عدالت سے میاں گل بادشاہ کی بحالی

44

میاں گل بادشاہ سائٹ میں واقع میسرز سونی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں مستقل ملازم تھے۔ سائٹ میں جب امن وامان کے حالات خراب تھے تو اس زمانے میں میاں گل بادشاہ اپنے مالکان کے ساتھ ناظم آباد چورنگی تک جاتے اور ناظم آباد چورنگی سے فیکٹری تک لانے کا کام بھی سرانجام دیتے۔ کریمنل اور ڈکیت لوگوں نے ولیکا ملز چورنگی پر اس وقت حملہ کردیا جب وہ مالکان کے ساتھ ان کو تحفظ دینے کے کام سے جارہے تھے جس میں میاں گل بادشاہ کو گولی لگی اور وہ شدید زخمی ہوگئے۔ مالکان نے اس کا علاج لیاقت نیشنل اسپتال سے کروایا لیکن اس کی کمر میں موجود گولی کو نہ نکالا جاسکا۔ میاں گل بادشاہ کو بازو میں شدید درد اور تکلیف رہتی تھی جس پر میاں گل بادشاہ اکثر مالکان کو اس کی شکایت کرتا رہتا لیکن چونکہ اب سائٹ کے امن وامان کے حالات پہلے سے بہتر ہوگئے تھے اس لیے مالکان کو اس کی کوئی ضرورت نہیں رہی تھی اس لیے مزید علاج کی درخواست پر مالکان میاں گل بادشاہ سے اس قدر ناراض ہوئے کہ ان کو اپنے دفتر میں بلا کر زبردستی ان سے کاغذات پر دستخط کروائے اور ان کو زبانی ملازمت سے برطرف کردیا۔ میاں گل بادشاہ نے سندھ لیبر کورٹ نمبر 4 میں ملازمت پر بحالی کا مقدمہ کردیا جس میں تمام گواہان کرنے کے بعد معزز عدالت نے میاں گل بادشاہ کی برطرفی کو غیر قانونی قرار دے کر ان کو واجبات سمیت ملازمت پر بحال کرنے کا فیصلہ دیا۔ میاں گل بادشاہ کی پیروی باچا فضل منان ایڈووکیٹ نے کی۔