اندرون سندھ : موسلا دھار بارش انتظامی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے

57
ٹنڈوجام ،موسلادھار بارش کے بعد درخت گرے ہوئے ہیں ،دوسری جانب سڑک پر پانی جمع ہے
ٹنڈوجام ،موسلادھار بارش کے بعد درخت گرے ہوئے ہیں ،دوسری جانب سڑک پر پانی جمع ہے

 

حیدرآباد ، تلہار ، لاڑکانہ ، ٹنڈوالٰہیار (اسٹاف رپورٹر، نمائندگان جسارت) سرکاری کالونیاں زیر آب، گھٹنوں گھٹنوں پانی، علاقہ مکین محصور ہوگئے، انتظامیہ کے دعوے ایک مرتبہ پھر دھرے رہ گئے، ایکشن کمیٹی کا احتجاج۔ نیو وحدت کالونی ایکشن کمیٹی حیدر آباد کے چیئرمین شاہد سومرو نے مختلف کالونیوں کا دورہ کیا، جہاں لوگ پانی میں پھنسے ہوئے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے انتظامیہ کیخلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ بارش کا پانی خشک نہیں ہوپایا تھا کہ ایک مرتبہ پھر بارشوں کے باعث نشیبی علاقے سرکاری کالونیاں نیو، اولڈ، ایسٹ ویسٹ وحدت کالونی، پیون کالونی، جی او آر کالونی سمیت اینٹی کرپشن قاسم آباد کالونی میں کئی کئی فٹ پانی موجود ہے۔ کوارٹرز کے اندر اور باہر صرف پانی ہی پانی ہے، علاقہ مکین محصور ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ بلڈنگ کے چیف انجینئر سمیت دیگر افسران کے دعوے دھرے رہ گئے ہیں۔ مذکورہ کالونیوں کا سالانہ بجٹ اب تک ریلیز نہیں کیا گیا، نہ ہی بجلی کے طویل تعطل کا کوئی توڑ نکالا گیا ہے۔ یہاں نکاسی آب کے لیے جنریٹر تک مہیا نہیں کیے گئے ہیں۔ عیدالاضحی سے کچرے اور گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، کوئی پرسان حال نہیں۔ تلہارتحصیل کے مختلف علاقوں میں تیسرے روز گرج چمک کے ساتھ تیز طوفانی بارش، نشیبی علاقے زیر آب، مواصلاتی نظام درہم برہم، موبائل نیٹ ورکس، راستے بند، دیہات کا شہروں سے زمینی و ٹیلی فونک رابطہ مکمل کٹ گیا، تیز بارش سے کچے مکانات، سائن بورڈ اور درخت گر گئے۔ ضلع بھر میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی، انتظامیہ نے مزید بارشوں کی پیشنگوئی پر ہنگامی طور پر ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردیں۔ شہر کے گٹر نالے بھر گئے جبکہ بارش کا پانی گھروں کے اندر داخل ہوگیا۔ بارش کے بعد مچھروں اور زہریلے کیڑوں نے عوام کا سکھ چین چھین لیا ہے۔ بارشوں سے شہر کی اہم شاہراہیں بھی پانی میں ڈوب چکی ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوگئی ہے۔ لاڑکانہ شہر اور گردونواح میں گزشتہ صبح وقفے وقفے سے ہونی والی بارش کے بعد موسم خوشگوار ہوگیا جبکہ بارش کے باعث نشیبی علاقوں سمیت شہر کے اہم راستے زیر آب گئے۔ میونسپل انتظامیہ کی جانب سے برساتی پانی کی نکاسی کے لیے کوئی بھی اقدامات نہیں کیے گئے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بارش کے باعث اسکول و کالجوں میں طلبہ و طالبات اور اساتذہ جبکہ سرکاری و نجی دفاتر میں ملازمین کی حاضری بھی کم رہی۔ سیپکو کی جانب سے بارش کے بعد شہر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی بند کردی گئی، جس کے باعث معلومات زندگی شدید متاثر ہوئی اور شہر کے اہم کاروباری مراکز میں بھی کاروباری سرگرمیاں ماند پڑگئیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق لاڑکانہ اور گردونواح میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ آئندہ چند روز تک جاری رہے گا جس کے لیے شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ ٹنڈوالہٰیار اور گردنواح میں گزشتہ دو روز سے گرج چمک کے ساتھ تیز بارش، نشیبی علاقے زیر آب آگئے، شہر کی مختلف شاہراہیں سمندر کا منظر پیش کرنے لگیں۔ ٹنڈوالہٰیار اور گردونواح کے علاقے چمبڑ، نصرپور، پیارولوند، جھنڈومری، عمر ساند، بکیرا شریف، سنجرچانگ ودیگر علاقوں میں تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش نے ٹنڈوالہٰیار شہر اور گردنواح کے علاقوں کو جل تھل کرکے رکھدیا، درجنوں نشیبی علاقے زیر آب آگئے، شاہراہیں، گلی محلے سمندر کا سماں پیش کرنے لگے، جس کے سبب کئی چنگ چی رکشے، موٹر سائیکلیں، کاریں ودیگر گاڑیاں بند ہوگئیں، جس کے نتیجے میں مذکورہ گاڑیوں میں سوار مرد، خواتین و بچوں کو اپنی منزل کی جانب پیدل سفر کرنا پڑا۔ اس تمام تر صورتحال پر ضلعی اور میونسپل کمیٹی کے چیئرمین، نائب چیئرمین یا عملہ کہیں دکھائی نہیں دیا۔ بارش شروع ہوتے ہی بجلی کے کئی فیڈر ٹرپ ہوگئے اور گھنٹوں تک بجلی کا نظام بند، مواصلاتی نظام بھی درہم برہم ہوگیا۔ عوامی حلقوں نے حکومت سندھ، ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ جن علاقوں میں بارش کا پانی پانی جمع ہے ان علاقوں سے فوری طور پر نکاسی کا انتظام کیا جائے۔