’’مقبوضہ کشمیر پر فوجی بوٹ رکھ کر مودی سرکار اپنی پیٹھ تھپتھپا رہی ہے‘‘

56

 

کشمیر میں کیا چل رہا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے، جس کا جواب ہرکوئی جاننا چاہتا ہے۔ دو ہفتے پہلے میں بھی اسی سوال کے ساتھ سری نگر پہنچا تھا۔ یہ میراکشمیر کا پہلا سفر تھا۔ میرا رابطہ ریاست میں کسی سے نہیں تھا، وہاں کسی کو جانتا بھی نہیں تھا، لیکن اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتاتھا کہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کے ختم ہونے کے بعد کشمیر کے اصل حالات کیسے ہیں۔دن کے تین بجے میں سرینگر پہنچا۔ ائر پورٹ سے باہر نکلتے ہی تیز بارش سے سامنا ہوا۔ آٹو میں بیٹھنے کے بعد دیکھا کہ ہر دس میٹر پر سی آر پی ایف (سینٹرل ریزرو پولیس فورس) کے جوان کھڑے تھے۔ کوئی رین کوٹ پہنے ہوئے بارش میں بھیگ رہا تھا تو کوئی درخت کی اوٹ میں کھڑا تھا۔ لیکن ان کی نگاہیں ہر چلتی پھرتی چیز پر نظر رکھ رہی تھیں۔
سرینگر میں آٹو میں دروازے لگے ہوتے ہیں لیکن سامنے سے سب دکھائی دیتا ہے۔ کچھ دیر چلنے کے بعد میری نظر آس پاس کی دیواروں پر پڑی۔ وہاں گو انڈیا، گو بیک، وی وانٹ فریڈم، شیم آن انڈیا لکھا ہوا تھا۔ دکانیں بند، سڑکیں ایک دم سنسان۔ ہرطرف صرف جوان (فورسز) اور اکادکا گاڑی۔ احساس ہونے لگا تھا کہ یہ کوئی دوسری ہی دنیا ہے۔یہاں انٹرنیٹ اور فون بند ہونے کی وجہ سے جس کام کے 150 روپے لگنے تھے، اس کے 500 دیے، لیکن پھر بھی ہوٹل نہیں پہنچ سکا۔ وہاں سے میرے ہوٹل کی دُوری تقریباً 3کلومیٹر تھی۔ ابھی ساڑھے چار بج رہے تھے اور بہت ہلکی بارش ہو رہی تھی، سو میں نے پیدل چلنے کا ارادہ کیا۔
آگے بڑھا تو دیکھا کہیں پورے چوراہے کو کانٹےدار تاروں سے بند کرکے صرف پیدل نکلنے کا راستہ تھا، تو کہیں سے صرف بائیک ہی مشکل سے نکل سکتی تھی۔ کئی فلائی اوور پوری طرح سے بند تھے۔ اکادکا کشمیری آپس میں بولتے گھروں اور بند دوکانوں کے باہر نظر آ رہے تھے۔ میں بالگارڈن علاقے سے آگے بڑھا تو بارش تیز ہو گئی۔ تھوڑی دیر بعد جب چھتری جواب دینے لگی اور میرے جوتوں میں پانی بھرنے لگا توکہیں رکنے کا ارادہ کیا۔ ایک پلاسٹک کی پنی کے نیچے تین لوگ کھڑے نظر آئے۔ سامنے میز پر پٹرول کی بوتل رکھی ہوئی تھی۔ پٹرول پمپ کی جگہ یہاں سے بھی پٹرول خریدا جا سکتا تھا۔
وہ سب آپس میں ہنس بول رہے تھے لیکن مجھے دیکھ‌کر خاموش ہو گئے۔ میں نے مسکراتے ہوئے اپنی چھتری سمیٹی اور ان کے چھپّر کےنیچے ہو گیا۔ یہ سرینگر کا بربر شاہ علاقہ تھا۔ ہلکی پھلکی بات چیت کے بعد میں وہیں بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک بزرگ آئے۔ ان کا نام غلام محمد تھا۔انہوں نے حال چال پوچھا، بات چیت شروع ہوئی تو وہ خودہی کہنے لگے،ایک وہ بھی زمانہ تھا کہ اندرا گاندھی یہاں ایک معمولی سے گارڈکے ساتھ گھوما کرتی تھیں اور ہم ان کو اسی سڑک پر کھڑے ہوکر سلام کیا کرتے تھے۔ کشمیری عوام ان کو دیکھنے آتی تھی، پسند کرتی تھی۔
کیا آج آپ تصور کر سکتے ہیں کہ وزیر اعظم مودی یہاں آئیں اور ہم ان کو سلام کریں؟ کبھی نہیں۔ انہوں نے ہمارے ساتھ غداری کی ہے۔ مذہب کے نام پر ہمیں بانٹ دیا ہے۔ جو نفرت کا بیج انہوں نے بویا ہے اس کا انجام کتنا غلط ہو سکتا ہے، انہوں نے ایک بار بھی نہیں سوچا۔ پہلے ہندستان کی حکومت کے خلاف جو نفرت 25 فیصد تھی وہ اب بڑھ‌کر125 فیصد ہو گئی ہے۔ میں خاموش ہوکر ان کو سنتا رہا، پھر انہوں نے اپنے بیٹے کو مجھے میرے ہوٹل تک چھوڑ‌کر آنے کو کہا۔
15 اگست
یہ پہلی بار تھا جب میں نے 15 اگست کے دن کوئی ترنگا نہیں دیکھا۔ اس بار رکھشا بندھن بھی یوم آزادی کے ساتھ تھا۔ حفاظت کے لحاظ سےبےحد حساس دن۔ سرینگر میں پبلک ٹرانسپورٹ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ آپ کو کہیں جانا ہے تو تین طریقے ہیں۔ آٹو میں جائیں، گاڑیاں بک کریں یا تو اپنا کوئی ذریعہ ہو۔ میں نے چوتھا ہی طریقہ چنا اور پیدل سرینگر گھومنے نکل پڑا۔ آرام واڑی، راج باغ، اکھراجپورا جواہر نگر میں ٹہلتا رہا۔ ایک عجیب سا سناٹا پورے علاقے میں پھیلا ہوا تھا۔ کوئی چہل پہل نہیں، آواز نہیں۔
سرینگر کا ہر چھوٹا بڑا کاروباری یہی کہہ رہا تھا کہ مودی جی کو جو کرنا تھا کرتے، لیکن یہ ان کے سیزن کا ٹائم ہوتا ہے۔ اس سے ان کی روزی روٹی ختم ہو چکی ہے۔ دسمبر میں کر دیتے تو شاید اتنی دقت نہیں ہوتی۔ دل چاہا کہ سب کچھ بند ہے تو واپس لوٹ جاتا ہوں لیکن پھر لگا کہ نہیں، اتنی دور آئے ہیں تو نالا کے اس پار بھی دیکھ ہی آتا ہوں۔ جس پل سےمجھے جانا تھا وہاں ایک طرف سی آر پی ایف کے جوان تھے اور دوسری طرف چھٹ پٹ کھڑے سات آٹھ لڑکے۔
مجھے لگا پتھرباز ہوں‌گے لیکن کوئی ہلچل نہ دیکھ‌کر میں نے پل پار کیا۔ یہ علاقہ مہجور نگر کا تھا۔ یہاں گھر بند تھے لیکن باقی علاقوں کے مقابلےیہاں لوگ باہر گھوم رہے تھے اور ہر نگاہ مجھ سے میرے وہاں ہونے کی وجہ جاننا چاہتی تھی۔ایک چچا نے آگے بڑھ‌کر پوچھا-کہاں جانا ہے؟ میں نے کہا-جواہر نگر۔ وہ بولے-ادھر پتھراؤ ہونے والا ہے جتنی جلدی ہو سکتا ہے پل پار کر کے واپس چلے جاؤ۔ اسی پار جواہر نگر ہے اور وہ محفوظ بھی ہے۔
میں آگے بڑھ‌کر اندر دیکھنا چاہتا تھا لیکن عجیب سا ڈر لگ رہا تھا اس لیے پل سے واپس اسی راستے پر آ گیا۔ پیر جواب دے چکے تھے۔ فون پرمیپ کھل نہیں رہا تھا، پتا ہی نہیں تھا کہ کتنی دور آ گیا ہوں۔ گھنٹے بھر بعد جاکر مجھے ایک آٹو ملا، جس نے بتایا کہ وہ سواری لینے نہیں نکلے بلکہ سیب ڈھو رہے تھے۔ تمام آٹو والوں نے اس دن بند کا اعلان کیا تھا۔
اتنا کہہ‌کر اس نے ایک گلی میں آٹو موڑا۔ مڑتے ہی سامنے سے شور سنائی دیا اور ایک بھاگتی بھیڑ ہماری طرف آئی۔ اس سے پہلے کہ ڈرائیورآٹو گھما پاتا آٹو بند ہو گیا اور ہم بھیڑ کے بیچ میں بری طرح پھنس گئے۔ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا صرف شور سنائی دے رہا تھا۔ میں نے آٹووالے کو مڑنے کے لیے کہا لیکن وہ مجھ سے بھی زیادہ ڈرا ہوا تھا۔اس سے آٹو بھی نہیں اسٹارٹ ہو پا رہا تھا۔ تبھی ایک انکل آئے اور آٹو والے کو زور زور سے کشمیری میں کچھ کہنے لگے۔ مجھے ان کی شکل نہیں نظر آئی لیکن انہوں نے پٹھانی سوٹ پہنا تھا۔ انہوں نے آٹو بیک کرایا اور ہم واپس دوسرے راستے سے نکلے۔
لیکن وہاں ہوا کیا تھا وہ مجھے اب تک نہیں پتا چلا، حالانکہ یہ احساس ہو چکا تھا کہ کشمیر میں کانٹےدار تاروں اور گھومتے جوانوں کی وڈیوز سے کہیں زیادہ چیزیں چل رہی ہیں۔ میں واپس آ تو گیا لیکن اپنے کیمرے میں کچھ 8-10 فوٹو اور 3-4 کاروباریوں کی بائٹ لے پایا تھا۔ ابھی شام کے ساڑھے چار بج رہے تھے۔ پوری شام پڑی تھی، سو میں پھر کیمرا لےکر نکل پڑا اور لال چوک پہنچ گیا۔ سب کچھ بند تھا اس لیے میں سڑک پر بچھے تار کا ایک وڈیو بنانے لگا۔ تبھی دو تین سی آر پی ایف والے چلّائے اور ایک میری طرف لپکا اور بولا فوٹو نہیں کھینچنا۔
میں نے کہامیں نے تو وڈیو بنایا ہے۔ اس نے کہا کہ حفاظت کی وجہ سے ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ میں نے کہااس میں تو ایسا کچھ ہےہی نہیں۔ اس پر اس نے دلیل دی کہ ہمارے چہرے کھلے ہیں، ہماری حفاظت کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔میں نے کہا کہ وڈیو دیکھ لیجیے، اس میں کسی کا چہرہ نہیں ہے۔ اس نے کہا فوراً ڈیلیٹ کرو۔ میں نے اس کے سامنے وہ وڈیو ڈیلیٹ کر دی، لیکن وہ پھر کہنے لگا کہ اور کیا کیا ریکارڈ کیا ہے؟
میں نے کیمرا بند کرنا چاہا لیکن اس نے کیمرے پر جھپٹا مارا اور عجیب سی انگریزی میں چلّانے لگا۔ مجھے ڈر لگا اور میں نے کیمرا اس کودے دیا۔ اس نے باقاعدہ سرچ کرکے میرا کارڈ فارمیٹ کر دیا اور میں سوائے افسردہ ہونے کے اور کچھ نہیں کر سکا۔
16 اگست
یہ جمعہ کا دن تھا۔ 370 ہٹنے کے بعد پہلے جمعہ کو نماز کے بعدسرینگر کے سورا علاقے میں مظاہرے اور پتھربازی کی خبریں آئی تھیں۔ اس جمعہ کو پہنچا تو پورا علاقہ سیل تھا۔ کہیں سے بھی آنے جانے کی جگہ نہیں تھی۔ وہاں اتنے جوان کھڑے تھےکہ فوٹو لینے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ مین روڈ ہی پر دو راؤنڈ لگانے کے بعد ایک انکل کے پاس میں گیا، جو اسکوٹی بغل میں لگاکر سگریٹ پی رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا جرنلسٹ ہو؟ میں نے کہا ہاں۔ وہ بولے اِدھر کچھ نہیں ملے‌گا۔ فورس بھی زیادہ ہے اور لوگوں نے بھی علاقے کو سیل‌کر دیا ہے۔ نہ لوگ اندر جا سکتےہیں، نہ باہر۔
ہم بات چیت کر ہی رہے تھے کہ ایک جوان غلیل لےکر چلّانے لگا۔ وہ کچھ کہہ رہا تھا، جس سے باقی کے جوان بھی محتاط ہو گئے۔ ان میں سےکچھ سی آر پی ایف کی بس‌کے پیچھے چھپ گئے اور کچھ نے سی آر پی ایف جوانوں کو پتھربازوں سے بچنے کے لیے دی جانے والی ڈھال اٹھالی۔ انکل اسکوٹی پر بیٹھے اور بولے: ادھر حالات بگڑنے والے ہیں۔ میں نے پتھر اور پیلیٹ تو سنا تھا لیکن یہاں تو غلیل بھی چل رہی تھی۔ میں انکل کے ساتھ وہاں سے آگے بڑھا تو وہ خودہی بتانے لگے-اب تو بہت ٹھیک ہے، پتھر مارتے ہیں۔ پہلے ہمارے زمانے میں تو گولی مارتےتھے۔ میں بھی میڈیا میں تھا لیکن میں نے یہ کام چھوڑ دیا۔
میں خوش ہوا کہ چلو ان سے تو بہت مدد مل جائے‌گی۔ میں نے ان سے کہا-تھوڑا کچھ دکھائیے سر، کیا چل رہا ہے ادھر کشمیر میں۔ وہ بولے چلو ٹھیک ہے۔ مگر تھوڑی دیر انتظار کرنا پڑے‌گا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ یہ جگہ سرینگر کا بٹمالو علاقہ تھا۔ کہتے ہیں ملٹینسی کی شروعات میں اس علاقے کا بڑا ہاتھ تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ اسکوٹی چھوڑ‌کر بائیک سےآئے، تو تین خبریں پتا چلیں۔پہلی، بٹمالو علاقے ہی کے ایک 8 سال کے بچّے کو پیلیٹ گن سے چوٹ لگی ہے اور وہ ہاسپٹل میں ہے۔ دوسری زُکرا علاقے میں فساد ہوا ہےاور وہاں کے ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا ہے۔ تیسری کہ کشمیر ڈاؤن ٹاؤن میں پتھربازی کا جواب میں فوج پیلیٹ فائرنگ اور آنسو گیس سےدے رہی ہے۔
میں نے ان سے پوچھا سر ڈاؤن ٹاؤن علاقے میں جا سکتے ہیں؟ جواب ملا نہیں۔ میں نے کہا-اگر خطرہ لگے‌گا، تو دور ہی سے واپس آجائیں‌گے۔ اب راستے میں انہوں نے میرا تعارف لینا مناسب سمجھا۔ وہ مجھے سارے علاقے دکھاتے ہوئے سمجھاتے جا رہے تھے۔
جیسے ہی ہم ڈاؤن کی طرف جانے والے پل پر پہنچے، ہم نے دیکھا کہ سی آر پی ایف والے کسی کو وہاں سے جانے دے رہے ہیں، تو کسی کو نہیں۔ کار، بائیک سب واپس ہو رہی تھیں۔ صرف 2 جوان لوگوں پر چلّا رہے تھے۔ پتا چلا صرف ان کو جانے دے رہے ہیں جن کا ڈاؤن ٹاؤن میں گھر ہے۔ آدھار دکھاؤ نہیں تو واپس جاؤ۔ ہم نے بائیک گھمائی ہی تھی کہ پتا چلا کہ یہاں بھی پتھربازی شروع ہو گئی ہے۔ ایک جوان نے غلیل بھی نکال لی، لیکن اس کو پتھرباز نظر نہیں آ رہے تھے۔ ہم واپس آ گئے اور ادھر سے دیکھا تو ایک ادھ بنے پل پر کچھ لڑکے چھپ‌کربیٹھے تھے اورپتھر مار رہے تھے۔
جوانوں کی سپورٹ میں ایک اور گاڑی بھر‌کے سی آر پی ایف والے آئے اور افراتفری سی مچ گئی۔ پھر ان انکل نے مجھے کہیں نہیں چھوڑااور سیدھا ہوٹل پر ڈراپ کیا۔
17 اگست
آج میں نے کیمرا لیا اور اس 8 سال کے بچّے، جس کو پیلیٹ سے چوٹ لگی تھی، کو کھوجنے پیدل ہی بٹمالو کی طرف نکل پڑا۔ اس کے گھرپہنچا تو پتا چلا کہ بچّہ کسی اور کے گھر میں چھپا ہوا ہے کیونکہ پولیس اس کو کھوج رہی ہے۔ دراصل پہلے پولیس یا سی آر پی ایف والے پیلیٹ فائر کرتے ہیں، پھر جس کو بھی پیلیٹ کی چوٹ لگی ہوتی ہے اس کو گرفتار کر لیتے ہیں کیونکہ ان کو پتا چل جاتا ہے کہ یہ پتھربازی میں شامل تھا۔
ٹھیک ویسے ہی جیسے ہانگ کانگ میں چین والے واٹر کینن کے ساتھ سیاہی ملاکر لوگوں پر پھینک رہے ہیں، پھر جس کے جسم پر سیاہی نظر آئے، اسے گرفتار کر لیتے ہیں۔ سیاہی والا طریقہ ویسے اچھا ہے۔ حکومت کو سوچنا چاہیےاس پر! میں اس بچّے کے دوست کے گھر گیا تو پتا چلا کہ وہ نانی کے گھر چلا گیا ہے۔ اتنےمیں خبر ملی کہ عید گاہ کے علاقے میں فساد ہونے کا امکان ہے۔ میں بھی آٹو پکڑ‌کے وہیں پہنچ گیا۔
جو میں نے دیکھا وہ اب تک کا سب سے الگ تجربہ تھا۔ ہرطرف پولیس کا پہرا اور ایک دم سناٹا۔ تھوڑا آگے بڑھا تو دیکھا مین روڈ کی طرف فوج کے جوان دیوار اور سی آر پی ایف کی گاڑیوں کے پیچھے چھپے ہیں اور دوسری طرف سے لڑکے پتھر پھینک رہے تھے۔
ایک گلی سے آگے بڑھا تو دو تین گلی بعد ایک جگہ اور یہی حال۔ ادھر غور کرنے والی بات یہ تھی کہ سی آر پی ایف کے جوان بھی پتھر کاجواب پتھر سے دے رہے تھے۔اس وقت فوٹو تو لینی تھی اور سی آر پی ایف والوں کے ساتھ تجربہ اچھا نہیں تھا اس لیے سوچا کہ ایک سنسان گلی سے پیچھے چلا جاؤں اوردوسری طرف سے فوٹو یا وڈیو بنا لوں، لیکن میں اس گلی تک پہنچ پاتا اس سے پہلے ہی پتھربازوں کی بھیڑ دوڑ‌کر میری ہی طرف آتی دکھی۔
کوئی 10 میٹر کی دوری پر ایک آنسو گیس کا گولہ گرا، پھر دوسرا پھر تیسرا۔ بھیڑ تتربتر ہو گئی۔ میں نے دیکھا تقریباً 30-32 کی عمر کےایک لڑکے کے سر سے خون نکل رہا تھا، وہ ایک ہاتھ سے زخم ڈھکے ہوئے رو رہا تھا اور رہ رہ‌کر بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں بھی ایک طرف بھاگا اور ٹکراکے گرا، پر کسی طرح سے واپس ہوٹل پہنچا۔ میرے پیر میں بھی معمولی چوٹ آئی تھی۔ میں اس دن بہت ڈر گیاتھا، رات بھر صحیح سے نیند نہیں آئی۔ میرا واسطہ خوبصورت کشمیر کے اس حصے سے پڑ چکا تھا جس کو ہمیشہ سے چھپانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ یہاں سے کشمیر کے حالات بالکل بلیک اینڈ وائٹ دکھنے لگتے ہیں۔
18 اگست
16 تاریخ کو جس مقامی صحافی سے میری ملاقات ہوئی تھی ان سے مجھے دو پتے ملے تھے۔ ایک پروینہ آہنگر کا اور دوسرا ایک علاحدگی پسند رہنما کا، جو اس وقت تک گرفتار نہیں ہوئے تھے۔ میں پہلے پتے پر نکل پڑا اور پیدل جانے کا ارادہ تھا لیکن ہوٹل کے باہر ہی وہ (مقامی صحافی) نظر آ گئے اور بولے چلیے۔ راستے میں وہ مجھے بتانے لگے کہ کیسے ان کے پڑوس کے ایک بچّے نے کھانا-پینا چھوڑ دیا ہے کیونکہ اس کی کسی دوست سے بات نہیں ہو پا رہی ہے۔
انہوں نے خبر سنائی کہ تمام فوجیوں کی فیملیوں کو بارڈر کے پاس والے علاقے سے نکالا جا رہا ہے۔ پھر انہوں نے مجھے بتایا کہ جس پروینہ آہنگر جی سے وہ ملوانے جا رہے ہیں۔ 90ء کی دہائی میں ان کا 16 سال کا بیٹا غائب ہوا تھا، وہ آج تک لاپتا ہے۔اس کے لیے پروینہ نہ صرف خود لڑائی لڑ رہی ہیں بلکہ انہوں نے ایک تنظیم ایسوسی ایشن آف پیرینٹس آف ڈس اپیئرڈ پرسنز (اے پی ڈی پی)کی بھی شروعات کی ہے، جس میں وہ ہر مہینے کی دس تاریخ کو لاپتا لڑکوں کی فیملی والوں کے ساتھ سرینگر کے پرتاپ پارک میں چپ چاپ مظاہرہ کرتی ہیں۔ پروینہ کا الزام ہے کہ ان کے بیٹے کو شک کی بنیاد پر فوج والوں نے پکڑا تھا۔ آج تیس سال ہو چکے ہیں لیکن ان کے بیٹے کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔ پروینہ کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا جا چکا ہے۔
اگلی ملاقات حریت کے ایک سینئر رہنما سے ہونی تھی، جن کو اب تک پولیس قید نہیں کر پائی تھی۔ ہم طے جگہ پر پہنچے اور ان کا انتظار کرنےلگے۔ تھوڑی دیر بعد پتا چلا کہ وہ نہیں آ سکیں‌گے کیونکہ پولیس ان کو رات بھر کھوجتی رہی ہے۔ پھر کچھ مقامی لوگوں سے بات چیت کی تو پتا چلا کہ اس علاقے کے تمام 10-12 سال تک کے بچوں کو پولس اٹھا لے گئی ہے۔
19 اگست
آج پتا چلا کہ عید گاہ علاقے میں آنسو گیس پھینکنے کی وجہ سے ایک شخص کی موت ہو چکی ہے مگر میڈیا میں یہ خبر ہمیں کہیں نہیں دکھی۔میں خبر کی تصدیق کے لیے ہمت کرکے دوبارہ عید گاہ علاقے تک گیا۔ اس کام میں مجھے یہ خبر سنانے والے ایک جناب نے پوری مدد کی۔ یہ عید گاہ کے دوسری طرف کا علاقہ تھا۔ پورے علاقے میں کوئی ہلچل نہیں، ایک دم سناٹا۔ چپہ چپہ پر سی آر پی ایف والے کھڑے تھے۔ ہم کسی طرح اس گھر پر پہنچے تو دیکھا وہاں کئی لوگ جمع تھے۔ جیسے ہی ہم نے اپنا تعارف دیا تو وہ لوگ بولے کہ کوئی فائدہ نہیں ہے۔ آپ بات چیت کریں‌گے مگر چھاپ نہیں سکیں‌گے۔ کئی لوگ آتے ہیں کہانیاں لے جاتے ہیں لیکن وہ ہمیں دیکھنے پڑھنے کو کہیں نہیں ملتی ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ میں ضرور چھاپوں‌گا۔ تب جاکے انہوں نے بات شروع کی۔
بیچ میں کسی کو مجھ پر شک بھی ہوا اور انہوں نے سب کو آگاہ کیا۔ لوگ غصہ ہوئے، تھوڑی کہاسنی ہوئی لیکن میں نے صبرسے کام لیا اورآخر میں انہوں نے مجھ سے بات کی۔ جس شخص کی موت ہوئی تھی ان کا نام محمد ایوب تھا۔ ان کی3 بیٹیاں ہیں۔ان کے بھانجے نے بتایا کہ گلی کے باہر بہت شور ہو رہا تھا وہ جس کو دیکھنے کے لیے باہر گئے تھے لیکن تبھی آنسو گیس پھینکنا شروع ہو گیااور وہ بیچ میں پھنس گئے۔ ان کو ہارٹ اٹیک ہوا اور موت ہو گئی۔ موت کے بعد بھی بھیڑ پر پیلیٹ گن فائر کیے گئے۔ تمام دقتوں کے بعد ان کو دفنایا جا سکا۔ یہ خبر تین دن پرانی تھی لیکن کہیں بھی نہیں چھپی تھی۔
دوپہر ساڑھے تین بجے تک میں پریس کالونی آ گیا۔ سرینگر کے میڈیا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر یہاں کوئی کام کرتا ہے اور کسی کے پاس اصلی کہانیاں ہیں، تو وہ ہیں یہاں کے فوٹوجرنلسٹ جو سچ مچ بےحد اچھا کام کرتے ہیں۔ میں ایسے ہی کسی فوٹوجرنلسٹ کو کھوج رہا تھا اور اتفاق سے ایک جناب ملے بھی، جو بس اننت ناگ کے لیے نکلنے ہی والے تھے۔ معمولی تعارف کےبعد انہوں نے مجھے اپنی بائیک پر بیٹھنے دیا اور اس کے بعد پانچ بجے کے قریب ہم اننت ناگ ضلع‎ میں پہنچ گئے۔یہاں اتنی بندشیں تھیں کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کچھ کریں اور کوئی آپ کو نہ دیکھ رہا ہو۔ عجیب سا ڈر لگ رہا تھا۔ چار جگہ میں نے اپنی آئی ڈی دکھائی، سی آر پی ایف والوں کے سوالوں کے جواب دیے۔
لیکن اس بیچ جو بات مجھے چبھی، وہ تھی سی آر پی ایف والوں کے بات کرنے کا طریقہ۔ وہ اتنی بری طرح آپ کو آواز لگاکر بلائیں‌گے کہ آپ کو بہت ذلت محسوس ہوگی۔سی آر پی ایف والوں نے ہمیں ایک جگہ جانے سے ایک بار منع کیا، تو فوٹو جرنلسٹ نے فوراً بائیک واپس موڑ لی۔ میں نے کہا بات کرکے تودیکھتے۔ انہوں نے کچھ کہا نہیں۔ پھر بائیک روکی اور دکھایا کہ کیسے ایک بار ایسے ہی ضد کرنے کی وجہ سے ان کو سی آر پی ایف والوں نےبندوق کے بٹ سے مارا تھا۔ اس چوٹ کا ان کے ہاتھ میں گہرا نشان تھا۔ اسی لیے اب وہ بحث نہیں کرتے۔
سفر کا حاصل
یہ بالکل سچ ہے کہ کشمیر کی جو خبریں میں اسٹریم میڈیا دکھا رہا ہے ان میں سے 90 فیصد جھوٹی ہیں۔ کشمیر کے حالات معمولی مظاہرہ تک محدود نہیں ہیں اور نہ ہی یہاں کوئی سڑکوں پر ساتھ مل‌کر بریانی کھا رہا ہے۔ آرٹیکل 370 پر اپنے فیصلے کو لے کر اپنی پیٹھ تھپتھپانے والی مودی سرکار نے کشمیریوں کے زخم پر مرہم لگانے کے بجائے نمک رگڑ دیا ہے۔ جگہ جگہ فساد ہو رہا ہے، پتھربازی، غلیل بازی ہو رہی ہے، پیلیٹ گن چل رہی ہیں، آنسو گیس پھینکی جا رہی ہے اور لوگوں کی جان پر بن آئی ہے۔
مقامی اخباروں کی حالت ایسی ہے کہ ان کے دفتر کے پیچھے والی گلی میں کیا ہوا ہے، یہ بھی ان کو تین دن بعد پتا چل رہا ہے۔ عوامی نقل وحمل تقریباً پوری طرح سے بند ہے۔ کئی علاقے لوگوں نے سیل‌کر رکھے ہیں، تو کئی سیکورٹی اہلکاروں نے۔ 10-12 سال تک کےبچّوں کو پولیس اٹھا لے جا رہی ہے۔
کشمیر پر رپورٹ کرنے کے لیے جانے والے صحافیوں کے وفد کے محفوظ علاقے سے صرف پریس کالونی، لال چوک اور یو این کے دفتر تک چکر لگاپا رہے ہیں۔ حفاظت کے نام پر کیمرا کی تصویریں اور وڈیو ڈیلیٹ کروائے جا رہے ہیں۔اسکول کالج صرف اخباروں اور ریڈیو پر کھل رہے ہیں۔ سارے رہنما پکڑے جا چکے ہیں، جو بچے ہیں وہ یہاں وہاں بھاگ رہے ہیں۔ جس علاقے میں پیلیٹ گن کا استعمال ہو رہا ہے اس علاقے کے گھروں میں پولیس گھس رہی ہے اور جن کو پیلیٹ کی چوٹ لگی ہے، ان کو اٹھا لے جارہی ہے۔
پی ایس اے کا خوف اتنا ہے کہ کوئی کیمرا پر کچھ بولنے کو تیار نہیں ہو رہا ہے۔ کوئی جنوبی کشمیر نہیں جا پا رہا ہے اورسرینگر کے ڈاؤن میں کوئی جانا نہیں چاہتا۔ کل ملاکر کہا جائے تو کشمیر میں کچھ بھی معمول پرنہیں ہے اور نہ ہی جلد ایسا ہونے کا امکان ہے۔سرکاری حکم تھا کہ 19 تاریخ کو دکانیں کھلیں‌گی لیکن کسی نے بھی دکان نہیں کھولیں۔ نہ ہی بچّے اسکول گئے۔ ڈل جھیل کے ہاؤس بوٹ والے،شہر کے ہوٹل والے، ریہڑی-پٹری والے، ریستوراں والے سب کے کام دھندے ٹھپ ہو گئے ہیں، جو شاید اگلےسال مارچ میں ہی شروع ہوپائیں‌گے۔
سب کے چہرے پر ایک عجیب سی خاموشی ہے۔ کل ملاکر کہا جائے تو اندر ہی اندر سلگتے ہوئے کشمیر پر بی جے پی کی حکومت نے فی الحال فوجی بوٹ رکھ دیے ہیں اور مودی سرکار پیٹھ تھپتھپا رہی ہے۔
(مضمون نگار آزاد صحافی ہیں۔ بشکریہ: دی وائر اُردو)