باقی نہ رہی تیری آئینہ ضمیری

68

شفا ہما کراچی

جب مقبوضہ کشمیر کے 70 لاکھ مسلمان مسلسل تیسرے ہفتے کرفیو کی زد میں تھے،کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات کی بدترین قلت کے باعث انسانی المیہ جنم لے چکا تھا،جب لاک ڈاؤن اور مواصلاتی پابندیوں کے باعث کشمیر جیل میں تبدیل ہو چکا تھا، جب سڑکوں کی بندش سے لوگ بیماروں اور زخمیوں کا علاج بھی گھروں میں کرنے پرمجبور ہو گئے تھے، جب وادی کو ٹارچر سیل میں تبدیل کیا جا چکا تھا اور جب کشمیریوں پر عرصۂ حیات تنگ کیا جا رہا تھا، اس وقت عرب دنیا کے اہم ترین ملک متحدہ عرب امارات نے کشمیر کو مقتل میں تبدیل کرنے والے مودی کو بلاکر اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نواز دیا۔ متحدہ عرب امارات نے کبھی کھل کر کشمیر کے معاملے میں پاکستانی موقف کی حمایت نہیں کی اور نہ کبھی یک طرفہ طور پر کشمیر میں ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اُٹھائی لیکن مودی کو سول ایوارڈ دینا نہ صرف کشمیر کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے بلکہ عرب حکمرانوں کی بے حسی کی واضح دلیل بھی ہے۔ ممکن ہے بھارت سے تعلقات بڑھانا عرب امارات کی تجارتی مجبوری ہو۔ ممکن ہے افریقی مسلمانوں کی رائے میں یہ عرب آمریتوں کا پرانا کھیل ہی ہو۔ ممکن ہے یہ عرب آمروں کا اندرونی خوف ہو جس نے انہیں اس تکلیف دہ فعل پر آمادہ کیا۔ ممکن ہے امارات کے حکمران خاندان کی شہزادی کا قصہ ہی اِس عمل کی وجہ بنا ہو لیکن اِس عمل نے عرب دنیا کی بے ضمیری پر آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے :
ّآخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں ، عورتوں اور بّچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پا کر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں ، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیداکر دے” )النساء:٧٥)
کشمیری مسلمان طویل عرصے سے بھارت کے جابرانہ قبضے کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں۔ اس تاریخی جدوجہد نے ہر سازش کا مقابلہ کیا ہے۔ بہت سے ممالک نے کشمیر کو لے کر دنیا کے منظرنامے میں سیاست کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستانی حکمرانوں نے بھی کشمیر کے مسئلے پر موثر سفارت کاری کی کوشش نہیں کی حتیٰ کہ اقوا م متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی کشمیر پر مظالم کے کیس میں جعلی فلسطینی تصویریں ِدکھا کر کشمیر کا معاملہ مزید دھندال کر چکی ہیں۔ لفظی کھیل سے زیادہ پاکستانی حکمرانوں کے پاس کشمیر کے کرنے کو اور کچھ باقی نہیں بچا مسلمان ممالک کی بے حسی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ جب کشمیر اور دیگر مظلوم مسلمان ممالک اپنی آزادی کے لیے فیصلہ کن جنگ لڑ رہے ہیں اس وقت عرب کے حکمران مفادات کا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں۔ مودی کو ایوارڈ دینے کا فیصلہ اپریل میں کرلیا گیا تھا۔ موقع کا تقاضا تو یہ تھا کہ کشمیر کے دُکھوں کو نہ بڑھایا جاتا اور تقریب کی تاریخ آگے بڑھادی جاتی لیکن مفادات کو اہمیت دے کر اُمت کے زخموں پر نمک چھڑکا گیا۔
متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زاید نے مودی کو ایوارڈ سے نواز کر بہترین بزنس ڈیل کی ہے۔ وہ یمن کی بندرگاہوں سے لے کر قرن افریقا تک بحر ہند اور اس سےآگے عرب امارات کے تجارتی مفادات کو دیکھ رہے ہیں۔ اس قدر وسیع مفادات میں کشمیرکے 70 لاکھ مسلمانوں کا درد محسوس کس طرح ہو سکتا ہے؟
وہ ولولے آج ابنِ قاسم کے کیا فسانوں میںکھو گئے ہیں
نبی کی امت کے تن سے رستا ہوا یہ خوں تم سے پوچھتا ہے
مودی کو ایوارڈ دے کر بے ضمیری کی مثال قائم کرنے کے بعد متحدہ عرب امارات امت مسلمہ کے لیے رستا ہوا ناسور بن گیا ہے۔ سعودی عرب کو یمن جنگ میں دھکا دینے والا بھی عرب امارات ہی تھا۔ سعودی ولی عہد امارات کے حکمران کے اشاروں پر چلتے رہے ہیں۔ عرب امارات کا مقصد یمن جنگ کے ذریعے بندرگاہوں پر کنٹرول حاصل کرنا
تھا۔ سوڈان کی حالیہ بغاوت اور سیاسی بحران بھی عربوں کی مداخلت کا نتیجہ ہے۔ عرب امارات نے ہی 2011 میں مصر میں فنڈنگ کرکے شہید محمد مرسی کی حکومت کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ دبئی کی بندرگاہ کے مقابلے میں متحدہ عرب امارات گوادر کی بندرگاہ کو ناپسند کرتا ہے اور بھارت کے عزائم بھی گوادر کے حوالے سے کسی سے ڈھکے چپھے نہیں ہیں۔
آج کے دجالی دور میں جبکہ مسلم امت کو اتحاد کی اشد ضرورت ہے اور یہودی طاقتیں چہار اطراف سے ام امت مسلمہ کا شیرازہ بکھیر رہے ہیں، مسلم ممالک کا آپس میں ایک دوسرے کی جڑیں کاٹنا بے ضمیری، بے حسی اور خودغرضی کی علامت ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں کو دنیا سے کشمیریوں کی زندگی کی بھیک مانگنے کے بجائے عملی اقدام اٹھانا چاہیے ورنہ وہ دن دور نہیں جب اسلام کا کھوکھلا ہوتا قلعہ بھی اسلام دشمنوں کی بھینٹ چڑھادیا جائیگا۔
باقی نہ رہی تیری آئینہ ضمیری
اے کشتۂ سلطانی و ملائی و پیری