ترقی کے لیے آجر و اجیر افہام و تفہیم سے کام لیں، احسان اللہ خان

82
FES اور ویبکوپ کے زیر اہتمام بین الصوبائی قوانین کے موضوع پر پروگرام سے احسان اللہ خان، ظہور اعوان، قموس گل خٹک، حبیب الدین جنیدی، رانا محمود علی خان، رفیع اللہ ایڈووکیٹ، چودھری اشرف ایڈووکیٹ، عبیدالرحمن عثمانی، سید نظر علی، لیاقت علی ساہی، فرحت پروین اور دیگر خطاب کررہے ہیں
FES اور ویبکوپ کے زیر اہتمام بین الصوبائی قوانین کے موضوع پر پروگرام سے احسان اللہ خان، ظہور اعوان، قموس گل خٹک، حبیب الدین جنیدی، رانا محمود علی خان، رفیع اللہ ایڈووکیٹ، چودھری اشرف ایڈووکیٹ، عبیدالرحمن عثمانی، سید نظر علی، لیاقت علی ساہی، فرحت پروین اور دیگر خطاب کررہے ہیں

شفیق غوری
18 ویں آئینی ترمیم کے بعد جب وفاقی کنکرنٹ لسٹ کے متعدد معاملات کو صوبوں کو منتقل کردیا گیا جس میں امور محنت بھی شامل ہے۔ اس طرح صوبوں کو خود اپنے لیبر قوانین بذریعہ اسمبلی قانون سازی کا حق حاصل ہوگیا۔ لیکن اس ضمن میں اس موضوع کے دو اہم فریق آجر و اجیر (مالک و مزدور) اور صنعتی تعلقات و انسانی وسائل (IR/HR) سے متعلق خدمات انجام دینے والے پروفیشنل فیز وکلا حضرات ابہام کا شکار ہیں۔ خصوصاً بین الصوبائی ادارہ جات (ٹرانس پراونشل) کی ایک متعارف کردہ اصطلاح جو کہ وفاقی صنعتی تعلقات ایکٹ 2012ء کے سیکشن 2 (xxxii) میں درج ہے۔ کیا ایسے ادارہ جات پر جس صوبہ میں فیکٹری قائم ہے اس صوبہ کے بنائے ہوئے لیبر قوانین کا اطلاق ہوگا یا پھر وہی قبل از 18 ویں آئینی ترمیم موجودہ وفاقی لیبر قوانین کا اطلاق ہوگا؟ تشنگی باقی ہے معاملات مکمل طور پر وضاحت طلب ہیں۔ اس پیچیدہ صورت حال و ابہام کو پیش نظر رکھتے ہوئے ویبکوپ (WEBCOP) نے جرمنی کی سماجی تنظیم FES (فریڈرک ایلبرٹ اسٹفٹنگ) کے تعاون سے یہ دوسرا پروگرام ٹریڈ یونین رہنمائوں اور وکلا، پروفیشنل منیجر حضرات کے لیے پروگرام کیا گیا تھا جو 31 اگست کو منعقد ہوا۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس نشست کے ماڈریٹر سید نظر علی نے گزشتہ اور موجودہ پروگرام کی غرض و غایت اور مقاصد پر اپنی معروضات پیش کرتے ہوئے FES کے پروگرام آفیسر عبدالقادر کو دعوت خطاب دی۔ انہوں نے ادارہ کی سماجی و فلاحی خدمات اور اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے شرکاء کے روبرو نیو سوشل کنٹریکٹ کے حوالے سے حالیہ مرتب کردہ کنونشن C-190 جس کو جولائی میں ILO کی جنرل کونسل نے منظور کیا پر آگاہی فراہم کی۔ لہٰذا مزدور حقوق پورے معاشرے کی ضرورت ہے جس کا موضوع بروقت حل صرف فریقین کے درمیان سوشل ڈائیلاگ کا شکار ہیں۔
ممتاز مزدور رہنما اور NLF کے سابق صدر رانا محمود علی خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مزدور طبقہ پر 18 ویں ترمیم کی نفی کرتے ہوئے وفاقی صنعتی تعلقات ایکٹ 2012 مسلط کیا گیا جس میں NIRC کو لامحدود اختیار دیے گئے جس کے ذریعے صوبائی سطح پر قائم مزدور یونینوں کو ختم کیا جارہا ہے، جبکہ آئینی ترمیم کے بعد امور محنت مکمل صوبائی معاملہ ہے اور صوبائی لیبر قوانین کا اطلاق صوبہ میں قائم شدہ فیکٹریوں پر بالکل درست و جائز ہے اور خصوصاً صوبہ سندھ میں شرائط ملازمت (Standing Order) ایکٹ وفاق کے مروجہ قانون سے بہت بہتر و سہل ہے۔ انہوں نے کہا کہ منظم سازش کے تحت ملک سے مزدور تحریک کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کرلی گئی ہے اور مزدور طبقہ کو پیچیدگیوں میں اُلجھایا جارہا ہے۔
آجر نمائندہ ویبکوپ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری عبیدالرحمان عثمانی نے کہا کہ 18 ویں ترمیم سے قبل امور محنت کے حوالے سے قانون سازی وفاق کا معاملہ تھا اور صوبائی حکومت اس پر عمل درآمد کی پابند تھی، جس کے ذریعے معاملات کافی بہتر انداز میں چل رہے تھے لیکن اب امور محنت میں بذریعہ 18ویں آئینی ترمیم یکدم 180 ڈگری ٹرن لینے سے معاملات ابہام و گومگو کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریڈ یونین تحریک کو علاقائی حدود میں محدود نہیں کیا جاسکتا۔
سندھ پیپلز لیبر بیورو کے صدر حبیب الدین جنیدی نے کہا کہ 18 ویں آئینی ترمیم احساس محرومی کو دور کرنے کے لیے لائی گئی، خصوصاً امور محنت کے حوالے سے صوبائی لیبر قوانین تشکیل دیے گئے جس میں صوبہ سندھ نے سب سے زیادہ اور موثر قانون سازی کی گئی لیکن اطلاق و عمل درآمد میں موثر پیش رفت نہیں ہے۔ آج بھی 50 فیصد سے زائد مالکان کم از کم مقررہ سرکاری اجرت ادا نہیں کررہے ہیں۔ بذریعہ تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ ملازمت دی جارہی ہے۔ NIRC کا کردار قانون سے زیادہ بدنیتی پر مبنی ہے۔
سندھ لیبر فیڈریشن کے صدر شفیق غوری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے خصوصاً NIRC کی یونین رجسٹریشن کے حوالے سے منفی کارگزاری اور ٹرانس پراونشل ادارہ کی اصطلاح کے غلط اور بلاجواز استعمال پر روشنی ڈالی اور بیان کیا کہ اس بین الصوبائی ادارہ کی اصطلاح کے استعمال کرتے ہوئے اکثریت کی یونین کو مسترد کرتے ہوئے چند افراد کی یونین کو NIRC تسلیم کرنے کا پروانہ عطا کردیتی ہے جو کہ غیر جمہوری طرز عمل ہے، جس کے ذریعے اکثریت کا استحقاق رد کیا جارہا ہے اور دستور پاکستان کے آرٹیکل 25 مساوی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ جبکہ NIRC کا ادارہ اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے صوبوں سے ٹریڈ یونین کے خاتمے کی جانب گامزن ہے او اس عمل میں نجی شعبے کے صنعت کاروں کی معاونت کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ NIRC کی حدود اور دائرہ کار کا ازسرنو تعین کیا جانا ضروری ہے۔
متحدہ لیبر فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری قموس گل خٹک نے کہا ہے کہ ہم مزدور تحریک میں اپنی نمائندگی کا فرض ادا کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے، باوجود اس کے کہ جمہوری حکومتیں ہماری آواز حق بلند کرنے سے نالاں ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ آمرانہ ڈکٹیٹر کے دور حکومت میں مزدور طبقہ کو تمام تر فلاحی سہولیات باآسانی مل رہی تھیں لیکن جمہوری دور حکومت میں سب کرپشن کی نظر ہورہا ہے۔ سیاسی پارٹیوں خصوصاً صوبہ سندھ میں ان کی امور محنت میں غیر ضروری دخل اندازی و نمائندگی نے ٹریڈ یونین تحریک کو کمزور کردیا ہے۔ ملک کی اشرافیہ کی ذہنیت مزدور تحریک کو تسلیم کرنے سے منکر ہے۔ سندھ میں کان کنی شعبہ کے مزدوروں کو ان کے جائز حقوق سے مسلسل محروم کیا جارہا ہے۔
پاکستان ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری ظہور اعوان نے مستقبل میں گلوبلائزیشن کے زیر اثر کام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صنعتی ترقی و استحکام ملک کی سالمیت کے لیے اہم ہیں جبکہ جدیدیت کے اس دور میں کئی صنعتوں کی بندش ہوئی ہے جس کے سبب بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ صنعتی نشونما کے لیے ریل نہیں بلکہ انجن بدلا جائے۔ 18 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ عجلت میں لائی گئی جبکہ صوبوں میں قانون سازی کی اہمیت و اہلیت نہ ہونے کے سبب انہوں نے قانون سازی بھی بذریعہ کاپی پیسٹ اور عجلت میں کی، جس کے منفی اثرات ظاہر ہورہے ہیں۔
ممتاز قانون دان رفیع اللہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ 18 ویں آئینی ترمیم بے ثمر ثابت ہورہی ہے اور مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن نہیں ہورہا ہے۔ خصوصاً وفاقی صنعتی تعلقات ایکٹ 2012 اور NIRC کا کردار ماحول کو ابہام کا شکار بنارہا ہے جس میں بین الصوبائی ادارہ کی تعریف نامکمل ہے، جس کا غلط اور ناجائز استعمال کیا جارہا ہے جبکہ NIRC کی استعداد کار یہ ہے کہ ان کے معزز ممبران کو نہ ہی صنعتی شعبہ اور کلچر سے واقفیت ہے اور نہ ہی ان کی اپنے کام میں دلچسپی ہے۔ حالات یہ ہیں کہ مذکورہ قانون میں جو آجران کے فائدہ کی بات ہے اس کو ان کے وکلا حضرات زور دے کر منوا لیتے ہیں۔ NIRC کے عدالتی امور کی انجام دہی کے لیے ممبران کی تقرری کا کوئی واضح و جامع منصفانہ فارمولا ترتیب دینے کی ضرورت ہے کہ انصاف ہوتا نظر آئے۔ لیبر لاز ایکسپرٹ چودھری اشرف ایڈووکیٹ نے کہا کہ قانون سازی میں غلطیوں کو دور کرنا ہوگا جو کہ دونوں فریقین کے مفاد میں ہے تا کہ خوشگوار صنعتی ماحول کو قائم رکھا جائے۔ قانون سازی کے حوالے سے صوبہ سندھ میں کافی بہتر کام کیا گیا ہے لیکن پھر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ جبکہ سندھ صنعتی تعلقات ایکٹ 2013ء کو مزید بہتر کرنے کے لیے میں نے اس قانون میں 20 سے زائد ترامیم مرتب کی ہیں اور حکومت سندھ کو ارسال کردی ہیں۔ انہوں نے NIRC کے رجسٹرار ٹریڈ یونین کے حوالے سے بیان کیا کہ اس کا الگ تشخص ہے جس کا NIRC کے دیگر امور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ علاوہ ازیں امور محنت سے متعلق کچھ مسائل پر شرکاء سے فرحت پروین، لیاقت علی ساہی اور قمر الحسن نے بھی مختصر خطاب کیا اور معروضات پیش کیں۔
اختتامی خطاب ویبکوپ کے چیئرمین احسان اللہ خان نے کیا۔ انہوں نے تمام مقرر حضرات کی گفتگو کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ ورکنگ فورس صنعتوں کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مسائل تکالیف و ضروریات کو سمجھتے ہوئے ان کا بروقت تدارک کرنا لازمی ہے۔ ہم سب کو صنعتی ترقی کی بقا و استحکام کے لیے یکساں و مثبت سوچ کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھنا ہوگا۔ UN گلوبل کمپیکٹ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ہم کو اس کی سالانہ رپورٹ اقوام متحدہ کو ارسال کرنا ہوتی ہے جس میں بنیادی نکتہ دو طرفہ تعلقات کو بہتر سے بہتر بنانا ہوتا ہے جو صنعتی ترقی کا ضامن ہے۔ جیسا کہ چین میں صنعتی ترقی و استحکام کے باعث آج ملازمتوں کی بھرمار ہے۔ پروگرام میں مزدور رہنما وقار میمن، قمر الحسن، میر ذوالفقار علی، مختار اعوان، عبدالرئوف، اے ایچ حیدری، احسان شیخ، مجید شیخ اور دیگر نے شرکت کی۔