مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند نہ ہوئے تو جنگ کے سوا کوئی راستہ نہیں ،ترجمان پاک فوج

314
راولپنڈی:ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور میڈیا کو بریفنگ دے رہے ہیں
راولپنڈی:ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور میڈیا کو بریفنگ دے رہے ہیں

راولپنڈی ( خبرایجنسیاں) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آ صف غفور نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند نہ ہوئے توجنگ کے سواکوئی راستہ نہیں ہوگا۔بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی کوئی پالیسی نہیں، کشمیر ہماری شہ رگ اورجان سے زیادہ عزیز ہے،کشمیر ہماری رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے،اس کے لیے آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری حد تک جائیں گے، چاہے اس کی خاطرکوئی بھی قیمت چکانی پڑے، ہمارے پاس بھرپور صلاحیت موجود ہے، سارے منصوبے تیار ہیں،فوج اپنے منصوبے پریس کانفرنس میں نہیں بتاتی، قوم اطمینان رکھے ، کیسے کریں گے یہ ہم پرچھوڑدیں۔فوجی ترجمان نے کہا کہ بہادر کشمیریوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آزادی کی اس جدوجہد میں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں،کشمیر کسی فرد، جماعت یا ادارے کا نہیں بلکہ سب کا ایشو ہے، اس پر سودے بازی ہوئی نہ ہونے دیں گے،کشمیر پر ڈیل ہماری لاشوں سے گزر کر ہوگی،مسئلہ حل نہیں ہوا تو جنگ کا آپشن مجبوری ہوجائے گا۔ آصف غفور کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان کی ملاقات میں کشمیر کے معاملے پر کوئی بات ہی نہیں ہوئی ، جو بھی بات ہوئی سامنے آئی، ہمیں اپنی قیادت پر اعتماد کرنا چاہیے، ہم 72 سال میں پیچھے نہیں ہٹے تو اب کیسے ہٹ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں آر ایس ایس سوچ کی حکومت قائم ہے،بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہٹلر کا پیروکار ہے اور بھارت خطے میں نئی جنگ کے بیج بورہا ہے اورمقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تیز کر دی ہیں، اگر بھارت ایٹمی ہتھیارپہلے استعمال کرتا ہے تو یاد رکھے کہ پہلے کے بعد دوسرا بھی آتا ہے،2 نیوکلیئر طاقتوں کے درمیان جنگ کی گنجائش نہیں ہوتی ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بقول جنگیں ہتھیاروں یا معیشت سے نہیں بلکہ عزت ،غیرت، حب الوطنی ، جذبے اور عوام کے اعتماد کے ساتھ لڑی جاتی ہیں، بھارت کو 27 فروری یاد رہنا چاہیے ، پاک فوج کے حسن اور نعمان جیسے بہادر جوان تیار بیٹھے ہیں۔فوجی ترجمان نے کہا کہ بدقسمتی سے عالمی طاقتوں نے مسئلہ کشمیر میں دلچسپی نہیں دکھائی، کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے، خصوصی حیثیت ختم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کشمیر کی جغرافیائی صورتحال کو اس طرح تبدیل کیا جائے کہ کشمیری وہاں نہ رہ سکیں۔ آصف غفور کے مطابقہمارے خطے میں عالمی طاقتوں کے مفادات ہیں، لیکن جس کے جو بھی مقاصد ہیں وہ پاکستان کو نظرانداز کرکے پورے نہیں ہوسکتے، ہمارا خطہ طاقت کی عالمی کشمکش کا مرکز ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے 125 جرنیلوں کی پروموشن رکنے کی باتیں من گھڑت ہیں، یہ سب یوٹیوب کی آوازیں ہیں، ایسا کچھ نہیں ہے، ایک کے بدلے ایک ہی پروموشن ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے تھے، ہم نے انہیں قائل کیا۔فوجی ترجمان نے بتایا کہ اسامہ بن لادن کی کال ٹریس کرکے امریکا سے تفصیلی انٹیلی جنس شیئرنگ کی لیکن امریکا نے مشترکہ آپریشن کے بجائے خود اسامہ کے خلاف آپریشن کرکے دھوکا دیا۔ میجرجنرل آصف غفور نے مزید کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں پروپیگنڈا ہیں، پاکستان کا اسرائیل پر گزشتہ 72 سال سے جو موقف رہا ہے وہ برقرار ہے، اس میں اب تک کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔