پاکستان مشین ٹول فیکٹری کراچی کے ڈیلی ویجز ملازمین کے ساتھ نا انصافیاں

70

پا کستان مشین ٹول فیکٹری، اسٹیٹ انجینئرنگ کارپوریشن منسٹری آف انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن حکومت پاکستان کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔ بہترین پیداواری صلاحیت رکھنے والی اس فیکٹری میں تقریباً600تعلیم یا فتہ اور ہنر مند ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین سے منسلک اہل خانہ کی ہزاروں میں تعداد ہے اور 30سال گزرنے کے باوجودبھی یہ مظلوم طبقہ تمام مراعات سے محروم ہے ۔ شروع میں دو یا تین سالہ اپرنٹس کورس کی ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد ملازمین کو ریگولر کی بنیاد پر بھرتی کا لیٹر ارسال کیا جاتا تھا یہ سلسلہ 1986ء سے ادارے کے اندر بند کر دیا گیا جو آج تک جاری ہے۔
صلہ محنت تو دور کی بات ہے علاج و معالجے، انشورنس، سالانہ بونس،سالانہ انکریمنٹس، اٹھارہویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعددی سندہ ورکرز ویلفیئر فنڈ ایکٹ2014۔صوبائی اسمبلی کی طرف سے پاس ہو نے کے باوجود، اور 1991 سے EOBI کے میمبرزاور سوشل سیکورٹی میں رجسٹرڈ ہونے کے باوجود بھی کارکنوں کی فلاح و بہبودکے لیے ورکرز ویلفیئر فنڈکی اسکیموں، جس میں تعلیمی و ظائف، صحت، خصوصی بہبود، فنی تربیت، ڈیتھ گرانٹ، جہیز گرانٹ، اسکالر شپ، اسکول کی کتابوں، یونیفارم، جوتوں، ہائوسنگ سیکٹر یعنی مکانات کی الاٹمنٹ،سلائی مشینیں، حج کی قرعہ اندازی اور دیگر مراعات سے بھی آج تک محروم ہیں۔حالانکہ یہ تمام سہولیات نچلے گریڈز اور کم آمدن والے محنت کش طبقے کے لیے ہوتی ہیں۔چونکہ ہم ڈیلی ویجز کے پاس سالانہ چھٹیاں E/L,C/L,S/L وغیرہ نہیں ہوتی۔ خوشی ،غمی، خاندان میں حادثاتی موت یا اتفاقیہ بیماری کی صورت میں ان قومی اداروں میں بھی ڈیلی ویجز کو سزا کے طور پر تنخواہیں کاٹ لی جاتی ہے۔ اگر کوئی ڈیلی ویجز 89 دنوں کے دوران مجبوراًیا بد قسمتی سے 8یا 9دن کام پر نہ جاسکے، تو اس کی 30سالہ خدمات کو یکسر انداز کرتے ہوئے کان سے پکڑکر فوری پے آف کر دیا جاتا ہے۔وہ اس طرح سے کہ لیبر لاء کے مطابق، کسی مزدور کو 89 دن سے زیادہ عارضی ملازمت پر نہیں رکھا جا سکتا۔چنانچہ انتظامیہ اپنے مزدور کو89 دن سے قبل ہی ایک دو دن کے لیے ملازمت سے برخاست کردیتی ہے۔ اور پھر دوبارہ ملازمت پربحال کر دیا جاتا ہے۔اس طرح کئی سالوں سے بڑی خوبصورتی سے قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے۔ پاکستان مشین ٹول فیکٹری میں ہنر مند ہویا غیر ہنر مند،میٹرک ہو یا چاہے گریجوئیٹ، سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا ہے۔ ادارے میں 80فی صد سے زائد ہنر مند ملازمین ہیں۔ لیکن تمام کو کم از کم اجرت غیر ہنر مندوالوں کی انڈر سیکشن 4 آف دی سندہ منیمم ویجز ایکٹ 2015 کے تحت روزانہ608 روپے اورماہانہ 16200ہزار روپے سیلری دی جاتی ہے، جس میں سفری ،کینٹین اور حاضری الائونس دی ایمپلائز کاسٹ آف لیونگ (ریلیف ایکٹ)1973کے 450 روپے بھی شامل ہیں ۔جبکہ انڈر سیکشن 5 آف دی سندہ منیمم ویجز ایکٹ 2015 کے تحت، ہنر مند ورکرز کو ویجز نہیں دیے جا رہے۔اس سیکشن کے تحت مختلف ٹریڈ کے مختلف ویجز کے ریٹ مقرر کیے جاتے ہیں۔ 2010ء کو ادارے میں ہونے والے CBAکے ریفرنڈم میںNIRC کراچی نے PMTFکی تاریخ میں پہلی بار ڈیلی ویجز کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا، ڈیلی ویجز کے ووٹ کاسٹ بھی ہوئے ،لیکن اس کو بھی ملی بھگت سے ایک سازش کے تحت چیلنج کرکے اسے کورٹ سے ہی خارج کرا دیا گیا۔ اس کے علاوہ بہت سے ہمارے بین الاقوامی اعلیٰ معیار کے مطابق اور (Accuracy) میں کام کرنے والے کئی باصلاحیت ہنر مند ڈیلی ویجز کی حیثیت سے کم سے کم اجرت پر ریٹائرہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں ۔60 سال کی عمر پوری کرنے کے بعدجب ڈیلی ویجز کی حیثیت میں کم سے کم اجرت پر ملازمت سے فارغ ہوتا ہے تو خالی ہاتھ ہوتا ہے،جس سے سارا خاندان متاثر ہوتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی مہذب ملک میں ایسی کوئی مثال ہی نہیں ملتی ،کہ سرکاری محکموں میں کام کرنے والے ڈیلی ویجز محنت کش ڈیلی ویجز کی حیثیت سے کم سے کم اجرت پر ریٹائر ہو رہے ہوں۔ کئی کئی سالوں سے کام کرنے والے ڈیلی ویجز محنت کش اب تو نانے اور دادے بن گئے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ادارے میں کئی باپ ڈیلی ویجزپر ہیںتو ان کے بیٹے بھی ڈیلی ویجز پرہی کام کر رہے ہیں۔ سماجی قدروں سے کٹی ہوئی یہ نسل اپنے آنے والی نسلوں کو کیا بتائیں گے، وہ تو اپنی جگہ، لیکن اپنے دوست و احباب کو ماہانہ آمدنی بتاتے ہوئے اپنا سر شرم سے جھکا دیتے ہیں ۔ مزید یہ کہ اس ادارے میں سندھ فیکٹر یز ایکٹ 2015ء کے تحت مزدوروں سے متعلق تمام قوانین پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا ، مثلاًڈائی کاسٹنگ ، فورجنگ، مینٹیننس ،ہیٹ ٹریٹمنٹ وغیرہ کے ڈیپارٹمنٹس میں کام کرنے والے ورکرز کو حفاظتی اقدامات کے لیے ملنے والے شوز ،صحت کے لیے ملک پیک ،ادارے کے اندر ملنے والی میڈیکل OPD،شاپ فلور میں رکھے جانے والے فرسٹ ایڈ باکس وغیرہ بالکل کافی عرصے سے بند ہیں۔ایک طرف پیپلز پارٹی کی حکومت نے 1996 سے 1999 تک مختلف اداروں سے سیاسی بنیادوں پر نکالے گئے ملازمین کو دوبارہ بحالی سروس کا صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا۔جس سے12 ہزار سے زائد ملازمین کو نہ صرف بحال کیا گیابلکہ ان کو تمام مراعاتیں بھی دے کراس صدارتی آرڈیننس کو پارلیمنٹ کے ذریعے بحالی سروس بل ایکٹ2010 اسمبلی سے پاس کر کے اسے آئین کا ایک حصہ بنادیا گیا۔جب کہ دوسری جانب ملکی تاریخ میں پہلی بار PPP سرکار نے وفاقی سرکاری محکموں میںکام کرنے والے تمام ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کے لییکیبنٹ کی سب کمیٹی برائے ریگولرائزنگ ان سروس بنائی گئی تھی ۔اس کمیٹی کے چیئرمین سید خورشید احمد شاہ صاحب تھے۔اس کمیٹی نے اپنے اپنے من پسند اداروں میں کام کرنے والے من پسند ڈیڑھ لاکھ ملازمین کو مستقل کردیا گیاتھا،لیکن جو اصل حقدار تھے وہ توآج تک محروم رہ گئے ہیں۔مختلف ادروں کے ڈیلی ویجز ملازمین امتیازی سلوک کی بنیاد پر اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کیا۔ جون 2018 میںاسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے انٹرا کورٹ اپیلوں پر تفصیلی فیصلہ بھی آچکا ہے۔اس تفصیلی فیصلے میں ملازمین مستقلی کے لیے تین کیٹگریز بناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ:
1 ۔ایسے ملازمین جن کو کابینہ کی خصوصی کمیٹی (خورشید شاہ کمیٹی) نے مستقل کرنے کی سفارش کے بعد نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا تھا،ان کو 90 روز میں پوسٹنگ آرڈر جاری کرنے کا حکم دیا۔
2 ۔گریڈ1 سے15 تک کے زمرے میں آنے والے ملازمین کا معاملہ وفاقی کابینہ کو90 روز میں کابینہ سے منظوری لینے کے بعدملازمین کو مستقل کرنے کا حکم دیا۔اور تیسری کیٹگری میں:
3 ۔گریڈ16 ،17 یا اس سے اوپر والے ایسے ملازمین جن کو خورشید شاہ کی کمیٹی نے مستقل نہیں کیا ،ان کے کیسز FPSC بھجوانے کا حکم دیا۔ موجودہ تبدیلی پسند سرکار نے وفاق کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے عدالتی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا تھا،لیکن مارچ2019 میں سپریم کورٹ نے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے وفاق کی اپیلیں مسترد کردیں۔اس کے باوجودبھی ہمارا استحصال کیا جا رہا ہے۔عملدرآمد نہ ہونے پر ملازمین نے 10 ستمبر2019 کے بعدقومی اسیمبلی بلڈنگ کے سامنے اجتماعی خود سوزی کی دھمکی دے رکھی ہے۔ پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت کی کیبنٹ کی سب کمیٹی برائے ریگولرائزنگ ان سروس نے پاکستان اسٹیل مل، پی آئی اے ،سول ایوی ایشن اتھارٹی، پورٹ قاسم، یوٹیلٹی اسٹورز،پاکستان ریلوے، وزارت تعلیم ،وزارت پٹرولیم ،سوئی گیس، وزارت قانونی و انصاف و پالیمانی امور، وزارت ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ،کیپیٹل اینڈ ایڈمنسٹریشن ڈویلپمنٹ ڈویژن، انسداد منشیات ڈویژن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ،شماریات ڈویژن ،پلاننگ ڈویژن، ریڈیو پاکستان،پاکستان ٹیلی ویژن، وزارت ٹیکسٹائل، وزارت خزانہ، نادرا، مواصلات، ز وزارت محنت و افرادی قوت وغیرہ میں تمام یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو مستقل کر دیا گیاتھا ۔لیکن پاکستان مشین ٹول فیکٹری میں یومیہ اجرت پرکام کرنے والے کو مستقل نہیں کیا گیا ۔سروسزکی مستقلی کے سلسلے میںہم نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سابق صدور جناب آصف علی زرداری اور ممنون حسین ،سابق وزراء اعظم سید یوسف رضا گیلانی،راجہ پرویز اشرف،میاں محمد نواز شریف،شاہد خاقان عباسی،موجودہ وزیر اعظم عمران احمد خان نیازی کے علاوہ سابق چیف جسٹس ہائی کورٹ آف سند ھ جسٹس مشیر عالم اور بعد میں جب سابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار صاحب کو پی ایم ٹی ایف میں انسانی المیہ جنم لینے پر از خود نوٹس لینے کے لیے ہم نے اپیل لکھی توچیف صاحب نے گجرانوالہ تعلیمی بورڈکے ڈیلی ویجز ملازمین کی مستقلی سے متعلق ازخود نوٹس لیا اور بعد میں ثاقب نثار نے عدالتی حکم پر عملدرآمد ہونے کی بنیاد پر از خود نوٹس کیس نمٹا یا ، ہم نے یاد دہانی بھی کی۔ جس کے بعدڈائریکٹر جنرل ہیومن رائٹس سیل سپریم کورٹ آف پاکستان،وفاقی محتسب اعلیٰ، سابق وفاقی وزیر صنعت و پیداوار میر ہزار خان بجارا زنی (مرحوم)، انورعلی چیمہ،غلام مرتضیٰ جتوئی، سینیٹر رضا ربانی، سنیٹر سعید غنی ،کامریڈ تاج حیدر، PLB کے (مرحوم)خواجہ محمد اعوان، چودھری منظور اور شمشاد قریشی، قومی اسمبلی کے حلقہ NA-258 کے رکن شیر محمد بلوچ ،وفاقی وزراء، سینیٹرز،قومی وصوبائی اسمبلی کے ممبرز ،سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے سابق چیئرمین سینیٹر ہدایت اللہ خان،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت وپیداوار کے سابق چیئرمین اسد عمر،وفاقی سیکرٹری برائے صنعت و پیداوار، مختلف سیاسی قائدین،ٹریڈ اور مزدور فیڈریشنس، فلاحی و سیاسی تنظیموں، پائلر کے علاوہ میڈیا کے نمائندوں اور سول سو سائٹی کے سربراہوں کے سامنے ڈیلی ویجز کے مسائل و مصائب احسن طریقے سے نہ فقط اجاگر کیے ،بلکہ ان سے تحریر ی طورپر اور ملاقاتوں کے ذریعے بھی پاکستان مشین ٹول فیکٹری کے ڈیلی ویجز ورکر کو مستقل کرنے کے لیے آواز پہنچائی ہے، لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود بھی آج تک اس پر عمل نہیں ہوسکاہے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر 2 اپریل 2015 میںایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی محترم حسیب اطہر صاحب کے چیئرمین شپ میں قائم کی گئی تھی ،جوملازمین کا فرداً فرداً موقف سن کر ان کے مستقلی کا فیصلہ میرٹ کی بنیاد پرکرنا تھا۔اس کمیٹی کے ممبرز ایڈیشنل سیکرٹری 3کیبینٹ ڈویژن، جوائنٹ سیکرٹری (ایڈمن) اسٹبلشمنٹ ڈویژن اور جوائنٹ سیکرٹری جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس ڈویژن اسلام آباد تھے۔اس کمیٹی نے بھی 10 ہزار سے زائد ملازمین کو مستقل کیا۔بعد میں ایک نئی کمیٹی بنائی گئی ،جس میں وفاقی سیکرٹری برائے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد کو ڈیلی ویجز ملازمین کو ریگولر کرنے کے حوالے سے کمیٹی کا چیئرمین مقرر کردیا گیا ہے۔اس کے بعداگست2017 میں میاں اسد حیاء الدین کو چیئرمین بنایا گیا تھا۔حال ہی میں موجودہ سرکار نے کمیٹی بنائی ہے جس کا چیئرمین وزیر اعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین ہیں۔جب کہ جوائنٹ سیکرٹری (ریگولیشن ونگ) اسٹبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد اس کمیٹی کے سیکرٹری ہیں ۔ان تمام کو بھی ہم اپیلیں بھیجی ہیں، لیکن ابھی تک کوئی جواب ہی موصول نہیں ہوا ہے۔وفاقی محکمے پاکستان مشین ٹول سمیت نجی ادارے ملکی سطح پر گزشتہ کئی سالوں میں ملک کے دستور کے آرٹیکل 3،4،5،9 اور 25 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ا داروں میں مستقل بنیادوں پر بھرتیاں کر نے کے بجائے ،ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ پر بھرتیاں کر کے آئین کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔جب کہ آئین کے آرٹیکل17 کے تحت تمام شہریوں کوانجمن سازی کا حق ہے، ہم آج تک اس حق سے بھی محروم ہیں۔ہم صدرپاکستان سے صدارتی آرڈیننس برائے ریگولرائزنگ سروس جاری کرنے ، وزیر اعظم پاکستان آئینی اور قانون ساز اسمبلی سے ریگولرائزنگ سروس پالیسی ایکٹ بنانے اور با الخصوص چیف جسٹس آف سپریم کورٹ آف پاکستان سے نہایت ہی ادب کے ساتھ عرض کرتے ہیں کہ از خود نوٹس لے کر پاکستان مشین ٹول فیکٹری میں سے ڈیلی ویجز کے فرسودہ نظام کو ہمیشہ کے لیے ختم کر کے تقرری کے مستقل آرڈر جاری کرنے کاحکم صادر فرمائیں۔یہ فرد واحد کے حصول روزگار کا مسئلہ نہیں بلکہ 600ڈیلی ویجز ملازمین کے خاندانوں کے زندہ رہنے کا سوال اور بنیادی انسانی حقوق کا بھی مسئلہ ہے۔سندھی میں ایک انقلابی شعر ہے کہ :
کاون کھے اجازت کاں کاں جی ،بلبل جی سزا تے بندش آ،
ہر شاخ تے ظالم ویٹھو آ، مردان چمن جو چھا تھیندو،
نا اہل اساں جو مالھی آ، ھن منہنجے چمن جو چھا تھیندو،
بد ذوق جے ہتھ میں باغ رہیو، معصوم وٹن جو چھا تھیندو۔ علی اختر بلوچ(جنرل سیکرٹری) ڈیلی ویجزاینڈ
کنٹریکٹ ورکرزایکشن کمیٹی، پی ایم ٹی ایف،کراچی۔
(علی اختر بلوچ نے مذکورہ مضمون پروگرام میں پڑھا)