مقبوضہ کشمیر میں 35 ویں روز بھی کرفیو ۔بھارتی فوج کی محرم کے جلوس پر فائرنگ ،شیلنگ ،متعدد زخمی

73
سری نگر: قابض بھارتی فوج تعزیتی جلوس کے شریک کو گرفتار کرکے لے جارہی ہے
سری نگر: قابض بھارتی فوج تعزیتی جلوس کے شریک کو گرفتار کرکے لے جارہی ہے

سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محرم کے جلوس پر بھی پیلٹ گنز اور شیلنگ کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعددافراد زخمی ہوگئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق محرم کا جلوس پرامن طریقے سے گزر رہا تھا کہ اچانک بھارتی دستوں نے اسے روکنے کی کوشش کی ۔ شرکاء نے جلوس روکنے سے انکار کیا تو قابض فورسز نے فائرنگ اور شیلنگ کردی جس کے بعد جھڑپیں شروع ہوگئیں،ان جھڑپوں میں متعددکشمیری زخمی ہوگئے جبکہ درجنوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی فورسز نے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گنوں کا بھی استعمال کیا۔ ان جھڑپوں کے دوران کشمیریوں نے بھارتی فوجیوں پر پتھراؤ بھی کیا۔ جرمن خبررساں ادارے ڈوئچے ویلے کے مطابق اتوار کو پولیس کی گاڑیوں پر نصب لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے اعلانات کیے جاتے رہے کہ شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ہی رہیں اور باہر نکلنے کی کوشش نہ کریں۔ دوسری جانب مقبوضہ وادی میں ڈیوٹی سرانجام دینے والے کشمیری اہلکار بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے پھٹ پڑے اور کہا کہ ہمیں غدار سمجھا جاتا ہے۔ مودی سرکار کی نوکری کرنے والوں کے لیے معاشرے میں کوئی عزت نہیں، 5اگست کے بعد اپنے ہی خاندان والوں سے آنکھ نہیں ملا پاتے۔ایک سرکاری ملازم راشد نے بتایا کہ انہیں دفتر جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں کشمیری جوان سڑک پر نہ روک لیں۔ تبریز نامی کشمیری پولیس اہلکار نے اپنا حال بتاتے ہوئے کہا کہ خوف کی وجہ سے سرکاری ملازم محکمے کا کارڈ ساتھ نہیں رکھتے۔ ایک نے تو اپنے گھر والوں سے یہاں تک کہہ دیا کہ مقبوضہ وادی میں جب کوئی احتجاج ہو تو مظاہرین میں شامل ہو جاؤ۔جرمن میڈیا نے ایک بار پھر مودی سرکار کے جھوٹ کا پول کھولتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ علاج اور آپریشن کے لیے اسپتالوں میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔جنت نظیر وادی میں مودی حکومت کے کرفیو کو 35 روز گزر چکے ہیں، مودی حکومت نے کشمیریوں سے نہ صرف حق خودارادیت کو چھین لیا ہے بلکہ کشمیریوں کی مذہبی آزادی کا حق بھی غصب کرلیا ہے۔بھارتی حکومت نے مقبوضہ وادی میں محرم الحرام کی مناسبت سے نکلنے والے تمام جلوسوں پر پابندی لگا رکھی ہے جب کہ سری نگرمیں ماتمی جلوس پر آنسو گیس، پیلٹ گنز اور لاٹھی چارج کرکے کئی عزاداروں کو زخمی کردیا گیا۔کھانے پینے کی چیزوں اور ادویات کی قلت نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنارکھی ہے۔ ٹرانسپورٹ، کاروبار، دکانیں اور دفاترمکمل بند ہیں، کرفیواور سخت پابندیوں کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔