مقبوضہ کشمیر میں مودی کے اقدام ہی سے خیر برآمد ہوگا،لیاقت بلوچ

102
کراچی: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ ضلع جنوبی کے تحت ذمے داران کی تربیت گاہ سے خطاب کررہے ہیں‘ انجینئرعبدالعزیز‘ سید عبدالرشید ودیگر بھی موجود ہیں
کراچی: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ ضلع جنوبی کے تحت ذمے داران کی تربیت گاہ سے خطاب کررہے ہیں‘ انجینئرعبدالعزیز‘ سید عبدالرشید ودیگر بھی موجود ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ مودی نے مقبوضہ کشمیر میں اپنے اقدامات سے شر پیدا کیا ، ان شا ء اللہ اسی اقدام سے خیر ضرور برآمد ہوگا اور کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا ،35دن سے کشمیر کرفیو زدہ ہے ، عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیمیں متوجہ نہیں ہورہیں ، کشمیری پاکستانی پرچم اٹھاکر آزادی کانعرہ لگارہے ہیں ،سابق حکمرانوں کی طرح موجودہ حکومت بھی بھارت سے مذاکرا ت کی بات کررہی ہے،پاکستان کے حکمران معاشی سفارتکاری کی ناکامی کی وجہ سے سچائی پر مبنی مقدمہ سفارتی محاذ پر پیش نہیں کر پارہے،حکومت سفارتکاری مؤثر اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرے ،فوج کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں، اگر فوج نے پہلی گولی نہ چلائی تو بھارت مقبوضہ کشمیر کے بعد آزادکشمیر پر بھی حملہ کرے گا ، بھارت نے جنگ شروع کردی ہے،فوج کو آگے بڑھنا چاہیے ، پاکستانی عوام یوم دفاع کی طرح آج بھی فوج کے شانہ بشانہ ہوں گے، موجودہ حالات کے اعتبار سے جماعت اسلامی کے کارکنان معاشرے میں کامل یکسوئی اور اخلاص نیت سے کام کرتے ہوئے اپنا مثبت کردار اداکریں،اسلامی نظام ہی پاکستان کا مقدر ہے ،کشمیر ضرور آزاد ہوگا اور پاکستان میں اسلامی نظام نافذ ہوگا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع جنوبی کے تحت ایک روزہ ’’تربیت گاہ ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تربیت گاہ سے امیرجماعت اسلامی ضلع جنوبی و رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید ،سیکرٹری ضلع جنوبی سفیان دلاوراوردیگرنے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پرڈپٹی سیکرٹری کراچی انجینئرعبد العزیز ،سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری ، ظہور احمد جدون ، طارق رحمن ، جواد شعیب و دیگر بھی موجود تھے۔ لیاقت بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہاکہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ورکروں کی تربیت نہ کرنے کی وجہ سے کارکنان میںمفاد عام ہوجاتا ہے جس کے باعث معاشرہ بے راہ روی کاشکار ہوجاتا ہے ،نظریاتی کارکن کے لیے ضروری ہے کہ اقامت دین کی جدوجہد اخلاص کے ساتھ کرے اوراللہ پرکامل یقین رکھے ، نظریاتی کارکن کو اپنی ذاتی و اجتماعی زندگی کے معاملات کوایک دوسرے کی عزت نفس کاخیال رکھتے ہوئے مخلص رہنے کی ضرورت ہے، موجودہ حالات میں ذہنوں میں اشکالات اور مبہم سوالات پیدا کر کے عوام کو منتشر کرنے کا ایک منظم منصوبہ ہے ، ہماری دلیل ہمارا ماخذ قرآن وحدیث اور اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کرنے سے ہی ٹھیک ہوگا ، کارکنان کو چاہیے کہ وہ اپنے اخلاق اور رویے کے ذریعے جماعت اسلامی کا پیغام اور منشور آگے بڑھائیں ۔انہوں نے کہاکہ 6ستمبر 1965ء کا دن اس لیے خاص ہے کہ پاکستانی قوم نے فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر بھارت کا مقابلہ کیا اور شکست سے دوچار کیا تھا۔قائد اعظم ؒ نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،لیکن حکمرانوں کی پالیسی کی وجہ سے ہماری شہ رگ کے لیے ہر دن کربلا کا دن بنادیا گیا ہے ، کشمیری عوام اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں، کھانے پینے کی اشیا اور ادویات بھی ختم ہوکر رہ گئی ہیں لیکن ان سب کے باوجود ایک کلمے کے رشتے کی بنیادپر دلی کی غلامی منظور کرنے کے بجائے پاکستان سے محبت کا اظہا ر کررہے ہیں اور اپنے شہید ہونے والوں کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کی جانب سے کراچی میںعظیم الشان ’’آزادی کشمیر مارچ‘‘ منعقد کرنے کی وجہ سے کشمیریوں میں ایک نئی زندگی اور نیا حوصلہ پیدا ہوا ہے اور کشمیری پاکستان سے محبت اور ایک کلمے کی بنیاد پر اپنی جانیں بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہیں ، کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان سمیت ترکی ،ملائیشیا اور چین میںبھی مظاہرے کیے گئے اور بھارت کے اس فیصلے کو غلط قراردیا گیا،ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں آپس میں قومی اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے ۔