حکومت جہاد کا اعلان اور سیز فائر لائن پر باڑ فوری ختم کرے،خالد محمود

200
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر خالد محمود خان شوریٰ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کررہے ہیں
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر خالد محمود خان شوریٰ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کررہے ہیں

اسلام آباد(صباح نیوز) جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے امیر ڈاکٹر خالد محمود خان نے کہا ہے کہ حالات کا تقاضا ہے کہ پوری قوم اور تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں مل کر فوری طور پر سیز فائر لائن توڑ کر اپنے بھائیوں کی مدد کریں ،وزیر اعظم کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے میں اصولی طور پر سیز فائر لائن توڑنے کا فیصلہ کیا گیا ،وزیر اعظم کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو تاریخ کا اعلان کرنا ہے ،اگر متفقہ طور پر اعلان نہ کیا گیا تو جماعت اسلامی پوری کشمیری قوم کو ساتھ لے کرسیز فائر لائن توڑکراپنے بھائیوں کی مدد کرے گی ،ہر جمعے کو پورے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں مظاہرے کیے جائیںگے ،حکومت جہاد کا اعلان کرے سیز فائر لائن پر لگی باڑ فوری طور پر اڑائی جائے ،حکومت پاکستان بھارت کے ساتھ تمام معاہدے ختم کرے ،فضائی حدود بند اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بھی ختم کی جائے ،او آئی سی بھارت کا معاشی اور سیاسی بائیکاٹ کرے ،اقوا م متحدہ، یورپی یونین اور انسانی آزادیوں پر یقین رکھنے والے ممالک بھارت پر دبائو ڈالیں کہ وہ کشمیریوں کو حق خودارادیت فراہم کرے اور کشمیریوں کی نسل کشی بند کرے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی مجلس شوریٰ کے خصوصی اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اجلاس سے سابق امرا عبدالرشید ترابی،سردار اعجاز افضل خان،حریت رہنما غلام محمد صفی ،نائب امرا نورالباری، شیخ عقیل الرحمن، مشتاق ایڈووکیٹ،ارشد ندیم ایڈووکیٹ، راجا جہانگیر خان،سیکرٹری جنرل راجا فاضل حسین تبسم سمیت دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا ، اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی تشویشناک صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کیے گے ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد محمود نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی انتہا ہے 15لاکھ بھارتی فوج کشمیریوں کی نسل کشی اور آر ایس ایس کے غنڈے قتل عام کررہے ہیں ،ان حالات میں حکومت پاکستان اقدامات میں تیزی لائے اور جہاد کا اعلان کرے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں پاکستان کی ریاست اور عوام سے کوئی گلہ نہیں لیکن حکمران مطلوبہ کردار ادا کریں، اس وقت تک کیے جانے والے اقدامات ناکافی ہیں ،مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کنوینر کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل و چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی عبدالرشید ترابی نے کہا کہ حکومت پاکستان 1947ء والی آزاد خطے کی انقلابی حکومت بحال کرے تاکہ بیس کیمپ کی حکومت عسکری اور سفارتی سطح پر فعال اور متحرک کردار ادا کرسکے، وزارت خارجہ میں کشمیر سیل اور دنیا بھر کے سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسک قائم کرنا حوصلہ افزا اقدام ہے لیکن وزیر اعظم پاکستان عمران خان وفد کی قیادت کرتے ہوئے خود دنیا کے اہم ممالک کے دورے کریں، اسلامی ممالک کی حمایت حاصل کر کے بھارت کا معاشی بائیکاٹ کرائیں، او آئی سی کا سربراہی اجلاس اسلام آباد میں طلب کیا جائے او ر کشمیر کی آزادی کا لائحہ عمل طے کیا جائے اس وقت مقبوضہ کشمیر میں ایک کروڑ انسان موت وحیات کی کشمکش میں ہیں ان کی زندگیوں کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں ۔