عصر حاضر میں مسلمان عورت کا حجاب

59

سارہ احسان
گزشتہ کئی برسوںسے مختلف اسلامی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی عالمی یوم حجاب کو منانے کا اہتمام کیا جا تاہے جس کا مقصد حجاب کا استعمال کو عام کرنا نہیں بلکہ اس کی اہمیت اور افادیت کو بھی اجاگر کر نا ہے۔اس دن پرہربا حجاب عورت اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ حجاب اسلام کا عطا کردہ معیار عزت و عظمت ہے۔ حجاب ہمارا حق ہے یہ کوئی پاپندی یاجبرکی علامت نہیں بلکہ حکم خداوندی ہے اوراس کا پسماندگی اور دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ہمارا فخروقار ہے۔دوسری یہ بات کہ ہم سب حجاب مخالف پروپیگنڈا ،با حجاب خواتین کے ساتھ مذہبی امتیازی سلوک اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنے کے خلاف مل کر اپنا احتجاج ریکارڈ کر وا سکے تا کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے حجاب پر عائد پاپندی کا قانون ختم کر وایا جا سکے ۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں جہاں بھی خواتین حجاب لینے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہی ہے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کر سکیں اور انکو یہ یقین دلا سکے کہ وہ اکیلی نہیں ہم ان کے ساتھ ہے۔ ہرگزرتے سال کے ساتھ ساتھ یہ دن منانے والوں کی تعداد میں کئی گنااضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جب کہ بے شمار ایسی خواتین جو باقاعدہ حجاب نہیں کرتیں اس دن کی مناسبت سے آئندہ مستقبل میں با حجاب رہنے کا عہد کرتی ہیں۔ شاید اسی لیے دنیا بھر کی خواتین میں حجاب کی مقبولیت بھی تیزی سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔اس دن کی مناسبت سے ملک کے بڑے شہروں میں سیمنار، مذاکرے اور فورم منقعدکیے جاتے ہے اورمیڈیا پر بھی خصوصی پروگرامات، ٹاک شوز اور خاص طور پرمارنگ شوز نشرہوتے ہیں۔
اگر تاریخ پر نظر ڈالیں مغربی تہذیب کی یلغار میںبہت سے ممالک نے حجاب پر پاپندی عائد کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے آئندہ بھی انھیں ناکامی کا ہی سامناکرنا پڑے گا۔ مغربی ممالک میں عورت کو حجاب لینے پر پاپندی لگانا ان کے ساتھ زیادتی ہے۔گزشتہ کچھ برسوںسے مغربی معاشرہ میںبڑھتی ہوئی دینی بیداری، شعور
اور حجاب کے بڑھتے ہوئے استعمال سے مغربی ذرائع ابلاغ کا فی خوف زدہ نظرآرہے ہیں۔سب سے پہلے فرانس میں حجاب پر پاپندی عائد کی گئی پھر ہالینڈ، جرمنی، ڈنمارک ، اٹلی ، بیلجیم اور دیگر ممالک میںبھی حجاب پر پاپندی عائد کی جا رہی ہے۔ حجاب کے خلاف کہیں پارلیمنٹ میں قانون سازی ہو رہی ہے تو کہیں جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔ باحجاب طالبات پر تعلیم اور ملازمت کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔ہوائی اڈوں پر بے توقیر کیا جا رہا ہے اور بازاروں میں توہین آمیز سلوک کیا جا رہا ہے۔ مغرب کے منافقانہ طرز عمل کے باوجود لوگ اسلامی تعلیمات کی طرف راغب ہو رہے ہے اور نو مسلموں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے ہمارے سامنے مریم جمیلہ، ایوان رڈلے سمیت درجنوں نام ہے جہنوں نے مغربی معاشرے میں رہتے ہوئے اپنی معاشرتی اقدار سے بغاوت کی اور اسلام کے دامن آغوش میں پناہ لی اور حجاب لیا۔
آج کے دور میں زیادہ تر خواتین خوبصورت اورپرکشش حجاب لیے نظر آتھی ہے جسے حجاب کامغربی ایڈیشن کہا جائے تو غلط نہیںہوگا۔ حجاب کا مغربی ایڈیشن بڑے پرکشش اور غیر محسوس انداز سے ہماری نوجوان نسل میں متعارف کروایا جا رہا ہے جواسلامی اور مغربی تہذیبوں کا امتیاز ہے جس میں جسم پر تنگ اور چست لباس پہنا ہوجو ہمارے اسلامی لباس کے آداب کے برعکس ہے مگر سر ڈھا پا ہوا اورجوور سینہ ننگا ہوایسی خواتین دو تہذیبوں کی کشمکش کا شکار نظر آتی ہے۔ سورۃ نور کی آیت نمبر ۳۱ میں لکھا ہوا ہے” اور اے نبیﷺ مومن عورتوں سے کہہ دیں کہ اپنی نگاہیں بچا کر رکھیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بنائو سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے جو خود ظاہر ہو جائے اور اپنے سینوں پر اپنی چادروں کے آنچل ڈالے رکھیںــ”۔قرآن میں واضح حکم آگیا ہے پھر ایسے حجاب کا کیا فائدہ جس میں سر ڈھکا ہوا ہو مگر بدن نمایاں طور پر نظر آرہا ہوں۔ آفیسز میں بھی کثیر تعداد با حجاب لڑکیوں کی ہوتی ہے لیکن وہ حجاب کے احترام کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتی۔ ہمارے ملک پاکستان میں بھی اب مغربی ممالک کی طرح معاشی و معاشرتی سرگرمیاں اور ترقی کا کوئی کام اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک عورت حجاب سے باہر نہ آجائے۔ہم نے دنیا میں کہنے کو معاشی ترقی تو حاصل کر لی لیکن اپنی اقتدار کو تباہ و برباد کر دیا ہے معاشروںکے اندر خاندانی استحکام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ہے۔ مرد کی سربراہی ختم ہوئی، عورت آزاد ہوئی، گھر سے باہر نکلی، پردے کی حدودقیود
توڑ ی، ہوس ناک نگاہوں کا شکار ہوئی، جنسی بے راہ روی حد سے بڑھی اور اب عالم یہ ہے کہ ہر تیسری شادی کا انجام طلاق پر ہو رہاہے۔ببچے ڈیپریشن کا شکار ہو رہے ہیں اور ان میں خودکشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ عورت جب شوہر کی قوامیت کا سائبان چھوڑ کر اور بے حجاب ہو کر باہر نکلی تو خود مغربی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق ہر چوتھی عورت بوائے فرینڈ اور شوہر سے پٹتی ہے۔ آج بھی عورت کے تقدس کو بری طرح پامال کیا جا رہا ہے ۔ کبھی اس کو اشتہارات کی زینت بنایا جاتا ہے، کبھی اسکی خوبصورتی کو تجارتی مقاصد یا محفل میں کمرشل کموڈتی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اب سڑکوں اور جلسوں میں عورتوں کا بھنگڑا کلچر کی بھی ابتدا کر دی گئی ہے ۔ہم عموماً اپنی قیمتی اشیاء کو ہمیشہ دوسروں سے چھپا کر پردے میں رکھتے ہیں تاکہ اسے بیرونی اثرات سے محفوظ رکھا جا سکیں اور اسکی قدروقیمت میں کوئی کمی نہ آئے۔ اسی طرح عورت بھی ایک بہت قیمتی چیز ہے اسکو سیپ میں بند قیمتی موتی سے تشبیہ دی جاتی ہے پھر کیسے کوئی عورت اپنے آپ کو بے پردہ کر کے سرعام نکلتی ہے اور اپنی اہمیت اور قدرو قیمت کو خود کم کرواتی ہے۔ ایک با حجاب عورت کے شوہر کو معلوم ہے اسکی بیوی کا سارا حسن صرف اسی کے لیے ہیں تو اس شوہر کے دل میں اپنی بیوی کے لیے کتنی محبت اور عزت و احترام ہو گا جس کی وجہ سے ان کا خاندانی نظام مستحکم ہو گا۔
ہمارے معاشرے میں ایک مخصوص طبقے کا کہنا ہے کہ حجاب عورت کی ترقی کی راہ میں بڑی روکاوٹ ہے اس لیے وہ اسے پسند نہیں کرتے اور یہ بھی کہ عموماً باحجاب لڑکیاں و خواتین کو کم پڑھی لکھی بلکہ جاہل تصور کیا جاتا ہے اور وہ موجودہ درمیںدرپیش چیلنجزو مسائل کا ڈٹ کے مقابلہ نہیں کر سکتی کیونکہ وہ احساس کمتری کا شکار ہوتی ہیں اور ان کے اندر صلاحتیں اور خود اعتمادی کا فقدان بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے انھیں اچھی ملازموں کے لائق نہیں سمجھا جاتاکیونکہ وہ اس ماحول میں ایڈجسٹ نہیں ہو سکتی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے رشتے اچھے اور پڑھے لکھے خاندان سے نہیں آسکتے، نہ ہی آج کے دور کے لڑکے ا ن جیسی کو اپنا شریک حیات بنانا چاہتے ہے ۔حالانکہ ہمارے ملک میں حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے ، تقریباًاسی فیصد لوگ با حجاب عورت کو پسند کرتے ہے ا نہی سے شادی کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں انکو عزت و احترام دیتے ہے اوران پر گندی نگائیں نہیں ڈالتے۔ حال ہی میں پاکستانی شوبزسے وابستہ کچھ لڑکیوں نے واپس دین کی طرف رغبت اختیار کی ہے اور حجاب لیناشروع کر دیا ہے جس میں سارہ چوہدری کا نام سر فہرست ہے پھرعروج ناصر اور ستائیش خان یہ بہت مثبت قدم ہے اور باقی لڑکیوں کے لیے مشعل راہ بھی ہے۔ شعبہ صحافت سے وابستہ عصمہ شہرازی، فریحہ ادریس اور مہربخاری سرڈھاپ کر ٹاک شوز کرتی جس سے ان کی شخصیت مزیدپرکشش نظر آتی ہے۔نئے وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بھی ایک باپردہ خاتون ہے جو کہ ہمارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خاتون اول ہیں۔ نجی چینل پر نشر ہونے والا ڈرامہ سیریل” میرا رب وارث” جس کو لوگوں نے بے حد پسندکیا کیونکہ اسکی کہانی بھی ایک باحجاب لڑکی کے اردگرد گھومتی ہے کس طرح وہ باحجاب ہو کر ایک کامیاب زندگی گزار رہی ہے اور زندگی میں پیش آنے والے حالات اورچیلنجز کا ڈٹ کا مقابلہ کر تھی ہے ساتھ ہی مشکلات کا حوصلے اور صبر سے برداشت کرتی ہے ۔
اگر میں اپنی بات کروں تو حقیقتاً حجاب میری زندگی کی ترقی و کا میابی میں کبھی بھی روکاوٹ نہیں بنابلکہ یہ مجھے ایک ایسے تحفظ کا احساس دیتا ہے جس سے میرے اندر حوصلہ اور خود اعتمادی آتی ہے، جو عزت و احترام ملتا ہے اس سے دل میں بہت خوشی اور سکون ملتا ہے،زندگی میں آگے بڑھنے اور مزید کامیابی حاصل کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ میں نے بزنس ایڈمینیسٹریشن میں ڈگری حاصل کی جس کی وجہ سے مجھے دوران تعلیم مختلف ملٹی نیشنل کمپنیزکے دفاتر میں اپنے پروجٹکس کے لیے جانا پڑتا تھا، میں جہاں جہاں بھی گئی مجھے بہت عزت ملی، وجہ میری ڈگری بھی تھی لیکن اصل وجہ میرا حجاب تھا۔اسلام آباد کی ایک مشہورکنٹرکشن کمپنی میں اپنے فائنل پروجیکٹ کے لیے بار بار جانا پڑھتا تھا، وہاں پہ ڈسکشن کے دوران انھوں نے مجھ سے میرے حجاب کے بارے میں سوال کیا۔ میں نے کہا کہ میں نے یونیورسٹی میں داخل ہوتے وقت حجاب لینا شروع کیا مجھے معلوم تھا کہ اب میں عملی زندگی میں داخل ہو رہی ہوں، طرح طرح کے لوگوں سے سامنا ہوگاتو یہ حجاب ہی میری حفاظت کرے گااور مجھے عزت و احترام دیگا۔وہاں پہ موجود ایک سر نے کہا اوپر سے تعریف تو ہم ایک ماڈرن سوچ رکھنے والی اورماڈرن فیشن کالباس زیب تن کیے ہوئے کی کرتے ہے مگر سچ میں ہمیں ایک پڑھی لکھی با حجاب لڑکی کو اپنی شریک حیات بنانا زیادہ پسند کریں گئے ۔کچھ سال پہلے میں نے ملکی سظح پر منعقد مقابلہ مضبون نویسی میں اول پوزیشن حاصل کی جس کی تقسیم اسنادو گفٹ کی پر وقار تقریب پاکستان سائنس فائونڈیشن میں منعقد ہوئی تھی۔ اس تقریب میں خواتین و مرد اکھٹے بیٹھے ہوئے تھے اور جب میں اپنی فیملی کے ہمراہ ہال میں داخل ہوئی وہاں پر موجود انتظامیہ نے مجھے اور میری امی جی کوباحجاب پایا تو فوراً آگے بڑھ کر سب کو الگ الگ بٹھا دیااور مجھے بھی بیٹھنے کو کہا۔ ان کا یہ طرز عمل، عزت و احترام دینا مجھے اپنے انعام لینے سے زیادہ خوشی دی۔ میں ایک پرا ئیوٹ یونیورسٹی میں جاب کرتی تھی وہاںپر بھی مجھے حجاب کی وجہ سے کوئی روکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا بلکہ ہر کوئی مجھے بہت عزت و احترام دیتا ہے جسکی وجہ میری جاب اسٹیٹس سے زیادہ میرا حجاب اور رویہ تھا۔اس خوشی کا تصور کوبیان نہیں کر سکتی جب آفس میں مجھے میرے کولیگز مجھے سسٹر اور سر بیٹی کہ کرپکارتے ہیں ۔ گزشتہ مہینے مجھے ایک نجی کمپنی کی سالانہ تقریب میں شرکت کرنے کا موقع ملا کمپنی کے سربراہ قاضی مجیب الرحمن صاحب کی بہت سی اچھی باتوں میںسے جو ایک بات سب سے ممتا ز لگی کہ میں نے بہت سے آفیشل ظہرانے اور عشائیوںمیں شرکت کی ہوئی ہیں جو عموماً مخلوط ہی ہوا کرتے ۔ قاضی مجیب الرحمن صاحب نے کہا کہ ہال میں موجود خواتین پہلے اٹھ کر ساتھ والے ہال میںظہرانے کے لیے چلی جائے اور مرد حضرات بیس منٹ بعد اپنی کرسیوں سے اٹھیںتاکہ میری بہنیں آرام سے کھانا ڈالے ایک طرف ہو جائے ان کے اس چھوٹے سے طرز عمل نے مجھے کافی متاثر کیا۔
حجاب عورت کی زینت ہے یہ شیطان اور اس کے ساتھیوں سے حفاظت کے لیے ایک مضبوط قلعہ ہے۔ یہ حجاب ہی ہے جو عورت کو معاشرے میںباعزت مقام بخشتا ہے حتی کہ ایک نامحرم بھی بہن اور باجی کے الفاظ استعمال کرتا دکھائی دیتا ہے۔ حجاب عورت کی عزت وناموس کے لیے ایک ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے یہ عورت کے لیے زرہ ہی ہے جو شیطانوں کے حملوں سے محفوظ رہنے کے لیے اﷲکی طرف سے عورت کو ملی ہے۔