بھارت کل بھوشن سے بیان تبدیل کرانے میں ناکام ،پاکستان پر دبائو کے الزامات

202
اسلام آباد: قونصلر رسائی کے بعد بھارتی ہائی کمشنر کے افسران بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو سے ملاقات کے بعد واپس جارہے ہیں
اسلام آباد: قونصلر رسائی کے بعد بھارتی ہائی کمشنر کے افسران بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو سے ملاقات کے بعد واپس جارہے ہیں

اسلام آباد/نئی دہلی (خبرایجنسیاں)پاکستان کی جانب سے کل بھوشن یادیو تک قونصلر رسائی دیے جانے کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہاہے کہ کل بھوشن شدید دباؤ میں تھے جس کے باعث وہ پاکستان کے عاید کردہ الزامات کو بھی قبول کررہے ہیں۔ترجمان نے کہاکہ ہم تفصیلی رپورٹ آنے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ وزارت خارجہ نے کل بھوشن کی والدہ سے بات کرکے انہیں ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کر دیا ہے۔ ان کے بقول مودی حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی کہ کل بھوشن کو جلد انصاف ملے اور وہ بحفاظت بھارت واپس آجائیں۔اھرپاکستانی دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ کل بھوشن کو عالمی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں قونصلر رسائی دی گئی ہے۔ بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر گورواہلو والیانے کل بھوشن یادھو سے ملاقات کی ہے جو تقریباً 2 گھنٹے جاری رہی۔دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں پاکستانی حکام بھی موجود تھے اور یہ ملاقات بلا تعطّل اور کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہی۔ ملاقات میں ہونے والی گفتگو کو ریکارڈ بھی کیا گیا ہے جس سے متعلق بھارتی حکام کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق ملاقات میں گفتگو کی زبان پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی تھی۔بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر گورو اہلووالیا سے کل بھوشن کی ملاقات نامعلوم مقام پر کروائی گئی جسے سب جیل کا درجہ دیا گیا تھا۔ملاقات کے دوران پاکستان کی جانب سے بھارتی امور کی ڈائریکٹر فریحہ بگٹی بھی موجود تھیں۔