مسائل امت… بحرانوں کا حل

120

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو عالم اسلام کی صورت میں آزاد ملک، قدرتی وسائل، انسانی صلاحیتوں، بہترین جغرافیائی محل وقوع اور ایمان جیسی بیش بہا قوت عطا کی ہے لیکن آج ان صلاحیتوں کو بہتر تدبیر سے عالمی قوت بننے کے بجائے عرب و عجم، فرقہ واریت، فروعی اختلافات، چھوٹے چھوٹے علاقائی تنازعات کی وجہ سے عالمی استعماری اسلام دشمن قوتوں نے متحد ہو کر سازشوں اور حکمت عملی سے پوری امت کا شیرازہ منتشر کر دیا ہے۔ امت اسلام دشمن قوتوں کے مقابلہ میں توحید، رسول اللہ ؐ کی محبت اور قرآن کے آفاقی نسخہ کیمیا کی بنیاد پر سیسہ پلائی دیوار بننے کے بجائے ریت کی دیوار بنتی جارہی ہے۔ اسلام مخالف قوتیں جہاں بھی اور جیسا بھی، اپنی مرضی سے فساد اور بحران مسلط کررہی ہیں۔
پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تنازع کشمیر، مڈل ایسٹ کے دل میں مسئلہ فلسطین پیدا کرنا طویل المعیاد عالمی سازش تھی۔ عالم اسلام کی قیادت نے متحد ہو کر جب ان دونوں مسائل کے حل کو ترجیح نہ بنایا تو رفتہ رفتہ پاکستان، ایران، عراق، شام، یمن، سعودی عرب، سوڈان، انڈونیشیا، افغانستان، قطر، ترکی کے لیے الگ الگ تنازعات ڈیزائن ہوئے اور آج پورا عالم اسلام کسمپرسی کی حالت میں ہے۔ یہ سب کے لیے تباہ کن صورت حال ہے، اس سے نجات پانا، بحرانوں کو ختم کرنا پوری مسلم امت کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ گزشتہ دنوں سے حج کے ایام میں اسلامی ممالک، امریکا اور یورپی ممالک سے آئے حجاج کرام کے ساتھ حرم پاک، بلڈنگز، ہوٹل لابیز میں ملاقاتوں، اجتماعی نشستوں میں تبادلہ خیال کا موقع ملا ہے، سب ہی کے خیالات بہت ہی پاکیزہ، اتحاد امت کے جذبات سے لبریز لیکن سب ہی اسلام کی قیادت سے نالاں اور شاکی ہیں۔ یہ عمومی اتفاق ہے کہ اہل ایمان کا باہمی اعتماد اور اتحاد ہی مسائل کا حل ہے، وگرنہ عالم اسلام کا انتشار خوفناک شکل اختیار کرتا جائے گا۔ مغربی تھنک ٹینک بہت دور تک حکمت عملی بنائے ہوئے ہیں۔ عالم اسلام اس وقت جن بحرانوں سے دوچار ہے، پوری امت حل کی متلاشی ہے۔ کس کس محاذ پر مسائل در پیش ہیں، حل کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟
فلسطین کے مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے، سر زمین اقصیٰ سے دستبرداری کے لیے بدترین سودے بازی امریکی صہیونی منصوبے ہیں جن پر زبردستی عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے۔ امریکا نے تل ابیب سے بیت المقدس سفارت خانہ منتقل کر کے اور جولان کو اسرائیلی علاقہ تسلیم کر لینے کے بعد اب مسلمانوں سے قبلہ اول پر قبضہ تسلیم کروانے کا عمل تیز کردیا ہے۔ اسلامی ممالک ہی میں کانفرنسیں منعقد کر کے پچاس ارب ڈالر سے پانچ سو ارب ڈالر کی ابتدائی اور حتمی سرمایہ کاری کا لالچ دیتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل سے دوستی کرنے کا تیز ترین ایجنڈا تھمایا جارہا ہے۔ فلسطینی تو پورے ایمانی جذبہ سے اس سودے بازی اور شیطانی حکمت کاری کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک اور پورا عالم اسلام کامل یکسوئی سے فلسطینی عوام کا ساتھ دیں اور دوٹوک اعلان کردیں کہ رسول اللہؐ کا قبلہ اول برائے فروخت نہیں اور امت مسلمہ سرزمین اقصیٰ پر کسی طرح کی سودے بازی قبول نہیں کرے گی۔
جموں و کشمیر عالم اسلام کا اہم ترین فلیش پوائنٹ ہے۔ افغانستان میں امریکا اور ناٹو فورسز ناکام ہیں۔ امریکی ظلم، جبر کے زوال کے بعد یہ قوی امکا ن ہے کہ اس کے نتیجے میں کشمیر اور فلسطین کے مسئلہ کا حل نکلے گا لیکن ہندوستان کے جموں و کشمیر کے انسانوں پر ظلم و جبر، تشدد، انسانی حقوق کی پامالی پر عالمی اداروں اور عالمی قوتوں نے جانبداری، بے حسی، مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کا نتیجہ مثبت کے بجائے منفی نکلا کہ نریندر مودی نے بھارتی آئین میں جموں و کشمیر کے تنازع کی دفعات کو حذف کر کے سر زمین کشمیر کو ہڑپ کرنے کی بھونڈی کوشش کی ہے۔ عالم اسلام بھارت میں کروڑوں مسلمانوں کے نام پر جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے تنازع اور مسئلہ کو نظر انداز نہ کریں۔ مسئلہ کشمیر کے حل سے بھارت میں مسلم اقلیت کو تحفظ ملے گا۔ پاکستان کی ذمے داری ہے کہ اس مرحلہ پر قومی کشمیر پالیسی بنائے، تیز ومؤثر سفارت کاری کرے، اسلامی ممالک کو ترجیحاً قائل کیا جائے۔ جنوبی ایشیا ہی نہیں ارد گرد کا پورا خطہ مسئلہ کشمیر کے حل سے پرامن اور مستحکم ہوگا۔
افغانستان میں برطانیہ اور روس کے بعد تیسری سپر طاقت امریکا بھی ناکام ہے۔ افغان عوام نے بے مثال دلیری، جرأت اور بہادری سے اپنی آزادی اور ایمان کی حفاظت کی ہے۔ افغان مسئلہ حل کے فیصلہ کن مرحلہ پر ہے۔ اسرائیل اور بھارت اپنے مفادات کے لیے امریکا کو بلیک میل کر رہے ہیں۔ امریکا اور طالبان مذاکرات کا نتیجہ آئے گا لیکن افغانستان کے تمام دھڑوں میں باہمی اعتماد پیدا کرنے کے لیے او آئی سی کردار ادا کرے۔ افغانستان کے مسائل کا کامیاب حل امت کے مسائل کے حل کا پیش خیمہ ہوگا۔ سینٹرل ایشیا، سائوتھ ایشیا، مڈل ایسٹ کے تمام ممالک اس سے فائدہ مند ہوں گے۔ حقیقی ضرورت یہی ہے کہ وسیع وژن اور امت کے مفاد میں عالم اسلام کی قیادت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہو یہی راستہ دیگر علاقائی مسائل کا حل نکالے گا۔
شام کی صورتحال طویل مدت سے تباہ کن ہے۔ پورا ملک کھنڈر بن گیا ہے۔ جنگ اور فساد ہر موڑ پر نئی شدت پیدا کر رہا ہے۔ شام میں مستقل فساد تو امریکا و اسرائیل اور روس کے مفاد میں ہے۔ شام میں جاری شدت اور جنگ ترکی، ایران، عراق، کردستان، لبنان کو لپیٹ میں لیے ہوئے ہے اس کا تمام تر فائدہ اسرائیل کی ناجائز ریاست کو ہورہا ہے۔ امریکا صدی کی ڈیل ؍ صدی کی بدترین سودے بازی مسلط کر رہا ہے۔ شام، ترکی، عراق، ایران کی قیادت اس قضیہ کا حل نکال سکتی ہے کسی اور کی ثالثی کا کردار اور تباہی لائے گا۔ ترکی اور ایران اس پوزیشن میں آسکتے ہیں کہ تمام فریقوں کو امن و استحکام کی طرف ڈالیں یہی اس کا پائیدار حل ہوگا۔
ایران میں امام آیت اللہ خمینی کی قیادت میں بے مثال عوامی جدوجہد کے بعد انقلاب نے خطہ پر دور رس اثرات پیدا کیے، امریکا شاہ ایران کا سرپرست تھا لیکن ناکام ہوا اس کامیابی سے عالم اسلام کو ہی فائدہ ہونا چاہیے تھا لیکن شیعہ سنی تکفیریت کا ایسا عذاب مسلط کر دیا کہ اس آگ میں ایران، عراق اور سعودی عرب کی دولت ایندھن بن گئی اور عالم اسلام بے شمار مشکلات سے دوچار ہوگیا۔ اہل سنت اور اہل تشیع ایک حقیقت ہیں، درد مشترک، قدر مشترک اور قرآن و سنت کی روشنی میں مشترکات کی بنیاد بنا سکتی ہے۔ امریکی، مغربی، استعماری مفادات عالم اسلام اور امت کے حق میں نہیں۔ اس سنگین صورتحال کا حل بھی ان ممالک کو خود نکالنا ہوگا اس لیے کہ اس تنازع کی آگ میں ایک سے زیادہ ان ممالک کے عوام ہی جھلس رہے ہیں۔ امریکا ایران پر پابندیاں بڑھا رہا ہے اور خلیج میں طویل مدت کے نئے فساد کی بنیاد رکھ دی ہے یہ امر بذات خود فوری مثبت اقدامات کا متقاضی ہے۔
یمن گزشتہ 8 سال سے جنگ کی لپیٹ میں ہے جس سے بدترین دہشت گردی، سنگین انسانی المیوں میں روز بروز اضافہ ہے۔ یمن میں تباہ کن جنگ خانہ جنگی اور بھڑکتی آگ اور اس ہولناک جنگ کے شعلوں کا دائرہ سرزمین حرمین کو بھی نشانہ بنائے ہوئے ہیں، صرف سعودی عرب ہی نہیں پڑوسی ممالک بھی متاثر ہیں۔ یہ باعث تشویش ہے۔ گزشتہ عرصہ میں جنگجو حوثی قبائل اور باغیوں نے حرمین کی جانب ڈرون حملے کیے اور سعودی آئل اینڈ گیس فیلڈز کو بھی ٹارگٹ کیا ہے۔ یہ خونریزی کئی ممالک کو لپیٹ میں لے رہی ہے۔ عالم اسلام کے ممالک پر مسلط کردہ جنگ کا فائدہ امریکا، یورپ اور اسلحہ کے عالمی سوداگر اور اسمگلر اٹھا رہے ہیں اس صورتحال میں مالدار اسلامی ممالک کو بلیک میل کرتے ہوئے مزید دولت لوٹنے کا دھندا ہے۔ مشرقی وسطیٰ کی اس صورتحال کا براہ راست فائدہ ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کو ہی ہورہا ہے۔
خصوصی طور پر موجوہ حالات میں امت کو چند اہم ترین بڑے مسائل کا سامنا ہے لیکن ماضی قریب میں عراق، ایران، عراق کویت تنازعات بھی تاریخ کے سازشی ضمحات کا باعث ہیں۔ سوڈان میں مسلسل سازشوں اور مداخلتوں کے ذریعے نیا ملک جنوبی سوڈان بنا دیا گیا۔ پاکستان بھی ان سازشوں کا شکار ہوا اور مشرقی پاکستان بنگلا دیش بنادیا گیا۔ انڈونیشیا میں مشرقی تیمور کو آزادی دلانے کا قصہ دور کی بات نہیں۔
بوسنیا، کوسووو اور مقدونیا میں انسان کشی زیادہ پرانا قصہ نہیں۔ ہر طرف خون مسلم ہی ارزاں ہوا۔ درحقیقت امت پر سازشی، مفاد پرست اور اغیار کے ذہنی غلام، مالی اعتبار سے کرپٹ گروہ مسلط ہیں جن کی ساری تگ و دو اپنے مفادات کے تحفظ اور کسی بھی چور دروازہ سے اقتدار کا حصول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امت کو بنیادی نظریہ قرآن و سنت کے ذریعے جوڑنے کے بجائے اندرونی نااہلیوں سے کمزور کیا گیا جس پر اسلام دشمن قوتیں چڑھ دوڑی ہیں۔ بھوکوں کی طرح اس دسترخوان پر حملہ آور ہیں۔ اندرونی حالات کو دیکھیں تو اور زیادہ بھیانک تصاویر ابھرتی ہیں۔
بنگلا دیش میں بھارتی مداخلت جاری ہے۔ بنگلا دیشی کٹھ پتلی حکومت خود اپنے عوام، جمہوریت اور پارلیمانی نظام کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے۔ اسلامی و اسلامی حقوق کی شرمناک حد تک پامالی کی جارہی ہے۔ مصر میں فوجی قوت مصریوں کے لیے تازہ فرعون بنی ہوئی ہے۔ 67 سال سے الاخوان المسلمون پر بدترین مظالم ہیں۔ منتخب جمہوری حکومت کو تہ تیغ کردیا۔ منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو چھ سال قید تنہائی میں رکھا گیا۔ علاج کی سہولت نہ دی گئی۔ عدالتی کاروائی میں عدالتی پنجرے میں ہی وہ شہادت کا رتبہ پاگئے لیکن جمہوریت و انسانی حقوق کے علمبردار خاموش ہیں۔ مصری جیلوں میں تین ہزار بے گناہ پھانسی کی کوٹھڑیوں میں ہیں ساٹھ ہزار سے زائد بے گناہ شہری اخوانی کارکنان قید و بند ہیں۔ روہنگیا اراکان مسلمان برما (میانمر) پر عرصہ حیات تنگ کیے جانے پر ہجرت، پناہ گزینی پر مجبور ہیں۔ بنگلا دیش ان مہاجرین سے بھی غیر انسانی سلوک کر رہا ہے۔ بھارت میں مسلم اقلیت ہندوستان کے متعصب ہندوئوںو برہمنوں کے ظلم کا شکار ہے۔ شام، یمن کے مہاجرین کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ عالمی سازشی قوتوں کا ہدف ہے کہ سوڈان، الجزائر، لیبیا اور تیونس سمیت کئی اسلامی ممالک میں شام اور یمن جیسی صورتحال پیدا ہو جائے۔ اس تباہی اور بربادی سے کوئی اور نہیں خود امت کو متحد ہو کر ہی نجات پانا ہے وگرنہ یہ دلدل گہری ہوتی جائے گی اور بار ی باری سب غرق ہو ں گے۔
خلیج میں امریکا نئے الزامات، نئے انداز اور سازشی تانوں بانوں سے طویل المعیاد تباہی کے جال پھینک چکا ہے۔ خلیج میں تیل کی تنصیبات اور تیل لے جانے والے ٹینکرز پر دہشت گر د حملے وسیع تر ناپاک جنگ کے منصوبوں ہی کا اشارہ ہیں۔
آ ج عالم اسلام کا ہر فرد متلاشی ہے کہ امت کو جسد واحد بنایا جائے۔ متحد ہو جائیں اور تفرقوں سے بچایا جائے۔ یہودو ہنود ان کا سرپرست امریکا و یورپ مسلمانوں کے کبھی دوست اور خیر خواہ نہیں ہوسکتے، اس لیے امت کی قیادت غفلت چھوڑے اور خیر کی طر ف لوٹ آئے۔ عالم اسلام، اہل ایمان کے پاس اللہ کی دی سب نعمتیں ہیں، ناشکری، بے قدری کی وجہ سے اللہ کی پکڑ میں ہیں۔ اسلام دشمن قوتوں کا دست نگر بننا، ان کی چوکھٹ پر سجدہ ریزی، عزت، وقار کا راستہ نہیں، اصل مرکز قرآن و سنت سے جڑ جانے ہی میں امت کو عظمت رفتہ مل سکتی ہے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ تمام اسلامی ممالک کی قیادت ہوش میں آئے۔ دستک دیتی تباہی کی آواز کو سنیں، او آئی سی کو فعال، متحرک اور بامقصد بنایا جائے، مردہ اور غیر موثر تنظیم جگ ہنسائی کا موجب بنی ہوئی ہے ان مقاصد کے لیے عالم اسلام کے اہم ممالک سعودی عرب، پاکستان، ترکی، ایران، عرب امارات، انڈونیشیا، ملائیشیا، مصر کی قیادت حوصلہ کرے، آگے بڑھے اور مظلوم امت کی آہوں، سسکیوں، بہتے خون اور ناسور بنتے زخموں کا درد محسوس کرے وگرنہ داستان بہت ہی عبرتناک ہوگی۔ مایوسی کفر ہے۔ اللہ پر توکل اور کامل یقین ہی مسلمان کا مضبوط سہارا ہے۔ یقین ہے کہ بے گناہ،معصوم، مظلوم مسلمانوں کا خون ضرور رنگ لائے گا۔ عالم اسلام کی قیادت کو بیدار ہونا ہی ہوگا۔