سینیٹ قانون سازی میں رکاوٹ ہے،سنجرانی ارکان سے بات کریں،اسد قیصر

38

اسلام آباد (صباح نیوز) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ قانون سازی کے معاملے پر سینٹ سے مسئلہ آرہا ہے، چیئرمین سینیٹ کو اپنے ارکان سے بات کرنی چاہیے ایسا نہ ہو ڈیڈ لاک آجائے، جو بل سینیٹ جاتا ہے رک کر رہ جاتا ہے ،آرڈینینس جاری ہونے کی اصل وجہ بھی یہی ہے، وزیر قانون کو نیب کی مجوزہ ترامیم پر اپوزیشن کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ اتفاق رائے کی کوشش کی جائے تاکہ بل سینیٹ میں آسانی سے منظور ہو جائے۔ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلیے مشترکہ کمیٹی کو اپنا کام مؤثر انداز میں کرنا چاہیے۔ اتوار کی شب نجی ٹی وی کو انٹرویو میںقانون سازی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ایک سال میں ناکامی کامیابی کا تجزیہ نہیں کیا جاتا۔ ہمیں سینٹ سے مسئلہ آرہا ہے ایوان بالا میں بل منظور نہیں ہورہے ہیں۔ بعض بلز کمیٹیاں مسترد کررہی ہیں۔ چیئرمین سینیٹ کو ارکان کی اکثریت پسند کرتی ہے، اس لیے انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ چیئرمین سینیٹ سے قانون سازی کے معاملے پر بات کروں گا کہ وہ اپنے ارکان سے بات کریں ایسا نہ ہوکہ ڈیڈ لاک آجائے، کیونکہ وہاں جانے والا ہر بل رک جاتا ہے، حکومت بہت زیادہ قانون سازی کرنا چاہتی ہے، اصل پریشانی سینیٹ کی وجہ سے ہے۔ آرڈیننس جاری ہونے کی اصل وجہ بھی یہی ہے۔ مسئلہ کے حل کے لیے میں نے سینئر ارکان کی کمیٹی بنا دی ہے،200 پرائیویٹ ممبر بلز آئیں گے اور آئندہ پرائیویٹ ممبرز ڈے پر یہ سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ یہ سال قانون سازی کا سال ہوگا سینیٹ جانے ان کا کام جانے۔ نیب قانون میں سقم ہوسکتا ہے بہتری کی گنجائش کیلئے ترامیم آسکتی ہیں مگر مؤثر احتساب کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے، سیاسی مداخلت نہیں ہونی چاہیے اور یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ کسی کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کیلیے پروڈکشن آرڈر کے بارے میں وزارت قانون سے رائے مانگی ہے، میں نے سب سے زیادہ پروڈکشن آرڈر جاری کیے، کسی کی پروا کیے بغیر آزادانہ فیصلے کیے اورآئندہ بھی کروں گا۔ اسد قیصر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے تقرر کا معاملہ عدالتی مسئلہ بن گیا ہے۔ عدالت جو فیصلہ کرے گی سب کیلیے قابل قبول ہوگا۔ عدالتی معاملے پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ وزیر قانون کو نیب کی مجوزہ ترامیم پر اپوزیشن کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ اتفاق رائے کی کوشش کی جائے تاکہ سینیٹ میں بل آسانی سے منظور ہوجائے۔ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلیے حکومت و اپوزیشن نے مشترکہ کمیٹی بنائی، کمیٹی کو اپنا کام مؤثر انداز میں کرنا چاہیے اور طریقہ کار کے تحت کام ہو بھی رہا ہوگا۔ کسی کو نیب قانون پر اعتراض کرنے کے بجائے احتساب کے حوالے سے اپنے مقدمات کا مؤثر دفاع کرنا چاہیے۔