پاکستان نے بھارتی صدر کو فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا

227

 

اسلام آباد،پشاور(آن لائن،اے پی پی) پاکستان کی جانب سے بھارت کی فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا بھارتی صدر رام ناتھ کوند نے (آج) اتوار کو آئس لینڈ جانا تھا لیکن پاکستان نے رام ناتھ کوند کے طیارے کو کلیئرنس دینے سے انکار کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کو فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے ،بھارتی صدر رام ناتھ کوند نے 8ستمبر کو آئس لینڈ کا دورہ کرنا تھا لیکن
پاکستان نے اپنی فضائی حدود بھارت کو استعمال کرنے سے روک دیا ہے اور پاکستانی حکام نے رام ناتھ کوند کے طیارے کو کلیئرنس دینے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر بھارت ٹس سے مس نہیں ہو رہا ۔ بھارتی جنونیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان نے یہ فیصلہ کیا۔ بھارت نے گزشتہ 34 روز سے کشمیریوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم کررکھا ہے، ہم نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور نہایت محتاط طریقے سے مسئلے کو اٹھایا لیکن بھارتی حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا طیارہ پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے فرانس پہنچا تھا جس کی اجازت پاکستان کی جانب سے باقائدہ دی گئی تھی۔علاوہ ازیںوفاقی وزیربرائے ہوابازی غلام سرورخان نے کہاکہ بھارت سے آنے اورجانے والی تمام فلائٹس کی بندش زیرغور ہے۔بھارت اپنی حرکتوںسے باز نہ آیاتوآپشن موجودہے۔ بھارت کی وزارت خارجہ نے اپنے صدرکی آئس لینڈجانے کیلیے پاکستانی حدوداستعمال کرنے کی درخواست کی تھی مگرہم نے کہہ دیاکہ بھارتی صدرآئس لینڈ جانے کے لیے اورنہ ہی آنے کیلیے پاکستان کی فضائی حدوداستعمال کریگا۔ انڈیا کی ہر پرواز ہماری فضائی حدود استعمال کرتی ہے اوریہ فلائٹس بھی ہم بندکرسکتے ہیں۔ ہم نے مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی جارحیت کیخلاف اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل میں آواز اٹھائی اوراقوام متحدہ کادوہرامعیار بتانے وزیراعظم جارہے ہیں،پوری قوم کے جذبات کے تحت بھارت کیساتھ تجارت معطل کردی اورسفارتی تعلقات نچلی سطح تک لے آئے ہیں۔ان خیالات کااظہارانہوںنے پشاورمیںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پروزیراعلیٰ کے ترجمان اجمل وزیربھی موجودتھے۔ذرائع ابلاغ کے نمائندوںسے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیربرائے ہوابازی غلام سرورخان نے کہاکہ 5 اگست 2019 سے کشمیر پر ہندوستان نے قبضہ کیا ہوا ہے،مقبوضہ کشمیرمیںانسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہے، مختلف رہنمائوں سمیت 4000 کشمیریوں کو گرفتار کرکے جیل میں رکھا گیا ہے، کشمیری علاج معالجے سے قاصر ہیں وہ باہر نہیں نکل سکتے۔انہوںنے کہاکہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ظلم وستم کے متعلق وزیر اعظم مختلف ممالک سے روزانہ کی بنیاد پر رابطہ کر رہے ہیں،ہندوستان جیسا کر رہا ہے ہمیں بھی عملی طور پر مظاہرہ کر نا چاہیے۔