صلاح الدین قتل کیس:پنجاب پولیس کے ہوش ٹھکانے آنے لگے۔تھانوں میں اسمارٹ فون پر پابندی عاید

101

انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب نے پنجاب بھر کے تھانوں میں پولیس ملازمین کے ٹچ اور کیمرہ موبائل (اسمارٹ فون)کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے یہ پابندی شہریوں کی غیر قانونی حراست اور زیر حراست افراد پر بہیمانہ تشدد اورپولیس پر شدید تنقید کے علاوہ لیڈی کانسٹیبل کی جانب سے ویڈیو بیان سوشل میڈیا پروائرل ہونے کے بعد عائد کی گئی ہے جبکہ تھانوں کے ایس ایچ اوز اور تھانہ محرر اس پابندی سے مستثنیٰ ہو گے آئی جی کے احکامات کے بعد سی پی او راولپنڈی کی جانب سے ضلع بھر کے تمام تھانوں کو جاری پولیس سٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کے تحت تھانے آنے والے سائلین اورعام شہریوں کے بھی فون تھانے لے جانے پر پابندی کا حکم نامہ جاری کر دیاجس میں ہدایت کی گئی کہ تھانے آنے والے افرادانٹری ڈیسک پر اپنے موبائل جمع کروائیں گے ۔ یہ پابندی صرف پولیس ملازمین کے لئے ہے تھانے آنے والے سائلین، عام افراد اور میڈیا سے وابستہ افراد پر اس پابندی کا اطلاق نہیں ہو گا اس ضمن میں پنجاب بھر کے تمام ریجنل،ضلعی اور سٹی پولیس افسران کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن نمبر8515/OPS-Iمیں کہا گیا ہے کہ مجاز اتھارٹی کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ پنجاب بھر کے تھانوں میں تعینات پولیس اہلکاردوران ڈیوٹی بدستور کیمرے والے اسمارٹ فون استعمال کر رہے ہیں حالانکہ اس حوالے سے متعلقہ حکام کو پہلے ہی واضح طور پر آگاہ کر دیا گیا تھالیکن ان احکامات اور ایس او پی کی مسلسل خلاف ورزی محکمے کی کاکردگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہے لہٰذا آئندہ کسی بھی تھانے کے ایس ایچ او اور ڈیوٹی محرر کے علاوہ کوئی بھی پولیس اہلکار دوران ڈیوٹی موبائل فون استعمال نہیں کر سکے گا اور احکامات کی خلاف ورزی پر نہ صرف متعلقہ اہلکار بلکہ اس کے سپروائزری افسر کے خلاف سخت ترین محکمانہ کاروائی کی جائے گی ادھر آئی جی کے احکامات کے بعد سی پی او راولپنڈی فیصل رانانے ضلع بھر کے تمام تھانوں کو مراسلہ جاری کر دیا ہے جس میں سختی سے ہدائیت کی گئی ہے کہ تھانے میں ایس ایچ او اور تھانہ محرر کے علاوہ کوئی بھی پولیس اہلکار اینڈرائیڈ ٹچ موبائل فون پاس نہیں رکھ سکے گا مراسلہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بھی ملزم کو یا شخص کو غیر قانونی حراست میں تھانے میں رکھا جائے نہ ہی تشدد کیا جائے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز آئی جی کے احکامات کو سوشل میڈیا پر توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور پولیس ملازمین پر دوران ڈیوٹی موبائل فون کی پابندی کو تھانے آنے والے سائلین اورعام شہریوں سے منسلک کرنے پر آئی جی آفس اور بعد ازاں سی پی او آفس سے اس پروپیگنڈے کی سختی سے نفی کرتے ہوئے کہا گیا کہ میڈیا کوئی خبر شائع یا نشر کرنے سے پہلے خبر کی تصدیق کر لیا کرے اس حوالے سے وضاحت کی گئی ہے کہ تھانوں میں تعینات پولیس افسران و ملازمین کے سمارٹ فون کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے تھانوں میں آنے والے سائلین پر اس پابندی کا اطلاق نہہیں ہو گاتھانوں میں آنے والے افراد سمارٹ فون استعمال کر سکیں گے۔