ماہ محرم میں کرنے کے کام

92

مفتی ثناء اللہ

اہل سلام کو عاشورے کے سلسلے میں جو تعلیم اسلام نے دی ہے وہ ایک تو یہ ہے کہ ہم عاشورے کا روزہ رکھیں۔
آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ جو آدمی عاشورے کا روزہ رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے سال کے صغیرہ گناہوں کو معاف فرمادیتے ہیں۔ (مسلم)
اور دوسری بات یہ کہ ہم یہودیوں کی مشابہت سے اجتناب کریں اور نہ صرف دس محرم کا روزہ رکھیں، بلکہ نو اور دس یا دس اور گیارہ کا روزہ رکھیں۔
اس کے علاوہ جو بہت اہم بات ہے، وہ یہ کہ نیا سال ہے، ہر آدمی خواہ وہ تجارت کرتا ہو، زراعت کرتا ہو، یا اور کوئی کام اور پیشہ اختیار کرتا ہو، وہ اپنے اس کام کو جانچتا ہے، حساب کتاب کرتا ہے، ایک دکاندار اپنی دکان کا حساب نہ کرے، تو اس کی دکان تباہ ہو جائے گی، ایک کسان اپنی زراعت کا حساب کتاب نہ رکھے تو اس کی زراعت برباد ہو جائے گی۔
میرے دوستو! بالکل اسی طرح ایک سال گزرا ہے اور دوسرا سال شروع ہوگیا ہے، ہم ضرور جائزہ لیں کہ خدا نخواستہ خدانخواستہ اگر ہم پہلے گناہوں میں مبتلا تھے، بدعملیوں میں مبتلا تھے، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل نہیں کر رہے تھے، تو ہم توبہ کریں، استغفار کریں، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور ایک نئے جذبے کے ساتھ اور ایک نئے عہد کے ساتھ اس سال کی ابتدا کریں۔
اے اللہ! ہم سے نمازوں میں جو کوتاہی ہوئی ہم آئندہ نہیں کریں گے۔
ہم سے روزوں میں کوتاہی ہوگئی، ہم آئندہ نہیں کریں گے، ہم سے زکوٰۃ کی ادائیگی میں کوتاہی ہوئی، ہم آئندہ نہیں کریں گے، ہم سے اور جو ہمارے ذمے امور ہیں اور تعلیمات ہیں، ان میں ہم سے کوتاہیاں ہوئیں اور یقینا ہوئیں، اس پر استغفاراور توبہ کریں۔
اگر ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں گے، اور معافی مانگیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارے سارے گناہوں کو معاف فرما دیں گے۔
اور جو آدمی توبہ کرکے ایک نئے جذبے سے اعمال شروع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت اس کے ساتھ ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اعمال صالحہ کی توفیق نصیب فرماتے ہیں، یہ تمام امور اور کام اس کے خیر وبرکت کے ساتھ ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’تمام انسان خسارے میں ہیں، سوائے اس آدمی کے جو ایمان لایا ہو، سوائے اس آدمی کے جو اعمال صالحہ اختیار کرتا ہو، سوائے اس آدمی کے جو امر بالمعروف اختیار کرتا ہو، سوائے اس آدمی کے جو نہی عن المنکر کا اہتمام کرتا ہو‘‘۔ (العصر)
اس مختصر سورت میں اللہ تعالیٰ نے پورا نظام بتادیا کہ کامیابی اور ناکامی کا مدار ان چیزوں پر ہے۔
اپنے ایمان کی فکر کریں، آج مال کی فکر کرتے ہیں، دنیوی اسباب وسامان کی فکرکرتے ہیں، لیکن ایمان کی فکر نہیں کہ ایمان گھٹ رہا ہے یا بڑھ رہا ہے؟ مجھے اپنے ایمان کو بڑھانا چاہیے، مجھے اپنے ایمان کی ترقی کی فکر کرنی چاہیے، اسی طرح اس نے اپنی نماز پر محنت ہی نہیں کی، اس نے اپنی نماز کو بنایا ہی نہیں، اس نے اپنی نماز میں حسن اور خوبی پیدا نہیں کی ہے، تو وہ نماز اس کو فائدہ نہیں دے رہی، تو جو اعمال کر رہے ہیں، ان اعمال میں اگر کوتاہی ہے تو درست کریں ، سورۂ فاتحہ درست نہیں ہے، فاتحہ کے بعد سورت پڑھتے ہیں، وہ درست نہیں ہے تو اس کو درست کریں اور یہ بات یاد رکھیں کہ یہ جو ایمان اور اعمال صالحہ ہیں، یہ ترقی کرتے ہیں امر بالمعروف سے، جب آدمی خود بھی عمل کرتے ہوئے دوسروں کو بھی نیکی کی ترغیب اور دعوت دیتا ہے، نیکی کی طرف بلاتا ہے، اس آدمی کے ایمان میں بھی اللہ تعالیٰ ترقی عطا فرماتے ہیں اور اعمال صالحہ میں بھی ترقی عطا فرماتے ہیں۔
ایمان کی ترقی کے لیے اور عمل صالح کی ترقی کے لیے بہت اہم ہے کہ آدمی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اہتمام کرے، اس میں اپنے آپ کو لگائے، ہم ایک نئے سال کا آغاز کر رہے ہیں، تو ہم اس بات کا خیال اور لحاظ کریں کہ خدانخواستہ وہ غلطیاں اور کوتاہیاں جو ہم پہلے کرتے تھے، وہ اب ختم ہونی چاہییں، ہم توبہ کریں، اللہ تعالیٰ سے عہد کریں اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے، وہ بہت زیادہ معاف فرمانے والے ہیں۔