۔2018 ء کا الیکشن اسلام اور اسلامی تحریکوں کیخلاف استعمال کیا گیا،سراج الحق

344
شیخوپورہ: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق آزادی کشمیر کنونشن سے خطاب کررہے ہیں
شیخوپورہ: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق آزادی کشمیر کنونشن سے خطاب کررہے ہیں

شیخوپورہ(نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ 2018کے الیکشن کو ملک میںاسلام اور اسلامی تحریکوں کے خلاف استعمال کیا گیا ،آج جہاد اور انقلاب کی بات کرنے والے کو دہشت گرد ٹھیرایاجاتا ہے اور مسجدوں سے اسپیکر اتروائے جارہے ہیں کہ کہیں اذان کی آواز سن کر امریکا اور آئی ایم ایف ناراض نہ ہوجائیں ۔چاند پر جانے اور کشمیر فتح کرنے کا مودی کا خواب پورا نہیں ہوگا،کشمیر کی آزادی کے ساتھ ساتھ 22 کروڑ بھارتی مسلمانوں کو آرایس ایس کے دہشت گردوں سے بچاناہوگا، برہمن راج کشمیر ہڑپ اور بھارت سے مسلمانوں کو بے دخل کرنا چاہتا ہے، 35دن سے کشمیر میں ایک کربلا برپا ہے، امت مسلمہ کے جسم پر یہود و ہنود نے پنجے گاڑ رکھے ہیں لیکن ہمارے حکمران مصلحت پسندی اور بزدلی کا شکار ہیں ، بیٹیاں پکار رہی ہیں اور حکمران مذمت کے بیانات جاری کررہے ہیں،شہ رگ کٹ رہی ہے اور حکمران بھارت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں ۔حکمرانوںنے آئندہ 3 ہفتوں میںکشمیریوں کی مدد اور انہیں بھارت کے خونی پنجوں سے نجات دلانے کے لیے کوئی عملی قدم نہ اٹھایا تو 6اکتوبر کے بعد عوام خود فیصلہ کریں گے ۔کشمیر کی آزادی کی تحریک پاکستان کے تحفظ اور دفاع کی تحریک ہے ۔ کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اپنا آج ہمارے کل پر قربان کررہے ہیں ۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے شیخوپورہ میں آزادی ٔ کشمیر کنونشن سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب محمد جاوید قصوری ،سیکرٹری جنرل پنجاب بلال قدرت بٹ ، ضلعی امیرحاجی عاشق ورک اور خالد محمود ورک بھی موجود تھے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ آئی ایم ایف والوں کو دیکھ کر حکمرانوں کے چہرے زرد پڑ جاتے ہیں ۔ایک سال گزر گیا ہے ۔ حکمران خود بھی رو رہے ہیں اور عوام کو بھی رلا رہے ہیں۔نااہل حکمران عوام کے ہاتھوں میں آئی ایم ایف کی ہتھکڑیاں پہنا کر بھی معیشت کو پٹری پر نہیں چڑھا سکے ۔معیشت آئی ایم ایف کے حوالے کردی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اللہ کا نظام نہیں آتا ملک مسائل کی دلدل سے نہیں نکل سکتا۔ ملک کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو قرآن و سنت کی بالادستی پر یقین رکھتی ہواور نظام مصطفی ؐ کے نفاذ کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار ہو۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے اور 35دن سے مقبوضہ کشمیرکو عقوبت خانہ بنادیا گیا ہے ۔لوگوں کو خوراک ،ادویات اور پینے کا پانی تک نہیں مل رہا ۔بیمار اور زخمی علاج کے بغیر دم توڑ رہے ہیں ۔ اسکول کالجز اور مارکیٹیں بند ہیں اور مقبوضہ کشمیر کی ساری قیادت جیلوں میں ہے ۔گزشتہ چند دن میں مقبوضہ وادی کی ایک بستی سے 3 سو بچیوں کو اغوا کرلیا گیاہے۔ نوجوانوں کو اٹھاکر غائب کردیا جاتاہے ۔لوگ مساجد میں جاسکتے ہیں نہ انہیں اسپتالوں میں جانے دیا جارہا ہے ۔لوگ اپنے مُردوں کو گھروں میں دفنانے پر مجبور ہیں، انہیں جنازہ پڑھنے اور قبرستانوں میںجانے تک کی اجازت نہیں ۔مقبوضہ کشمیر کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہیں ۔انہو ں نے کہا کہ ملک میں جرأت مند اور غیر ت مند حکومت ہوتی تو کشمیر کب کا آزاد ہوچکا ہوتا۔جماعت اسلامی 15 ستمبر کو کوئٹہ اور 6 اکتوبر کو لاہور میں کشمیر مارچ کر ے گی ۔