بلوچستان کے70فیصد بچے تعلیم سے محروم

74

 

کوئٹہ (نمائندہ جسارت) خواندگی کے لحاظ سے بلوچستان سب سے پیچھے ہے، صوبے میں شرح خواندگی 46 فیصد ہے، جبکہ صوبے کی خواتین میں یہ شرح صرف 13 فیصد ہے۔ بلوچستان میں 5 سے 16 سال کے درمیان کی عمر کے 70 فیصد بچے تعلیم سے محروم ہیں۔اعدادوشمار کے مطابق اس وقت صوبے میں 19 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جن میں سے 9 لاکھ 27 ہزار لڑکے اور 9 لاکھ 84 ہزار لڑکیاں شامل ہیں۔بلوچستان میں گزشتہ پانچ سال سے سب سے زیادہ بجٹ تعلیم کے لیے ہی مختص کیا جارہاہے، 2015-16ء میں کل بجٹ کا 20 فیصد مختص کیا گیا۔ 2016-17ء میں تعلیم کے لیے 42 ارب روپے مختص کیے گئے، 2018-19ء میں تعلیم کے لیے 56 ارب روپے سے زائد جبکہ رواں برس کے لیے 60 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔ بلوچستان میں کل 11627 اسکول موجود ہیں، جن میں سے سات ہزار سے زائد اسکول چھتوں سے محروم ہیں، بیشتر اسکول ایک کمرے اور ایک استاد پر مشتمل ہیں، 6700 اسکولوں میں مرمت کی ضرورت ہے جبکہ 2500 اسکولوں کو خطرناک قرار دیا جاچکا ہے۔ صوبے میں 1835 اسکول بغیر کسی عمارت کے موجود ہیں اور 1800 سے زائد اسکول غیر فعال ہیں۔بلوچستان میں ایک بڑا مسئلہ گھوسٹ اساتذہ کا بھی ہے، صوبے میں اساتذہ کی تعداد 70 ہزار سے زائد ہے۔ پچھلے سال حکومت نے اساتذہ کی جانچ پڑتال شروع کردی تھی جن میں سے 15 ہزار اساتذہ کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ محکمہ تعلیم بلوچستان نے گزشتہ ایک سال کے دوران تین ہزار کے قریب اساتذہ کو غیر حاضری اور انکوائری کمیشن کے سامنے پیش نہ ہونے پر معطل بھی کیا ہے۔