پشاور ہائیکورٹ: صوبے میں بلدیاتی انتخاب روکنے کا حکم

48

پشاور(صباح نیوز/ اے پی پی) پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو تاحکم ثانی بلدیاتی انتخابات کروانے سے روک دیا۔ درخواست گزار نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ء میں ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کو ختم کرکے تحصیل گورنمنٹ کا نظام بنایا گیا۔ حکومت نے تحصیلوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنا تھا۔ پشاور کو 5 تحصیلوں میں تقسیم کرکے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ پشاور کے علاوہ باقی صوبے میں کسی بھی جگہ کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ درخواست گزار نے سوال اٹھایا کہ تحصیلوں کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا تو الیکشن کیسے کرائے جاسکتے ہیں؟ عدالت نے ابتدائی سماعت اور درخواست گزار کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد تاحکم ثانی کے پی حکومت کو بلدیاتی انتخابات کروانے سے روک دیا اور آئندہ سماعت پر فریقین سے تفصیلی جواب طلب کرلیا ہے۔ پشاورہائیکورٹ نے چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کیخلاف دائررٹ پٹیشن واپس لینے پر نمٹادی۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس محمد نعیم پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔ میاں عزیز الدین کاکاخیل ایڈووکیٹ نے آرمی چیف کی توسیع کو چیلنج کیا تھا۔ اٹارنی جنرل انور منصور اور ایڈووکیٹ جنرل شمائل بٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سوشل میڈیا سے غلط اعلامیہ اٹھاکر رٹ دائر کی گئی، درخواست گزار نے رٹ بھی واپس لی ہے۔ درخواست گزار نے بھی تصدیق کی کہ کیس واپس لینا چاہتا ہوں۔ جس پر عدالت نے کیس نمٹا دیا۔ پشاور ہائیکورٹ میں 2 عیدوں سے متعلق کیس میں سرکار نے جواب جمع کرانے کیلیے مزید مہلت مانگ لی۔ درخواست گزار شاہد اورکزئی نے دائر رٹ میں گورنر، وزیراعلیٰ اور وزیر اطلاعات کو فریق بنایا تھا جبکہ درخواست گزار کی جانب سے مفتی منیب کیخلاف کیسز یکجا کرنے کی استدعا کی گئی، عدالت نے کیسز کو یکجا کرکے سماعت 25 ستمبر تک ملتوی کردی۔