہ ہے تمہارا کیوں خوامخواہ گلے پڑ رہے ہو، تمہیں کہہ دیا نا کہ نہیں ضرورت تمہاری مدد کی جا ئو اپنا راستہ ناپو “۔ اب تو شارق بھی ان لڑکوں کی بے جا مداخلت کرنے سے بہت ڈسٹرب ہورہا تھا اور اسکا چہرہ غصے سے تمتمانے لگا ۔
“اتنی تکلیف ہو رہی ہے تو پردے میں کیوں نہیںرکھتا اپنی بہن کو اتنے “خوبصورت پیس ـ “کو دیکھ کر تو کسی کی بھی نیت خراب ہوسکتی ہے “۔ اتنا کہہ کر اس لوفر نے صنوبیہ کاہاتھ پکڑا اور گاڑی کی طرف گھسیٹنے لگا ۔صوبیہ کے اوسان خطا ہوگئے ۔ شارق بجلی کی تیزی سے لپکا اور لاتوں اور گھونسوں سے اس لڑکے کی پٹا ئی شروع کردی۔ اس کے ساتھی بھی پیچھے نہ رہے اور وہ بھی اسے بچانے دوڑے ۔ شارق اکیلا تھا اور وہ تین تھے ۔ چند ہی منٹوں میںشارق کو چت کردیا اور وہ اوندھے منہ زمین پر گر گیا۔
صنوبیہ کی ڈر کے مارے سٹی گم ہوچکی تھی اور اس نے مدد کیلئے چیخنا چاہا تو حلق سے آواز ہی نہ نکلی ۔ اسی اثنا ء میں شارق کے دونوں دوست وہاں پہنچ گئے ۔ انہوں نے جو یہ صورتحال دیکھی تو فوراً ان غنڈوں کو للکارا ۔ شور شرابہ سن کر کچھ راہگیر بھی جمع ہوگئے ۔ بھیڑ اکٹھی ہو تے دیکھ کر وہ غنڈے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر رفو چکر ہوگئے ۔
شارق بری طرح زخمی ہو چکا تھا ۔ اس کے دوستوں نے مل کر ٹیکسی میں بٹھایا اور قریبی ہسپتال لے کر پہنچے۔ صنوبیہ نے بھائی کے فون سے والد کو بھی اطلاع کر کے بلوالیا ۔ اللہ نے بڑا کرم کیا کہ کوئی بڑی اور گہری چوٹ نہ تھی ۔ ڈاکٹروں نے مرہم پٹی کرکے چھٹی دے دی ۔ یوں صنوبیہ اپنے بھائی اور والد کے ساتھ خیریت سے گھر پہنچی ۔
خالدہ بانو نے شکرانے کے نفل پڑھے اور بچوں کا صدقہ دیا ۔ اس پورے واقعے نے صنوبیہ کے ذہن پربہت گہرا اثر چھوڑا ۔ ان غنڈوں کے الفاظ اس کے ذہن میں بار بارآتے رہے اور اسے پہلی بار یہ احساس ہوا کہ واقعی اب میں بڑی ہو چکی ہوں اور یہ کہ مجھے اپنے انداز اور لباس میں تبدیلی لانی چاہئے ۔
اب اسے یہ اندازہ ہو چکا تھا کہ اگر وہ بھائی کی بات مان لیتی اور حجاب کو اپناتی تو وہ ان غنڈوں اور ان جیسی گندی نگاہوں والے سینکڑوں لوگوں کی نگاہوں سے خود کو محفوظ کرسکتی ہے ۔ حجاب تو ایک حفا ظتی ڈھال ہے جو ہمیں تحفظ اور پاکیزگی کا احساس دلاتا ہے ۔ “اگر اس دن میں با حجاب ہو تی تو وہ غنڈے میری طرف پلٹ کر بھی نہ دیکھتے ۔ کیونکہ حجاب کے حصار میں ہماری خوبصورتی اور دلکشی چھپ کر محفوظ ہو جا تی ہے “۔ اس احساس کے جاگتے ہی سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے اور پھر اپنے بھائی سے معافی مانگی کیونکہ وہ اپنی ضد اور کم عقلی پر بہت شرمندہ تھی۔
“امی جان آپ آج ہی مجھے ایک عدد عبایا لاکر دیں ۔ میں اب گھر سے باہر کبھی بھی بغیر حجاب کے نہ جائوں گی “صنوبیہ نے پورے عزم کے ساتھ ماں کو کہا ۔ “شاباش میری بیٹی اللہ پاک تمہیں استقامت عطا کرے ۔ رب کائنات اورپیارے نبیؐ نے بھی عورت کی قیمتی موتی سے تشبیہہ دی ہے کیونکہ ہمیں خود کو کسی قیمتی موتی ہی طرح دنیا کی میلی نگاہوں سے بچا کے رکھنا ہوگا ۔صنوبیہ ماں کے سینے سے لگ گئی اور خالدہ بانونے خوشی سے بیٹی کا ماتھا چوم لیا ۔