مودی سرکار مسلمانوں کواقلیت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے، وزیراعظم

151

وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر عالمی برداری کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے آزاد کشمیر پر حملہ کرسکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا آگاہ رہے کہ جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آگئی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے شمالی امریکا کی مسلم کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ مسلمان اپنے نبیﷺ سے بےحد محبت کرتے ہیں۔ دہشت گردی کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں دہشت گردی کے واقعات کو اسلام اور مسلمانوں سے جوڑا جاتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 9/11 کے بعد بھارت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دہشت گردی کا نام دیا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ مقبوضہ وادی میں 26 دنوں سے کرفیو نافذ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ریاست آسام میں 19 لاکھ مسلمانوں کی شہرت منسوخ کردی گئی ہے۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی تنظیم آر ایس ایس کا نظریہ ہٹلر اور موسولینی کی سوچ کاحامل ہے۔ بھارت پر ایک انتہاپسندانہ نظریہ قابض ہوگیا ہے جبکہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ بُرا سلوک کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرناچاہتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور پاکستان دنیا میں امن کے قیام کے لیے ہمیشہ جدوجہد کرتا رہے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فروری کی طرح بھارت پھر پاکستان پر حملہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے کوئی بھی قدم اٹھا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے مودی سرکار کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت نے ایسی کوئی بھی حرکت کی تو پاکستان جوابی کارروائی کرے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا کو دیکھنا چاہیے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کیا کر رہاہے۔ مقبوضہ وادی میں ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر متنازع علاقہ ہے۔ اہل کشمیر کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جانی چاہیے۔ مسئلہ کشمیر پر میں نے خود متعدد سربراہان مملکت سے بات کی۔