کراچی میں صفائی کامعاملہ اختیار ات کا نہیں نیت کا ہے،مرتضیٰ وہاب

64
کراچی: ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب سندھ اسمبلی بلڈنگ کے باہر میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں
کراچی: ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب سندھ اسمبلی بلڈنگ کے باہر میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ترجمان سندھ حکومت اور وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر قانون ماحولیات بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ مئیر کراچی وسیم اختر نے شروع دن سے اختیارات کا رونا لگایا ہوا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ اسمبلی بلڈنگ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں صفائی نہ ہونے کا معاملہ اختیارات کا نہیں نیت کا ہے، ایم کیو ایم کی قیادت کوڈر ہے کہ کراچی کے مسائل حل ہو گئے تو ان کی سیاست ختم ہو جائیگی،سندھ حکومت نے انہیں پچھلے 3برسوں میں 41 ارب روپے فراہم کیے جبکہ نالوں کی صفائی کے لیے 55 کروڑ روپے دیے ،پھر بھی نالوں کی صفائی کے لیے تیاری نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مصطفی کمال نے چیلنج کو قبول کیا مگر وسیم اختر نے راہ فرار اختیار کی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پیسوں کے حساب میں وہ بچ نہیں سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ مئیرکراچی نے حیرت انگیز نوٹیفیکیشن جاری کیا مگر ہم کراچی کے وسیع تر مفاد میں خاموش رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کی یوٹرن پالیسی پر اب ان کے اتحادی’’ نفیس‘‘ لوگ بھی عمل پیرا ہیں۔علاوہ ازیںصوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت اور کوآپریٹو محکمہ جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا ہے کہ حکومت صنعتکاروں کو صوبے میں صنعتوں کے قیام کے لیے مراعات فراہم کرے گی۔ یہ بات انہوں نے اسمال انڈسٹریز کارپوریشن کے دفتر میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ایم ڈی ایس ایس آئی سی ڈاکٹر ثروت فہیم ، چیف انجینئر محمد عاطف غیاث ، ڈائریکٹر ایڈمن ڈاکٹر راشدہ حفیظ اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر ثروت فہیم نے بتایا کہ سندھ میں 22 صنعتی اسٹیٹ ہیں ، جن میں تقریبا ً3 ہزار 5 سو پلاٹ ہیں ،ان میں سے 412 پلاٹ ابھی الاٹ کیے جانے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبے میں نئی انڈسٹریز خاص طور پر زراعت ، سنگ مرمر ، پلاسٹک پائپ تیار کرنے والے صنعتی یونٹوں کو قائم کریں۔ انہوں نے ایسے صنعتی پلاٹوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کی ہدایت کی ، جنہیں ابھی تک استعمال نہیں کیا گیا ہے اور ایک خاص مدت سے خالی پڑے ہیں۔