حکمرانوں نے عزت، وقار

103

سب غرق کردیا
مقبوضہ کشمیر میں ایمرجنسی نافذ ہے۔ تعلیمی ادارے، موبائل، انٹرنیٹ بند، کشمیر کا دنیا سے رابطہ منقطع کردیا گیا۔ مقبوصہ کشمیر کی خصوصی ریاستی حیثیت ختم کرنا، کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا انکار اور پاکستان کے لیے کھلا اعلان جنگ ہے۔ وہ نہتے لوگ جو بھارت کی سفاک فوج کے سامنے پاکستان کا پرچم بلند رکھتے تھے۔ جو امریکا، اسرئیل، بھارت کے پاکستان مخالف گٹھ جوڑ کے سامنے ڈھال بن کر کھڑے ہیں۔ وہ پاکستان کو پکار رہے ہیں۔ نجانے ان چند دنوں میں اور کتنی ماؤں کی گودیں اجاڑی گئیں۔ کتنے بے گناہوں کو خاک، خون میں نہلا دیا گیا، کتنی عورتوں کی عصمتیں تار تار کی گئیں۔ کتنوں کو
معذور، قیدو بند کیا گیا۔ ہمارے حکمران ابھی سوچ رہے ہیں کیا جواب دیں۔ بحث جاری ہے۔ ’’روم جلتا رہا نیرو بانسری بجاتا رہا‘‘۔ کشمیریوں کی نسل کشی جاری ہے۔ ہماری اسمبلی کی سلامتی کے ہیروز راگ الاپنے میں مصروف ہے۔ جن رہنماؤں میں غیرت و حمیت ہوتی ہے۔ وہ قوم کا سودا نہیں کرتے۔ ٹیپو سلطان تنہا لڑتے شہید ہوگئے۔ مگر دلوں میں زندہ ہیں۔ مگر پاکستانی قوم کو اکثر میر جعفر، میر صادق جیسے غداروں سے سابقہ درپیش رہا ہے۔ جنہوں نے اپنی بدعہدی، بے حسی، بے حمیتی کے سونامی میں پاکستان کی عزت و وقار کو غرق کیا۔ قوم مسلسل، بحران، سانحات، صدمات جھیل رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر پر قبضہ، دراصل پاکستان پر حملہ ہے۔
صائمہ ناظم آباد