قوم آج یوم دفاع اوریکجہتی کشمیری منائے گی

87

 

اسلام آباد/راولپنڈی/لندن (اے پی پی) قوم آج یوم دفاع اوریکجہتی کشمیری منائے گی۔وطن عزیز کے دفاع کے لیے مسلح افواج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔ زندگی کے
مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شہداء کے مزاروں پر جا کر ان کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کریں گے جنہوں نے 1965ء کی جنگ کے دوران ملک کے دفاع کے لیے بڑی قربانیاں دیں، 6 ستمبرکو وفاقی دارالحکومت میں دن کا آغاز31 توپوں کی سلامی اور صوبائی دارالحکومتوں میں21، 21 توپوں کی سلامی سے ہوگا۔ یوم شہداء کی خصوصی تقریب پاک فوج کے جنرل ہیڈکوارٹر (جی ای ایچ کیو) راولپنڈی میں منعقد ہوگی جس میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ خطاب کر یں گے۔ اعلیٰ حکومتی شخصیات، فوجی حکام اور شہداء کے خاندان تقریب میں شریک ہوںگے۔ یوم دفاع پاکستان کے سلسلہ میں تمام کنٹونمنٹس کے علاوہ مختلف شہروں میں چھوٹی، بڑی پروقار تقاریب کا اہتمام کیاجائے گا اور 6 ستمبر 1965ء کی جنگ میں جام شہادت نوش اور دفاع وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سمیت نشان حیدر پانے والے شہداء افواج پاکستان کی یاد گاروں پر پھول چڑھائے جائیں گے اور دعائے مغفرت کی جائے گی۔ اس موقع پر مختلف شہروں میں قرآن خوانی کا بھی اہتمام کیاجائے گا۔ یہ دن 6 ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ کی یاد میں منایا جاتا ہے جب بزدل بھارتی افواج نے مغربی پاکستان کے محاذ پر جنگ چھیڑی اور اچانک لاہور پر حملہ کر دیا۔ اس موقع پر پاکستان کی مسلح افواج کے جوانوں نے اپنی سرحدوں کی حفاظت کا حق ادا کرتے ہوئے دشمن افواج کو ایسا سبق سکھایا کہ اس کی کئی نسلیں اسے یاد رکھیں گی۔پاکستان کی سول ملٹری قیادت کے فیصلے کے مطابق یوم دفاع کو مقبوضہ جموں کشمیر کے مظلوم عوام پر ہونے والے ظلم و ستم اور کشمیر کی صورتحال کے تناظر میں ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے لوگو کے ساتھ منایا جائے گا۔اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں یوم دفاع پاکستان کے حوالے سے خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔ شہداء کے لیے خصوصی دعائوں کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔اس موقع پر صوبائی دارالحکومت لاہور میں شاعر مشرق، مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒاور کراچی میں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒکے مزاروں پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریبات منعقد ہوں گی جہاں اہم حکومتی، سیاسی شخصیات کے علاوہ گیریژن کمانڈرز اور اعلیٰ فوجی حکام حاضری دیں گے۔ پاکستان ٹیلی ویژن،ریڈیو پاکستان اور نجی ٹیلی ویژن چینلز پر یوم دفاع کے حوالے سے خصوصی پروگرامات، ملی نغمے، ٹیبلوز پیش کیے جائیں گے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یوم دفاع و شہداء کے موقع پر کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اس عہد کی تجدید کی ہے کہ ہم کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلا کر رہیں گے، ان کی جدوجہد آزادی کے لئے ہر سطح اور ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کرتے رہیں گے، بھارت کے یکطرفہ فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں، یقیناً دنیا کو ادراک ہوتا جا رہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں سلگنے والی یہ چنگاری دنیا کے امن کے لیiے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ادھر وزیراعظم عمران خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سلامتی کو لاحق خطرات سے غافل نہیں رہ سکتے، بحیثیت قوم ہم دشمن کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی کی جانب سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی دنیا کے سامنے ہے، دنیا بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش کیوں ہے، کیا مسلمانوں پر مظالم کے وقت عالمی برادری کی انسانیت دم توڑ جاتی ہے، عالمی برادری اس رویے سے دنیا کے 1 ارب 30 کروڑ مسلمانوں کو کیا پیغام دے رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کی بھارتی فورسزکا مقبوضہ کشمیر کے محاصرے کا 32 واں دن ہے، اس محاصرے کی آڑ میں پیلٹ گنوں سے بھارتی فورسز نے کشمیری مردوں ، خواتین اور بچوں کو گولیاں مار کر شہید اور زخمی کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ کشمیری مردوں کوحراست میں لے کر بھارتی جیلوں میں پھینکا جارہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں ادویات اور اشیائے ضروریہ کی شدید قلت ہے، مقبوضہ وادی میں مواصلاتی بلیک آوٹ کے باعث کشمیری اپنی اہل خانہ اور بیرونی دنیا سے کٹے ہوئے ہیں، تمام پابندیوں کے باوجود مظالم کی داستانیں عالمی میڈیا کی زینت بن رہی ہیں لیکن عالمی برادری خاموشی نہیں توڑ رہی۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان سے اومان کے پارلیمانی وفد نے چیئرمین مجلس شوریٰ شیخ خالد بن ہلال المعوالی کی قیادت میں وزیراعظم آفس میں ملاقات کی۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعظم نے وفد کو مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی حالت زار اور بھارتی افواج کی طرف سے نہتے کشمیری مسلمانوں کے خلاف ڈھائے جانے والے مظالم سے آگاہ کیا۔ دونوں اطراف نے مختلف شعبہ جات میں باہمی تعاون کو تقویت دینے اور دو طرفہ تجارت میں مزیداضافے کی ضرورت کا بھی اعادہ کیا۔ اومان کے وفد میں محمد علی امیر باقی، محمد خمیس عبداللہ البادی، محمد رمضان قاسم البلوشی، یونس یعقوب عیسی السیابی، سلیم عمار سعید المفارجی اور سفیر الشیخ الاعمر مرحون شامل تھے۔ادھر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجودہ سے سعودی عرب اور یو اے ای کے وزیر خارجہ نے ملاقات کی جس میں دونوں وزرائے خارجہ نے بھارتی اقدامات کیخلاف پاکستان کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے جنرل ہیڈ کوارٹر راولپنڈی میں ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا آرمی چیف نے دونوں ممالک کے ساتھ خصوصی اسٹرٹیجک تعلقات پر فخر کا اظہار کیا دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق بھارتی اقدامات کیخلاف تعاون کی بھرپور یقین دہانی کروائی،جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ برادرانہ تعلقات پرہمیں فخر ہے۔دوسری جانب وزیراعظم آزادکشمیر راجا فاروق حیدر نے کہا ہے کہ برطانیہ بھارت کو کشمیریوں کی نسل کشی سے روکے اورمقبوضہ کشمیر کا بیرونی دنیا سے رابطہ بحال کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانیہ کے ڈپٹی اپوزیشن لیڈر ٹام واٹسن سے ملاقات میں کیا۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے برطانیہ کے ڈپٹی اپوزیشن لیڈر کو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ برطانیہ بھارت کو کشمیریوں کی نسل کشی سے روکے، مقبوضہ کشمیر کا بیرونی دنیا سے رابطہ بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ برطانیہ مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لیے اپنا اہم کردار ادا کرے۔ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان زمینی تنازع نہیں ہے۔ راجہ فاروق حیدر نے کہاکہ مسئلہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے ۔ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل تلاش کرے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو فوری ختم کیا جائے۔ کشمیریوں کو غذائی اجناس اور ادویات تک رسائی دی جائے۔ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔